بھارت میں گائے کا گوبر و پیشاب انسانی خوراک کا حصہ نہیں: عالمی ذرائع

نئی دہلی(نمائندہ خصوصی)خلاصہ: سوشل میڈیا پر وائرل دعوے غلط قرار، گائے کا گوبر اور پیشاب انسانی خوراک میں شامل کرنے کی منظوری کا کوئی سرکاری ثبوت موجود نہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ زیر گردش رہا کہ بھارتی حکومت نے گائے کے گوبر اور پیشاب کو انسانی خوراک میں شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے تحت یہ اجزاء بقول دعویدار، روٹی، بسکٹ اور دیگر تیار شدہ اشیائے خورونوش میں بغیر لیبل کے شامل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی اور بھارتی ذرائع ابلاغ و تحقیقی اداروں نے اس دعوے کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

گوگل کے AI پلیٹ فارم “Gemini” کے مطابق، اس بارے میں کوئی سرکاری منظوری، بیان یا حکم نامہ موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حکومتِ ہند نے گائے کے گوبر یا پیشاب کو انسانی خوراک کیلئےموزوں قرار دیا ہو۔ نہ ہی Indian Food and Wellness Authority (IFWA)، Bureau of Bovine Harmony and Culinary Integration (BBHCI)، یا وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اس قسم کا کوئی اعلان سامنے آیا ہے۔

بھارتی وزارتِ صحت، FSSAI، اور دیگر اداروں نے واضح کیا ہے کہ گائے کے پیشاب یا گوبر کو انسانی خوراک میں شامل کرنے کیلئے کوئی سرکاری لائسنس یا منظوری جاری نہیں کی گئی۔ Indian Council of Agricultural Research کے ذیلی ادارے IVRI کی تحقیق کے مطابق گائے کے پیشاب میں انسانی صحت کیلئےخطرناک بیکٹیریا پائے گئے ہیں۔

البتہ، بعض آیورویدک اور زرعی تحقیقات میں “پانچگاؤیہ” (Panchgavya) — جس میں گوبر، پیشاب، دودھ، دہی اور گھی شامل ہوتے ہیں — کے مختلف روایتی استعمالات پر مطالعے ضرور جاری ہیں، تاہم یہ تحقیق خوراک نہیں بلکہ دیگر سائنسی یا مذہبی مقاصد کیلئےہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے، سائنسی رپورٹس اور حکومتی وضاحتوں کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ گائے کے گوبر اور پیشاب کو خوراک میں شامل کرنے اور ان اشیاء کو بغیر لیبل کے فروخت کرنے کا دعویٰ غلط ہے۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور مستند ذرائع سے تصدیق کے بغیر ایسی خبروں کو نہ پھیلائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں