بھارت میں پھر مظاہرے، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی (بھارتی میڈیا، دی اسکروول) بھارت کے مختلف شہروں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرے کیے گئے، نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جنتر منتر پر احتجاج میں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا، پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

رپورٹس کے مطابق طلبہ رہنما نیہا بورا، یوگیندر یادو، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ، لیننسٹ) کے رہنما دیپانکر بھٹاچاریہ اور سماجی کارکن انجلی بھاردواج بھی حراست میں لیے جانے والوں میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کا تعلق بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر اٹھنے والے اعتراضات سے ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے بعد یہ معاملہ مزید نمایاں ہوا، جس میں الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی جانب سے انتخابی فہرستوں اور مرکزی نظام کے ذریعے ووٹرز کے اعداد و شمار سے متعلق بعض امور پر اختلافات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اسی معاملے پر کانگریس اور دیگر سیاسی و سماجی گروہوں کی جانب سے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور استعفے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی گیانیش کمار کو 48 گھنٹے میں استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی تھی۔ پارٹی کے مطابق مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں مزید احتجاج کیے جائیں گے۔