بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا اعلان

برسلز(الجزیرہ/رائٹرز )بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ میکسم پریوٹ نے اعلان کیا ہے کہ بیلجیئم رواں ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا اور اسرائیل پر 12 سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

پابندیوں میں مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی شامل۔اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری خریداری معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام غزہ میں جاری نسل کشی کے پس منظر میں اٹھایا جا رہا ہے۔فلسطین کی باضابطہ تسلیم اسی وقت ہوگا جب تمام قیدی رہا ہوں اور حماس کا حکومت میں کوئی کردار باقی نہ رہے۔

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بیلجیئم کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور دیگر ممالک سے بھی ایسے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔اسرائیلی اپوزیشن رہنما آویگدور لیبرمین نے کہا کہ یہ فیصلہ نیتن یاہو کی سیاسی ناکامی کا نتیجہ ہے۔

بیلجیئم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ فلسطین کی تسلیم سخت شرائط سے مشروط ہوگی۔فرانس کے صدر میکرون پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فرانس جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فلسطین کو تسلیم کرے گا۔آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ بھی کچھ شرائط کے ساتھ اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 22 ستمبر کو فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں شیڈول ہے۔ اپریل 2025 تک تقریباً 147 ممالک فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں