لاہور(نمائندہ خصوصی) تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) کے حامیوں اور پنجاب پولیس کے درمیان بدھ کی شب شدید تصادم ہوا جب پارٹی کے رہنما سعد حسین رضوی کی گرفتاری کیلئے پولیس نے لاہور کے سکیم موڑاوریتیم خانہ کے علاقے میں کارروائی کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب TLP نے جمعہ کی نماز کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر ‘اینٹی اسرائیل ریلی’ کی منصوبہ بندی کی تھی۔
پولیس نے پارٹی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاری کیلئےپنجاب بھر میں کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدامات غیر قانونی اجتماعات اور تشدد بھڑکانے کی روک تھام کیلئےکیے گئے۔ بعد ازاں جب پولیس TLP کے ہیڈکوارٹرز کے قریب پہنچی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تو شدید جھڑپیں ہو گئیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کارکنان دھواں بھری گلیوں میں بھاگتے ہوئے پتھروں اور دھات کے ڈنڈوں سے پولیس پر حملے کرتے رہے، جبکہ پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔
TLP کے ترجمان نے حکومت اور “اسٹیبلشمنٹ” پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر کے فلسطینی عوام کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق پولیس کارکنان کے اہل خانہ، خواتین اور حتیٰ کہ بچوں کو بھی ہراساں کر رہی ہے۔ ترجمان نے ان کارروائیوں کو”ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل” قرار دیا اور کہا کہ تحریک اپنے مطالبات کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔
TLP کے مطابق سعد رضوی کی فوری رہائی تک پنجاب حکومت سے مذاکرات نہیں ہونگے۔ سوشل میڈیا پر TLP کے صفحات پر دعویٰ کیا گیا کہ درجنوں کارکن زخمی اور کئی گرفتار ہوئے، جبکہ پولیس کے مطابق کم از کم تین کانسٹیبلز بھی زخمی ہوئے۔
یہ واقعہ TLP اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان سابقہ جھڑپوں کے تسلسل کا حصہ ہے، جن میں 2021 کے احتجاجات اور مذہبی و سفارتی مسائل شامل تھے۔ اس وقت بھی سعد رضوی کو پرتشدد احتجاجات اور قومی شاہراہیں بلاک کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔، پنجاب پولیس نے لاہور میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور TLP کے حامی آن لائن نئے مظاہروں کیلئےسرگرم ہیں۔ صورتحال لاہور میں اب بھی غیر مستحکم ہے۔

