انقرہ(ایجنسیاں)ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کی تجارتی اور معاشی تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی طیاروں کیلئےترکیہ کی فضائی حدود بھی بند کر دی گئی ہے۔
وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے غزہ میں اقدامات “نسل کشی” کے مترادف ہیں اور یہ صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کے جارحانہ اقدامات لبنان، شام، یمن اور ایران سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
فیدان نے مزید کہا کہ ترک بندرگاہوں کو بھی ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ کسی ایسے جہاز کو رسائی نہ دیں جو اسرائیل سے منسلک ہو یا عسکری سامان لانے لے جانے میں ملوث ہو۔ اس فیصلے کے بعد خطے کی پروازوں میں نمایاں تبدیلی آئے گی اور اسرائیل سے آذربائیجان اور جارجیا جانے والی پروازوں کے دورانیے میں دو گھنٹے تک اضافہ متوقع ہے۔
ترکیہ پہلے بھی مئی 2024سے غزہ میں انسانی امداد تک مسلسل رسائی نہ ہونے کے باعث اسرائیل کے ساتھ تجارت روک چکا تھا، تاہم اب اس فیصلے کو باضابطہ اور مکمل شکل دے دی گئی ہے۔
وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ میں ترکیہ کے اس موقف کو بھی اجاگر کیا کہ عالمی برادری اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کیلئےفوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اسلامی اور یورپی ممالک کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کیلئےنئی سفارتی کوششیں شروع کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد خطے میں ترکیہ کے کردار میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ اسرائیل کے ساتھ سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت مکمل طور پر رک جائے گی۔

