بھارت نے ستلج میں پھر پانی چھوڑ دیا، ملتان کو بچانے کی کوششیں

لاہور/ملتان/سکھر (نمائندگان) — بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں دوبارہ پانی چھوڑنے کے بعد دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ پنجاب اور سندھ میں نشیبی علاقے متاثر ہورہے ہیں۔ متعلقہ اداروں نے ہائی فلڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔

بھارتی ہائی کمشنر نے صبح 8 بجے وزارتِ آبی وسائل کو فلڈ الرٹ بھجوایا جس کے مطابق ستلج کے ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ وزارت نے تمام اداروں کو ہنگامی اقدامات کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

ادھر پنجاب میں دریائے چناب کا دوسرا سیلابی ریلا ملتان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شہر کو بچانے کے لیے شیر شاہ بند کو توڑنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے جبکہ اکبر بند اور گرے والا بند کی بھی سخت نگرانی جاری ہے۔ خانیوال کی تحصیل کبیروالا میں دریائے راوی اور چناب کے سنگم پر اونچے درجے کے سیلاب سے ہزاروں بوریاں گندم پانی میں بہہ گئیں۔

سیلابی صورتحال کے باعث ملتان کے اطراف کئی بستیاں 5 سے 10 فٹ پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ فیصل آباد میں بارشوں نے 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، غلام محمد آباد میں 184 ملی میٹر، علامہ اقبال کالونی میں 175 ملی میٹر اور گلستان کالونی میں 170 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ لاہور میں بھی موسلا دھار بارش کے بعد نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، واسا کے مطابق سب سے زیادہ 113 ملی میٹر بارش پانی والا تالاب کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی۔

دریائے سندھ میں بھی بڑے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 43 ہزار 494 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 34 ہزار 294 کیوسک ہے۔ پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث کشمور اور کوٹ مٹھن کے کچے کے علاقے خطرے کی زد میں ہیں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق سیلاب سے صوبے کے 200 دیہات اور 2 لاکھ 24 ہزار افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ نہروں کے پشتے کمزور ہونے لگے ہیں اور پنوعاقل کے قریب کورائی واہ اور مہیسرو واہ میں شگاف پڑنے سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گڈو بیراج کا دورہ کیا جہاں انہیں پانی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی پنجاب کے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد گڈو بیراج پہنچیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں