الیکٹرونک میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے دوسرے ادارے دنیا بھر کے عوام کو حالات حاضرہ سے آگاہ کرنے میں مصروف ہیں، ان دنوں صرف پاکستان ہی نہیں چین، جاپان اور کوریا کے علاوہ کئی اور ممالک بھی متاثر ہیں، ہونا تو یہ چاہیے، آج کے گلوبل ولیج کے طور پر ان آفات سماویٰ کی روشنی میں انسان کی سوچ تبدیل ہو، لیکن ازل سے اب تک نیکی اور بدی کا جو مقابلہ چل رہا یا ان کے درمیان جو دوڑ لگی ہوئی ہے اس کی وجہ سے ہوس کا عالم نیکی کی طرف نہیں آرہا، امریکہ گلوبل تھانیدار کی حیثیت سے عمل پیرا ہے اور اس کی طرف سے اسرائیل کو کھلی چھٹی ہے کہ اس نے غزہ کے رہائشیوں کی نسل کشی کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ جاری رکھے، حالانکہ صدر امریکہ معصوم بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی بھوک کا ذکرکرتے ہیں، لیکن عمل یہ ہے کہ فلسطین کے حوالے سے جو عالمی کانفرنس ہوئی اس میں اسرائیل نے تو شرکت کرنا ہی نہیں تھی، امریکہ نے بھی بائیکاٹ کیا یوں دونوں ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے، غزہ میں امدادی سامان پہنچنا تو شروع ہوا ہے لیکن وہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہے اور ابھی تک ملبے کا ڈھیر بنے غزہ میں کھلے آسمان تلے بیٹھے، خوراک کی تلاش میں بوڑھے، بچے، خواتین اور بچیاں بھوک کے ہاتھوں لب گور پہنچ چکے ہیں،بڑی تاخیر سے فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کی طرف سے ایک قدم آگے بڑھایا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنا رویہ ٹھیک نہ کیا اور موجودہ روش پر قائم رہا تو ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیں گے کہ عالمی کانفرنس میں یہی کہا گیا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی فارمولا ہے۔ اس کانفرنس کے نتیجے ہی میں سعودی عرب نے بھی شکوک دور کر دیئے اور واضح اعلان کیا کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل نہیں ہو جاتا۔ اسرائیل سے تعلقات استوار نہیں ہوں گے یوں یہ غلط فہمی دور کی گئی کہ سعودی عرب تسلیم کرنے والا ہے اور اب امریکی صدر کی طرف سے کہا گیا تھا۔
یہ ذکر تو اس لئے کیا کہ اس وقت سماوی آفات کے علاوہ مسئلہ فلسطین بہت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور اسرائیل کو کوئی بھی روک نہیں پا رہا اس سلسلے میں ہمارے ملک کا موقف بہت واضح اور اس کا اظہار ہر پلیٹ فارم پر کیا جا رہا ہے، اس وقت میرا ملک معاشی مسائل کے حل میں کوشاں ہے اور اس کے لئے تنے رسے پر چل رہا ہے، نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ چین، پاکستان کا زبردست اور آزمودہ دوست ہے، تاہم پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی بڑی اہمیت دیتا ہے۔ کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن کہا نہیں جا سکتا، البتہ ہر ذی فہم اور ذی شعور پاکستانی اس پر ضرور غور کرتا ہے۔ خارجی سطح پر جو حالات ہیں، ان کے مطابق عمل بھی کیا جا رہا ہے اور پاکستان کا موقف بھی بڑا واضح ہے لیکن اندرونی سطح پر ابھی مسائل ہی مسائل ہیں اور ان کو حل کرنے کے لئے اتحاد لازم ہے لیکن میرے اس پیارے پاکستان میں سیاسی انتشاربرپا ہے۔ ہمارا موقف تو شروع سے اتفاق رائے رہا اور ہم نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا، حکومت بھی مذاکرات کی قائل ہے اور اس کا اظہار بھی کیا جاتا ہے، تحریک انصاف کی طرف سے بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں ہیں لیکن نہ معلوم یہ کس کا سایہ ہے کہ فریقین مذاکرات کیلئے میز پر نہیں بیٹھتے اور ایک دوسرے کے خلاف رویہ سخت کرتے چلے جا رہے ہیں جس سے عمل اور گفتگو میں تضاد نظر آتا ہے۔
تازہ ترین جو خبر نظر سے گزری وہ یہ ہے کہ لیڈر آف اپوزیشن عمر ایوب نے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے دعوت ملنے کے باوجود اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا ہے ان کو یہ دعوت انہی کے خط کے جواب میں دی گئی جس میں انہوں نے شکایات کا ڈھیر لگایا اور چیف جسٹس سے مداخلت کی استدعا کی تھی، اس خط ہی کے جواب میں انہوں نے اسلام آباد آکر ملنے سے معذرت کرکے پشاور میں ملنے کو ترجیح پیش کی ہے، کیسی دلچسپ درخواست ہے،پنجابی محاورہ ہے”لد دیو، لدا دیو، تان لدن والا نال دیو“ ضرورت عمر ایوب کی وہ خود تو نہیں جا سکتے البتہ منصف اعلیٰ ان کی فریاد سننے خود تشریف لے جائیں، اسی نوعیت کے خط سینیٹ میں قائد اختلاف شبلی فراز اور پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی طرف سے بھی لکھے گئے، یہ حضرت تو آزاد ہیں، یہی عمر ایوب کی طرف سے چلے جائیں کہ وہ تو اپنی گرفتاری کے خوف سے سیف ہاؤس پشاور میں ہیں، یہ بھی ہماری سیاست کا ایک پہلو ہے کہ تحریک انصاف والے حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے خیبرپختونخوا کو محفوظ ٹھکانہ جانتے اور ضمانتیں بھی پشاور ہائی کورٹ سے لیتے چلے آ رہے ہیں ہم نے اپنی عمر عزیز صحافت میں گزار دی، ہمیں ایسے راہنما کبھی نظر نہیں آئے جو گرفتاری سے خوف کھائیں اور چیف جسٹس کو بلانے کی عرض کریں۔ مجھے یاد ہے کہ نوابزادہ نصراللہ کے بقول وہ ہر وقت اپنا اٹیچی کیس تیار رکھتے تھے کہ جب چاہو آکر لے جاؤ اور انہوں نے کبھی گرفتاری سے گریز نہیں کیا حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ضمانت کی منسوخی کے بعد انہوں نے راہ فرار اختیار کی، عمر ایوب صاحب کو حوصلہ بڑا رکھنا چاہیے، تحریک کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور عالم یہ ہے کہ چیف جسٹس کے بلاوے پر تشریف لانے سے انکار کر دیتے ہیں۔
معذرت خواہ ہوں کہ حالات کا جبر قلم ادھر اُدھر گھسیٹنے پر مجبو رکر دیتا ہے۔ اب انداز سیاست دیکھ لیں کچھ نہ بنا تو سلیمان اور قاسم کی آمد کا ڈھنڈورا شروع کر دیا کہ شاید ان کی آمد ہی سے لوگ اکٹھے ہوں، یہ تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب حضرات اسی میں نجات تلاش کر رہے ہیں یہ تو عمران خان نے خود کہہ دیا کہ ان کے صاحبزادگان نہیں آئیں گے، اپنے بانی چیئرمین کی بات تو سیکرٹری اطلاعات وقاص شیخ جھٹلانے سے بھی باز نہیں آئے اور انہوں نے بانی کی میڈیا والی گفتگو کی تردید کردی، اب کیا کیا جائے کہ 5اگست کو کیاہوگا؟

