نیروبی / شکاگو (سپورٹس ڈیسک)کینیا کی عالمی شہرت یافتہ خاتون میراتھون ایتھلیٹ روتھ چیپنگیٹیچ (Ruth Chepngetich) پر اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کے باعث تین سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم، ان کا 2 گھنٹے، 9 منٹ اور 56 سیکنڈ میں میراتھون مکمل کرنے کا عالمی ریکارڈ برقرار رہے گا کیونکہ یہ کارنامہ ان کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے سے پہلے انجام پایا تھا۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق، چیپنگیٹیچ نے اکتوبر 2023 میں شکاگو میراتھون کے دوران یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ تاہم، انہیں مارچ 2025 میں لیے گئے ایک سیمپل میں ہائڈروکلورتھیازیڈ (HCTZ) نامی ممنوعہ دوا کی موجودگی کے بعد، ایتھلیٹکس انٹیگریٹی یونٹ (AIU) نے جولائی 2025 میں عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، ان کے خون کے نمونے میں HCTZ کی مقدار 3,800 نینوگرام فی ملی لیٹر پائی گئی — جو کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کی کم از کم رپورٹنگ حد 20 نینوگرام فی ملی لیٹر سے 190 گنا زیادہ تھی۔
31 سالہ چیپنگیٹیچ نے ابتدا میں کسی غلطی سے انکار کیا، مگر بعد میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے غلطی سے اپنی گھریلو ملازمہ کی دوا کھا لی تھی جس میں HCTZ شامل تھا۔ تاہم، AIU نے ان کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’بے احتیاطی پر مبنی اور ارادی‘‘ عمل تھا۔
ابتدا میں چار سالہ پابندی کا سامنا تھا، مگر اعترافِ جرم کے بعد سزا میں ایک سال کی کمی کی گئی، اور تین سالہ پابندی 10 ستمبر 2025 سے نافذ ہو گئی۔AIU کے سربراہ بریٹ کلاتھیئر نے کہا کہ ’’روتھ چیپنگیٹیچ کے کیس کو حتمی طور پر نمٹا دیا گیا ہے، تاہم ان کے فون سے برآمد ہونے والے مشکوک مواد کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔‘‘
انہوں نے وضاحت کی کہ 14 مارچ 2025 سے پہلے کی تمام کامیابیاں اور ریکارڈ برقرار رہیں گے کیونکہ ان کے ڈوپنگ شواہد اس تاریخ کے بعد سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق، چیپنگیٹیچ نے اپریل 2025 میں لندن میراتھون سے ’’ذہنی اور جسمانی دباؤ‘‘ کا بہانہ بنا کر دستبرداری اختیار کی تھی، جبکہ حقیقت میں وہ اپنی معطلی کے باعث مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتی تھیں۔
گزشتہ چند برسوں سے کینیا میں میراتھون کے کھیل کو ڈوپنگ اسکینڈلز نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ نومبر 2022 میں درجنوں ایتھلیٹس کے ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود ملک کو بین الاقوامی پابندی سے محض حکومتی مداخلت کے باعث بچایا گیا تھا۔کینیا کی حکومت نے اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ وہ پانچ سال کے لیے ہر سال 5 ملین ڈالر ڈوپنگ کے خلاف مہم پر خرچ کرے گی۔
فروری 2024 میں، سابق ٹوکیو میراتھون فاتح سارہ چیپچیرچیر (Sarah Chepchirchir) کو دوسری بار خلاف ورزی پر آٹھ سالہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی سال کینیا کے ایتھلیٹ بریمن کیپکوری (Brimin Kipkorir) جو 2024 سڈنی میراتھون کے فاتح تھے — کو بھی ممنوعہ مادوں کے استعمال پر عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔

