بہت تلخ ہیں ”ای او بی آئی پنشنروں“ کا قصور تو بتا دیں!

لکھنے والوں کے لئے بہت سی مشکلات تو ہیں ہی، ساتھ ساتھ عوامی توقعات کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے،کئی روز سے سینئر شہری توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔گذشتہ روز ہی ای او بی آئی کے ایک پنشنر منہ بسورے تشریف لائے اور بتایا کہ پنشن کے حصول کے لئے بنک کی کسی برانچ سے رجوع کریں اور اے ٹی ایم سے کارڈ پر بقایا جات معلوم کریں تو اب 15روپے کٹ جاتے ہیں، تاہم پنشن میں15فیصد اضافے کے اعلان کی وجہ سے مجبوراً پہلے بیلنس سلپ نکالی تاکہ موجود رقم کے مطابق پیسے نکلوائے جائیں،سلپ نے بتایا کہ گذشتہ ماہ کی طرح اِس ماہ بھی پنشن میں کوئی اضافہ نہیں تھا اور رقم دس ہزار روپے تھی، حالانکہ ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس میں 15فیصد اضافہ کے ساتھ اطلاق یکم مئی2024ءسے کرنے کا فیصلہ ہوا اور اس کا اعلان بھی ہو گیا،لیکن عملدرآمد نہ ہوا اور اِس دوران ایک خبر پڑھ لی گئی کہ چیئرمین بورڈ آف ٹرسٹیز نے یکطرفہ طور پر اس فیصلے میں ترمیم کر دی اور یکم مئی2024ءسے اطلاق منسوخ کر کے اضافہ کی تاریخ یکم مئی2025ءمقرر کر دی اس کے باوجود ماہ مئی کی پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا، نہ معلوم وجوہات کی بناءپر ایسا ہوا اور ای او بی آئی کی طرف سے کوئی وضاحت بھی نہیں کی گئی،اس کے لئے تو اب وزارت خزانہ ہی کو وضاحت دینا ہو گی۔

یہ پنشنر بات کر رہے تھے کہ پنشنرز ویلفیئر سوسائٹی کے ایک بزرگ کا فون آ گیا اور وہ بھی گلہ کرنے لگے ان کا کہنا تھا ہماری تنخواہوں سے حاصل کئے گئے پیسے بھی ہمیں نہیں دیئے جاتے، حکومت کے ذمہ خود اس رفاعی ادارے کے نہ صرف واجبات ہیں بلکہ ماضی میں ای او بی آئی فنڈ سے لئے گئے ادھار کی واپسی بھی نہیں ہوئی،مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے اس انسٹیٹیوٹ کی رقوم سے چیئرمین، ڈائریکٹرز، منیجرز اور ٹیکنیکل ڈائریکٹر حضرات کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے بھرتی کارکنوں کی بھاری تعداد پرورش پا رہی ہے۔ محترم کا سوال تھا کہ انہوں نے ایک سے زیادہ بار یہ اپیل کی کہ ای او بی آئی کے اعلیٰ سے ادنیٰ ملازمین کی تفصیل اور ان کے مشاہدے اور مراعات شائع کی جائیں تاکہ ملک کے عوام و خواص کو یہ علم ہو سکے کہ یہ ادارہ کیا ہے، اس کی آمدن کتنی اور لوٹ مار کیسے ہو رہی ہے،انہوں نے جلے بھنے انداز میں کہا اس ادارے کا بھی اشرافیہ کی جونکیں ہی خون چوس رہی ہیں،ان کا دُکھ یہ بھی تھا کہ عدالت عظمےٰ میں معاملہ کی سماعت نہیں ہو رہی، حالانکہ عدلیہ کو تو پہلی فرصت میں یہ معاملہ زیر سماعت لا کر تفصیلی رپورٹیں منگوا کر تفصیلی فیصلہ کرنا چاہئے۔اُلٹا اس عدالت سے ہی ایک سابق چیئرمین کو ریفرنس سے ضمانت ملی اور وہ ضمانت کرا کے نیب سے جان چھڑا گئے،اب نیب کی طرف سے بھی اس معاملہ کی پیروی نہیں کی جا رہی کہ سیاست کا دخل ہے۔

میں ان بزرگوں اور سامنے موجودہ پنشنرر کے دُکھ کو اچھی طرح محسوس کر سکتا ہوں کہ خود بھی بوڑھا اور مریض ہوں اس لئے معلوم ہے کہ مہنگائی کس طرح متاثر کرتی ہے حتیٰ کہ جو ادویات ڈاکٹر کی سخت ہدایت کے مطابق میں خود استعمال کرتا ہوں ان کے نرخوں میں ہر ماہ تھوڑا بہت اضافہ ہی ہوتا ہے، کچھ کمی کبھی نہیں ہوتی۔ای او بی آئی پنشنرز حضرات کا برا حال ہے کہ وہ اس پنشن کے حق دار اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹھہرتے ہیں اور ای او بی آئی کے کلرک حضرات کی طرف سے ان کی پنشن کے اجراءمیں روڑے اٹکائے جاتے ہیں،حالانکہ قانون کے مطابق کارڈ بنانے کی شرط موجود ہے تاکہ جونہی وہ ریٹائر ہوں ان کو پنشن کا اجراءہو جائے،ایسا کبھی نہیں ہوتا اور بوڑھوں کو چکر پہ چکر لگانا پڑتے ہیں۔

حکومت موجودہ ہو یا سابقہ ہر حکومت کے محکمانہ خزانہ کو عوام کی سہولت والی ہر ریلیف سے تکلیف ہوتی ہے اور لگتا ہے کہ ای او بی آئی پنشنرز حضرات سے کچھ زیادہ ہی محبت ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ محترم اسحق ڈار دو بار وزیر خزانہ بھی رہے وہ اپنے اس دور میں ای او بی آئی کے بارے سوال بھی نہیں سنتے تھے۔ میں نے باقاعدہ ثبوت کے ساتھ اور نوٹیفکیشنز کے حوالے سے بتایا کہ2014ءمیں فیصلہ ہو گیا تھا کہ ای او بی آئی کی پنشن حکومت کی طرف سے مزدور کی مقررہ کم از کم اجرت کے برابر ہو گی۔اس سلسلے میں حاضر سروس ملازمین، آجر حضرات اور حکومت کے حصے بھی مقرر کر کے تفصیل جاری کر دی گئی تھی، مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا،وجہ وزارت خزانہ والوں ہی کے علم میں ہو گی، اس وقت مزدور کی اجرت37 ہزار روپے ماہانہ مقرر ہے، اگر اس کے مطابق پنشن ہو جائے تو بوڑھوں کی ادویات ہی کو سہارا نہیں ملے گا بلکہ وہ اپنے پوتے، پوتیوں کے لاڈ بھی دیکھ سکیں گے اور اکثر بوڑھے بیٹی برابر بددماغ بہوﺅں کے طعنے سے بھی بچ پائیں گے، لیکن کون سنے، کسے فرصت ہے اگر ان محنت کشوں کی جوانی والی محنت کے بدلے سیاستدانوں کے نامزد پیاروں کو لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں تو وہ ان بوڑھوں کو ان کا حق کیوں دیں کہ اس ملک میں یہ مرض لاعلاج ہو چکا کہ حق دار کو حق دیا جائے۔

میرا جو ذاتی اندازہ ہے وہ میں اپنے ای او بی آئی پنشنرز بھائیوں جو حقیقتاً سنیئر سٹیزن ہیں، سے شیئر کرتا ہوں میرا خیال ہے کہ بورڈ آف ٹرسٹیز کو وزارت خزانہ نے روکا ہو گا کہ حکمران اشرافیہ عوام کو ریلیف دینے کے نام پر ان پر بھی احسان چڑھانا چاہتی ہو گی کہ دیکھا آئی ایم ایف کے دباﺅ کے باوجود ہم نے ای او بی آئی والے بوڑھوں کو ریلیف دیا اور یہ مزید ظلم کیا جائے گا کہ بجٹ تقریر میں اعلان کے باعث یہ15فیصد اضافہ جو صرف ڈیڑھ ہزار روپے ماہانہ بنتا ہے بجٹ کے نفاذ،یعنی یکم جولائی سے نافذ ہو گا اور اگست میں ملے گا۔

آج کل بجٹ ہی کا شور ہے اور حکمرانوں کی طرف سے بار بار تنخواہ دار طبقے کا ذکر کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہے،لیکن ان کے ساتھ سلوک کی جو اطلاعات ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریلیف کے نام پر ان کی آمدنی کم ہو جائے گی کہ یہاں تو فائیلر اور نان فائیلر کا چکر چلا کر ان غریبوں سے بھی ٹیکس وصولی کا پروگرام ہے جو اپنی جمع پونجی کسی بچت والے ادارے میں اس لئے رکھوا دیتے ہیں کہ ان کو ماہانہ کچھ رقم خرچ کے لئے مل جائے گی۔اسی طرح جو تنخواہ دار اداروں کی طرف سے بنکوں میں ملازمین/ ورکرز/ اکاﺅنٹ رکھنے پر مجبور ہیں، وہ بھی کوئی رقم نکلوائیں گے تو ان کا یہ جرم ہو گا جس کا جرمانہ وزارت خزانہ کو ادا کرنا ہو گا۔

بات طویل ہو گئی کہ دُکھ زیادہ ہیں،میں تو یہ عرض کروں گا کہ وزرا،اراکین اسمبلی اور خصوصی مددگاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں بے حد اضافہ کیا جا چکا۔فوج ظفر موج بھرتی کر لی گئی، نئے نئے ادارے بنائے جا رہے ہیں اور پہلے ملازمین فارغ کئے جا رہے ہیں۔ میری گذارش یہ ہے کہ معاشی حالات کے لئے سخت فیصلے کر کے عوام کی زندگی ضرور اجیرن کریں،لیکن خود بھی تو کچھ قربانی دیں،سب سے پہلے صدر، وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ (ن) اعلان کریں اور پھر ملک کی تمام اشرافیہ بھی اپنا حصہ دے۔

اپنا تبصرہ لکھیں