انقرہ (ایجنسیاں)—ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔
صدارتی دفتر انقرہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، صدر اردوان نے دونوں رہنماؤں کے ساتھ گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر اردوان نے واضح الفاظ میں کہا”نیتن یاہو کی حکومت علاقائی استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ایران پر اسرائیلی حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ”ایران پر حملوں کا مقصد دنیا کی توجہ غزہ میں جاری نسل کشی سے ہٹانا ہے، اور اگر اسرائیل کو روکا نہ گیا تو علاقائی امن کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔”ترک صدر نے بات چیت میں اس موقف کا اعادہ کیا کہ جوہری تنازعات صرف سفارتی مذاکرات اور بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ترکی، ایران اور سعودی عرب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔یہ رابطے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست حملوں کا تبادلہ جاری ہے، اور خطے میں ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

