پاکستان تحریک انصاف کے بانی سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا اور پوری جماعت کی توجہ اڈیالہ جیل کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور یوں ایک سیاسی جماعت اپنے عملی سیاسی کردار کی جگہ ایک خصوصی مسئلہ پر توجہ مرتکز کرکے سیاسی عمل ہی سے باہر ہو گئی ہے۔ معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ اپنے سیاسی صحافتی تجربے ہی کی بنیاد پر پہلے روز سے میرا موقف رہا ہے کہ تحریک انصاف کو اپنے تمام تر تحفظات اور اعتراضات کے باوجود پارلیمانی عمل میں سنجیدگی سے حصہ لینا چاہیے۔ اس سلسلے میں، میں نے ڈی جیورو اور ڈی فیکٹوکی اصطلاح کا بھی ذکر کیا تھا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا، حالیہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے بھی درست فیصلہ نہ کیا گیا۔ تحریک انصاف کو اپنے ووٹرز کے لئے حصہ لینا چاہیے تھا، اس طرح تمام تر مجبوریوں کے باوجود اس کے کارکن متحرک ہوتے لیکن فیصلہ ہوا تو عجیب تھا کہ دو نشستوں کے سوا باقی سب پر بائیکاٹ کر دیا گیا یوں اپنے حامی اور ووٹروں کو بھی مایوس کیا، عام خیال یہ ہے کہ تحریک انصا ف کے ان ”تجربہ کار“حضرات نے ان دونوں نشستوں کو آبائی نشستیں تصور کرلیا اور اپنے خیال میں جیت بھی لیا لیکن جب میدان کھلا تو نقشہ ہی اور تھا، تحریک انصاف کے کارکن اور ووٹر خاموش گوشہء عافیت میں تھے کہ ان کی رہنمائی کے لئے کوئی رہنما قیادت ہی نہیں کررہا تھا۔
جہاں تک ہری پور کی نشست کا سوال ہے تو یہ خیبرپختونخوا کا ضلع ہے، وزیراعلیٰ بلند آواز سے دھمکی بھی دے چکے تھے اس کے باوجود عمر ایوب اپنے دادا جان کی اس نشست کو بچا نہ سکے۔ یوں یہ عجیب بات ہے کہ وہ خود سزا یافتہ اور مفرور کہلاتے ہیں، خبروں کے مطابق اس کے باوجود وہ اپنی اہلیہ کے لئے کنویسنگ کرتے رہے اور کئی مقامات پر خطاب بھی کیا لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جب گھر والا ہی گھر نہ ہو تو پھر ہمسائے بھی پرواہ نہیں کرتے۔ یوں اب ان کی یہ غلط فہمی دور ہوگئی اور اب شاید یہ نشست وہ یا ان کے خاندان کا کوئی فرد حاصل نہ کر سکے۔
جہاں تک میاں محمد اظہر (مرحوم) کی خالی نشست کا سوال ہے تو ان کی فیملی گومگو کا شکار رہی۔ ابتدا صاحبزادے بیرسٹر حماد اظہر سے ہوئی، بعدازاں انہوں نے ظاہر ہونے سے گم رہنا ہی بہتر جانا اور اپنے بھانجے کو امیدوار بنا لیا، اب یہ ایک نفسیاتی فیصلہ تھا کہ یہ حلقہ مجموعی طور پر آرائیں اکثریت کا حلقہ ہے اور ماضی سے میاں اظہرتک یہاں سے آرائیں ہی کامیاب ہوتے رہے۔ حماد اظہر کا یقین ہو گا کہ ان کے بھانجے کو یہ فوقیت بھی حاصل ہوگی اور پھر میاں محمد اظہر کی وفات اور تحریک انصاف کی ”مظلومیت“ بھی کام آئے گی۔ لیکن وہ بھول گئے کہ مدمقابل امیدوار کا تعلق بھی انہی کے قبیلے سے ہے اور اس مرتبہ حافظ میاں نعمان کا مقابلہ میاں اظہر سے نہیں تھا، یوں حافظ نعمان کے حق میں یہ امر بھی گیا کہ تحریک انصاف کے امیدوار کو ان کی آبائی حیثیت کے حوالے سے تنہا چھوڑ دیاگیا۔ کسی انصافیے نے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا، حتیٰ کہ خود حماد اظہر بھی مجبور تھے اور روپوشی ختم کرکے کھلم کھلا کنویسنگ نہیں کر سکتے تھے۔ یوں بھی مسلم لیگ (ن) کا امیدوار بن جانے کے بعد اس حلقہ سے وہ مسلم لیگی جو اسی قبیلے کے اور ماضی میں جیتے بھی، وہ بھی مخالفت نہ کر سکے اور ان کو جماعتی نظم کا پابند ہونا پڑا۔ یوں جب امیدوار صرف اپنے خاندان کی حمائت پر رہ جائے تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں اگر حماد اظہر امیدوار ہوتے، ان کے کاغذات مسترد ہوتے تو بھی قانونی لڑائی جاری رہتی اور ان کے متبادل امیدوار کو ہمدردی ملتی تاہم اس کے لئے پھر وہی شرط کہ جماعت،تنظیم اور عہدیدار خوفزدہ ہونے کی بجائے کنویسنگ کرتے۔ ایسا نہ کرکے دھاندلی اور دھونس کا الزام بھی مناسب نہیں لگتا، حماد اظہر اگر جیل چلے جاتے توان کو ہمدردی کے بھی ووٹ ملتے ایسا ماضی میں کئی بار ہوچکا۔
تو بات کہاں سے شروع کی اور کدھر نکل گئی۔ تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل کو مرکزی انقلاب بنا کر کوئی بہتر پالیسی اختیار نہیں کی، یہ درست کہ جیل مینوئل کے مطابق قیدی سے ملاقات کے قواعدد و ضوابط طے ہیں۔ اس حوالے سے بانی کی ہمشیرگان اور وکلاء کی ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں اور ان کے توسط سے عمران خان کے بیان و احکام بھی منظر عام پر آتے تھے۔ میڈیا نے نشر کرنے اور چھاپنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ اب اگر رکاوٹ ہے تو یہ قانونی مسئلہ بھی ہے اور تحریک انصاف کے وکلاء ماہر بھی ہیں اور انہوں نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ عدلیہ کے روبرو زیادہ بہتر طریقے سے اپنا کیس پیش کرکے ریلیف لینا زیادہ موثر ہے اور اب اگر بقول وکلاء اور علیمہ خان ان کو عدالتی احکام کے باوجود ملنے نہیں دیاجاتا تو پھر توہین عدالت کی درخواستوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
اب جو صورت حال کے پی کے وزیراعلیٰ نے پیدا کی یہ بھی منفرد ہے کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ صرف ملاقات کے مسئلہ پر اڈیالہ جیل سے باہر دھرنا دے، ایک مرتبہ پھر معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ علیمہ خان اور اب سہیل آفریدی کے دھرنا میں کتنے لوگ تھے یہ وہ خود جانتے ہیں، بہرحال انتظامیہ نے ہوش مندی سے کام لیا زبردستی نہیں کی کہ اس سے فائدہ نہیں نقصان ہوتا،اب رانا ثناء اللہ کھل کر بولے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جیل مینوئل کے مطابق گھر والوں کی ملاقات میں خاندانی اور قانونی امور زیر بحث آتے اور وکلاء حضرات قانونی رہنمائی کے لئے ملتے ہیں، لیکن بانی سے ملاقات کے بعد تازہ حکم آ جاتا ہے جس سے فساد پیدا ہوتا ہے، ان کا اور وزیر مملکت امور داخلہ طلال چودھری کا دعویٰ ہے کہ بانی کو جیل میں تمام سہولتیں حاصل ہیں اور وہ وی آئی پی والی ہیں۔
بہتر عمل اب بھی مذاکرات ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ان کی طرف سے مذاکرات کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی وہ یہ بتانا بھول گئے کہ یہ مذاکرت مقتدرہ سے کرنا چاہتے تھے جو نہ ہوئے، بہتر ہو گا کہ اب اچکزئی صاحب ہی ڈی فیکٹو حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان پل بن جائیں اور حکومت کوبھی اپنے کہے کا احساس ہونا چاہئے کہ مذاکرات کی میز سج جانا چاہیے۔

