تحریک انصاف کی بنیادی غلطی؟

ضرب المثل کسی زبان اور ثقافت سے متعلق ہو اس میں کوئی سبق ہوتا اور دوررس ماضی بھی پنہاں ہوتے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات کا مشاہدہ کرتے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکمت عملیوں پر غور کرتے ہوئے مجھے پنجابی کی بہت سی ضرب المثل یاد آ رہی ہیں، تاہم آج صرف ایک پر گزارہ کرتے ہیں، بابوں نے کہا ”آپے پھاتڑی اے، تینوں کون چھڑائے“ مطلب یہ کہ جو خود ہی پھنسنا چاہے یا پھنس جائے اسے کوئی اور نہیں چھڑا سکتا، یہی کچھ حال ہمارے ملک کی تحریک انصاف اور اس کے بانی کپتان عمران خان کا ہے، میں نے جب جب غور کیا تو ان کی طرف سے مقتدرہ، حکومت اور حتیٰ کہ خود ایک دوسرے کو الزام دیتے دیکھا ہے اور ان کی طرف سے تدبیر بھی الٹی ہوتی ہے، میں اس ایک بات یا مثال سے شروع کرتا ہوں کہ تحریک انصاف میں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر آئین و قانون جمع ہے اور ان میں بھی بیرسٹر حضرات کی تعداد قریباً پچانوے فیصد ہے اتنے سارے اہل لوگوں کے ہوتے ہوئے یہ حضرات خود اپنی غلطی حکمت عملی سے مار کھا گئے ہیں تو اس میں کس کا قصور، اب یہ حضرات لکیر پیٹ رہے ہیں اور عدالت کو کوس رہے ہیں، برملا جانبداری کا الزام لگا رہے ہیں، حتیٰ کہ ان کی گفتگو توہین عدالت کے زمرے میں بھی آ جاتی ہے۔ پنجاب میں کہتے ہیں کہ ”اپنی منجی تھلے وی ڈانگ پھیر لینی چاہی دی اے“ یہ ضرب المثل بھی ان پر صادق آتی ہے۔

ماہرین آئین و قانون قابل احترام ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی قانون دار اور بیرسٹر ہی تھے لیکن جو ماہر آئین و قانون تحریک انصاف کو چلا رہے ہیں، جی! ہاں چلا رہے ہیں وہ سبھی بیرسٹر ہیں اور عدالتوں میں اپنی جماعت کا دفاع بھی کرتے اور انصاف بھی طلب کرتے ہیں، لیکن اپنے عمل پر غور نہیں کرتے کہ جس عمارت کی بنیاد ہی ٹیڑھی اور غلط رکھی گئی ہو وہ کبھی بھی سیدھی کھڑی نہیں رہ سکتی تو قارئین! ان حضرات سے ابتداء ہی میں بنیاد غلط رکھی گئی اس لئے عمارت سیدھی نہیں ہو سکی۔ ہم مانتے ہیں کہ گزرے انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کے بعض اقدامات نظر ظاہر بلکہ بادی النظر میں مخالفانہ نظر آتے ہیں اور بڑا قدم جس نے تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا وہ انتخابی نشان نہ دیا جانا تھا، تاہم ذرا غورفرمائیں تو الیکشن کمیشن کے اس بڑے اقدام کے باوجود ایک دوسرا بڑا فیصلہ نہ ہو سکا تھا کہ تحریک انصاف کی بطور سیاسی جماعت نہ تو رجسٹریشن منسوخ ہو ئی اور نہ ہی معطل ہوئی تھی، چنانچہ یہ جماعت تمام تر رکاوٹوں اور کارروائیوں کے باوجود آج بھی رجسٹرڈ جماعت ہے لیکن ہمارے بیرسٹر حضرات نے کبھی اس آئینی اور قانونی نقطہء کو درخور اعتنا ہی نہیں جانا اور اسی وجہ سے مخصوص نشستوں تک کی تقسیم میں نقصان اٹھایا اور خیبرپختونخوا میں سینٹ کے انتخابات میں بھی تاخیر ہوئی۔اب بھی جب تک خیبرپختونخوا اسمبلی اپنے لئے سینیٹ کے نمائندے منتخب نہیں کرلیتی یہ نمائندگی صفر ہے۔

قارئین! ذرا غور فرمائیں تو اس میں خود کوتاہی اور غلطی تحریک انصاف والوں کی ہے کہ جنہوں نے بنیاد غلط رکھ دی اور پھر عمارت کی سدھائی (سیدھا رکھنے) کے لئے قانونی جنگ لڑی اور ہار دی اور الزام عدلیہ پر لگایا، یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے اور میرے سمیت بے شمار لوگ غیر جانبداری سے مانتے ہیں کہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کے پاس جماعتی نشان بلا نہ ہونے کے باوجود سوشل میڈیا کی ترغیب اور نشان دہی پر رائے دہندگان نے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر تحریک انصاف کے حمائت یافتہ امیدواروں کو ووٹ دیئے اور جتایا یوں مصنوعی اعتبار سے وفاق اور صوبوں کی اسمبلیوں میں تحریک انصاف پارلیمانی طور پر موجود تھی لیکن قانونی اور آئینی طور پر تمام منتخب حمائت یافتہ اراکین آزاد تھے، آئینی اور قانونی طور پر ان کے لئے واجب اور لازم تھا کہ تین روز کے اندر اندر اپنی پسند کی جماعت میں شامل ہوتے یا پھر آزاد رہنے کا فیصلہ کرتے، یہ وہ وقت تھا جب عمارت کی بنیاد والا سلسلہ ہوتا ہے، تحریک انصاف کے ان محترم ماہرین نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سمیت اور ایک دوسری جماعت کی پیشکش ٹھکرا دی ان دونوں جماعتوں نے جماعتی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا اور ان کا ایک ایک منتخب نمائندہ بھی موجود تھا لیکن ماہرین کرام نے فیصلہ کیا کہ آزاداراکین سنی اتحاد کونسل میں شریک ہوں اور منتخب حضرات کی بھاری اکثریت نے حلف نامے دے دیئے۔ یوں یہ ایک بڑی غلطی تھی،جس کے باعث تحریک انصاف کو بطور پارلیمانی پارٹی کام کرنے کی قانونی اور آئینی حیثیت حاصل نہ ہوئی اور وہ سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کہلائے تاہم یہ بہت بڑی حقیقت تھی کہ خود سنی اتحاد کونسل نے بطور رجسٹرڈ جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا خود اس کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا بھی آزاد رکن تھے، یوں یہ اینٹ ٹیڑھی رکھ دی گئی اور عمارت سیدھی نہ ہوئی بالآخر تمام قانونی جنگ ناکام ہو گئی اور تحریک انصاف خصوصی نشستوں سے محروم ہو گئی، اب یہ قانون دان،آئینی ماہرین خود غورکرلیں کہ جس جماعت کا اپنا وجود ہی پارلیمانی نہیں اسے آئینی طورپر نشستیں کیسے دی جا سکتی ہیں۔ میں مانتا اور تسلیم کرتا ہوں کہ رائے دہندگان نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو آزاد حیثیت میں جتوایا، اب آپ غور فرمائیں کہ اگر یہ حضرات (فیصلہ کرنے والے)سنی اتحاد کونسل کی بجائے تحریک انصاف میں شمولیت کا حلف نامہ دیتے اور پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی قائم کرتے تو قانونی حیثیت مختلف ہوتی کہ تحریک انصاف تب بھی اور آج بھی بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ جماعت ہے۔ اب اگر یہ فیصلہ ہوتا اور سپیکر یا کوئی اور قوت اسے نہ مانتی تو عدالتی جنگ یقینا تحریک انصاف کے حق میں ہوتی اور اپنے کئے کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا الزام عدالت کو نہ دیا جاتا اور یقینا تحریک انصاف کے حق میں بات ہوتی اور اپنے کئے کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا الزام عدالت کو نہ دیا جاتا اور یقینا آخری فیصلہ ان کے حق میں ہوتا، اب سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا کوئی جواز نہیں، ان حضرات کو اپنی قانونی غلطی کو تسلیم کرلینا چاہیے، یوں بھی اب یہ اپنی طرف سے قرار دی گئی غیرآئینی حکومت اور اداروں کے ساتھ بھی کام تو کر ہی رہے ہیں اور عدالتی فیصلے ہی کے مطابق پشاور میں سینیٹ کے لئے سرگرمیاں جاری ہیں، بہتر عمل بروقت اور اچھا فیصلہ ہوتا ہے۔

جہاں تک تحریک انصاف کی حالیہ صورت حال کا تعلق ہے تو اختلافات عام ہیں، حتیٰ کہ تحریک چلانے کا عمل بھی مشکوک نظر آتا ہے اور پھر الزام بھی درست ثابت نہیں ہوتے،سب سے بڑا الزام جو بار بار لگایا جاتا وہ کپتان کی جیل میں سہولتوں کے حوالے سے ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر جیل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے عدالت میں دی گئی رپورٹ کو درست جانتا ہوں اس سے قبل ایسی سہولتوں کی مثال نہیں ملتی۔ بھٹو قید تنہائی میں رہے، نوازشریف، شہباز شریف بھی معہ مریم نواز ایک ایک کمرے تک محدود رہے اور ان کو ایرکنڈیشنر کا طعنہ سننا پڑا، یوں خان صاحب جیل کے شہزادے ہیں، بادشاہ نہیں کہ وہ ڈاکٹر جہانگیر بدر(مرحوم) تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں