اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہمارے ملک کے انتظامی معاملات،دفتری حالات اور افسروں کے رویہ میں بہت زیادہ تنزلی آ چکی ہے، اس میں بہتری کی تجاویز دی جائیں یا افسروں کے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی بارے بات کی جائے تو عوام نہ صرف ناراض ہو جاتے ہیں بلکہ ہم جیسے لکھاریوں کو بیورو کریسی، اسٹیبلشمنٹ اور پتہ نہیں کس کس کا کا ایجنٹ ہونے کے طعنے سننا پڑتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو اس سسٹم اور اسے چلانے والوں سے انصاف مل رہا ہے نہ ان کے مسائل حل ہو رہے ہیں،دور رس نتائج کی حامل پالیسیوں اور کاموں کی بجائے وقتی اور ٹک ٹاکر ٹائپ کام ہو رہے ہیں، مگر ہم بار بار حکومتی رٹ، گڈ گورننس اور افسروں کی عزتِ نفس پر روشنی ڈالتے رہتے ہیں،کیونکہ ہمارے انتظامی سسٹم کا دارومدار انہی نکات پر قائم ہے۔ گڈ گورننس ہر سیاسی پارٹی، حکومت اور ہر خاص و عام کا خواب،بلکہ تمنا ہوتی ہے، کیونکہ اسی سے ایک اچھی پُرسکون اور اطمینان بخش زندگی کے سوتے پھوٹتے ہیں، اسی سے ترقی،کامیابی و کامرانی کے د ر وا ہوتے ہیں، اسی سے انسانیت آسودگی پاتی ہے اور یہی وہ منزل ہے، جس کی بنیاد پر کھڑے ہو کر انسان ستاروں اور سیاروں کی تسخیر کے خواب دیکھتا ہے۔ گڈ گورننس کے لحاظ سے ہم اقوام عالم میں کہاں کھڑے ہیں اس کا اندازہ اقوام متحدہ کی طرف سے طے کردہ گڈ گورننس کے اصولوں پر ایک نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے،آج گڈ گورننس کے تمام اصول گنوانا مقصود نہیں،بلکہ ان میں سے دو پر قارئین کی توجہ مبذول کرانا ہے، پہلا یہ کہ اداروں کو ایسے نتائج پیدا کرنے کے قابل ہونا چاہئے جو ان کی کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کریں،دوسرا احتساب جو حکومت کے عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ذرا غور سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ دو اصول باہم منسلک ہیں، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ادارے اسی وقت کمیونٹی کی ضروریات کے مطابق نتائج دے سکتے ہیں جب انہیں کام کرنے کی آزادی ہو، دوسرے لفظوں میں یہ نتیجہ اُخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت اور حکمران اپنا احتساب کرنے کے بجائے اداروں اور ان کے سربراہان کو اپنے اختیارات کا نشانہ بنا کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں تو گڈ گورننس کا قائم ہونا ممکن نہیں اور کون نہیں جانتا ہو گا کہ کسی ملک میں گڈ گورننس نہ ہو تو کیا ہوتا ہے؟ اس کے لئے نہ تو تاریخ میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی اور ملک کے داخلی معاملات کا جائزہ لینے کی بس اپنے ملک کے نظام، معاملات اور اس کی گورننس پر ایک نظر ڈال لیجئے سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ آج کے دور کا اگر ہم بیس تیس سال قبل کے زمانے سے موازنہ کریں تو ایک واضح تبدیلی یہ نظر آئے گی کہ تب لوگوں کے کام خود بخود ہو جاتے تھے آج درخواستیں دینے اور سفارشیں ڈلوانے کے باوجود نہیں ہوتے،اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ تب سرکاری اہلکاروں خصوصاً اعلیٰ بیورو کریسی میں عوام کی خدمت کا جذبہ پایا جاتا تھا،اب سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ کیوں ختم ہوا؟ میرے نزدیک اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ حکمران ان پر اپنا حکم چلاتے ہیں، ان سے اپنی باتیں منواتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عوامی خدمت پر توجہ نہیں دے پاتے، دوسرا، انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگلے دورِ حکومت میں انہیں بلا جواز احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اچھی پوسٹنگ نہیں ملے گی۔
احتساب کی ایک مثال فواد حسن فواد اور احد خان چیمہ کے خلاف بنائے گئے ریفرنسز ہیں جن سے وہ بے گناہ تو ثابت ہو گئے، بری بھی ہو گئے لیکن انہیں گرفتاری اور ایک لمبی قید کی اذیت سے گزرنا پڑا، نیب کو ہم نے بیوروکریسی کے سر سے اُتار دیا اور اب کوئی اور سوچے نہ سوچے،مگر احد چیمہ کو تو اس بارے ضرور سوچنا چاہئے،وہ حکومت کے اہم وزیر ہیں، وہ گورننس میں بہتری کیلئے ایسی پالیسی سازی کریں جس سے عوامی خدمت کو فروغ ملے،افسروں کی تعیناتی حکومت چلانے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے معاملے میں حکمرانوں کی جانب سے میرٹ پر عمل نہ کرنے کے طرزِ عمل نے متعدد اداروں ہی کو نہیں بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو بھی تباہ کر ڈالا ہے۔ اس حقیقت سے بڑے سے بڑا سیاستدان اور بڑے سے بڑا پولیٹیکل اینالسٹ بھی انکار نہیں کر سکتا کہ حکومتوں کی گورننس میں ان کی رٹ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے، اب آہستہ آہستہ یہ حقیقت واضح تر ہوتی جا رہی ہے کہ ہماری گورننس اس وقت خراب ہونا شروع ہوئی جب حکمرانوں کی طرف سے افسروں کی بے عزتی کرنے کی رسم شروع ہوئی، انہیں کھڑے کھڑے معطل کر دیا جاتا تو ساتھی بیوروکریٹ اس پر کم ہی بولتے تھے، حالانکہ انہیں آوازِ حق بلند کرنا چاہئے تھی، لیکن وہ ایسا کرتے بھی کیسے کہ جو بولتا تھا،یعنی افسروں کی بے عزتی کرنے پر جو احتجاج کرتا تھا اس کو بھی کھڈے لائن لگا دیا جاتا تھا،ملک کے سیاسی اور حکومتی نظام پر ایک نظر ڈالیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ایک ضلع میں پٹواری سے لیکر تحصیل دار اور ڈی سی تک سب حکومتی رٹ قائم کرتے ہیں اور یہ دراصل انہی کی کارکردگی ہوتی ہے جس کو حکمران اپنی گڈ گورننس بنا کر پیش کرتے ہیں، لیکن جب اعلیٰ و نچلے افسروں اور عملے کی اپنی رٹ قائم نہ رہے، چھوٹے چھوٹے معاملات کو لیکر ان کی قبل از وقت اور بار بار ٹرانسفرز کی جائیں اور غیر قانونی بات نہ ماننے پر غیر معینہ مدت کیلئےکھڈے لائن لگانے کا سلسلہ جاری رہے تو لازمی بات ہے کہ گورننس کا بٹھہ بیٹھ جاتا ہے اورگڈ گورننس کا پرندہ عنقا ہو جاتا ہے۔
اگر رٹ آف گورنمٹ قائم کرنی ہے، اگر گڈ گورننس کو یقینی بنانا ہے تو ہمیں بیورو کریسی کو عزت اور کام کرنے کی آزادی دینا ہو گی، وہ عزت جو پٹواریوں اور صوبائی افسروں کی بھی اتنی ہی ہے جتنی پی اے ایس کے افسروں کی ہے۔ ہمیں انتظامی ضابطوں اور احتسابی عمل کو فوج کی طرح منظم و مرتب بنانا ہو گا،جو غلطی کرے اس کا محکمہ اور ادارہ اس کے خلاف سخت ایکشن لے، اس سے پہلے چیک اینڈ بیلنس بھی متواتر ہونا چاہئے تاکہ پٹواری سے لے کر سیکرٹری تک کوئی اپنے دائرے اور پیرامیٹرز سے باہر نہ نکل سکے،فواد حسن اور احد چیمہ بے گناہ ثابت ہوئے مگر ان کے خلاف اقدامات پر ان کے اکثر ساتھی کیوں سوئے رہے؟ شاید اس لئے کہ بیورو کریسی میں گروپ بن گئے تھے یا دوسرے لفظوں میں بنوا دیئے گئے تھے،کیا آج حالات بدل گئے ہیں،مجھے نہیں لگتا، اب بھی کام اور محنت کی بجائے ذاتی وفاداریاں ہی دیکھی جا رہی ہیں،گروپوں میں رہنے والے اکثر افسر ہی اچھی پوسٹنگ کے حقدار بنتے ہیں، حکومت اور اعلیٰ بیوروکریسی کے پاس کیا جواب ہے کہ ایک محنتی اور اپ رائٹ افسر بابر حیات تارڑ گریڈ 22میں ہوتے ہوئے بھی کئی سال سے او ایس ڈی ہے؟

