نئی دہلی (نمائندہ خصوصی) معروف بھارتی شاعر، نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر نے افغان طالبان کے وفد کو بھارت میں سرکاری پروٹوکول دیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ” سر شرم سے جھک گیا ہے”۔
جاوید اختر نے سوشل میڈیا پر اپنی سلسلہ وار پوسٹس میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ دورۂ بھارت پر بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ “جب میں نے دیکھا کہ دنیا کے بدترین گروہ طالبان کے نمائندے کا سرکاری استقبال کیا جا رہا ہے، تو شرم سے سر جھک گیا۔”
انہوں نے بھارتی حکومت کے دوہرے معیار پر سوال اٹھایا کہ ایک طرف انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، اور دوسری جانب لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے والے گروہ کو عزت و پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔
جاوید اختر نے مزید کہا کہ “دارالعلوم دیوبند کو بھی شرم آنی چاہیے کہ انہوں نے ایسے لوگوں کا استقبال کیا جنہوں نے خواتین کے بنیادی حقوق سلب کیے۔”
انہوں نے بھارت کی معروف خواتین صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ کاش وہ اس پریس کانفرنس میں شرکت کرتیں تاکہ طالبان سے براہِ راست سوال کر سکتیں۔
جاوید اختر کے ان بیانات پر بھارتی سوشل میڈیا پر بڑی بحث چھڑ گئی، متعدد صارفین نے ان کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے فیصلے کو “نفاق پر مبنی” قرار دیا۔
یاد رہے کہ افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی 9 اکتوبر کو بھارت کے سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچے تھے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ بھارت جلد کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولے گا اور طالبان حکومت سے سفارتی تعلقات کی بحالی پر غور کر رہا ہے۔

