پاکستانی سیاست میں بعض اوقات مسائل حل کرنے کے بجائے نئے شوشے چھوڑ دیے جاتے ہیں، تاکہ اصل سوالات پس منظر میں چلے جائیں۔ ووٹ ڈالنے کی عمر 18 کے بجائے 25 سال کرنے کی بحث بھی اسی نوعیت کی ایک غیر سنجیدہ مگر مقصدی گفتگو ہے، جسے دانستہ یا نادانستہ طور پر عوامی ذہن میں ڈال دیا گیا۔سب سے پہلے یہ بات طے ہونی چاہیے کہ پاکستان میں ووٹ کی عمر 25 سال کرنے کی نہ کبھی کوئی آئینی تجویز آئی، نہ کوئی باضابطہ بل، اور نہ ہی کسی ریاستی ادارے کی سفارش۔
اس کے باوجود یہ تاثر کیسے بنا کہ شاید سنجیدہ حلقوں میں اس پر غور ہو رہا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ’’شوشہ‘‘ اپنی اصل شکل میں سامنے آتا ہے۔یہ بحث کسی پارلیمانی فورم سے نہیں، بلکہ ٹی وی ٹاک شوز، نیم دانشورانہ تجزیوں اور پسِ پردہ سیاسی گفتگو سے ابھری۔ خاص طور پر 2024 کے عام انتخابات کے بعد، جب نوجوان ووٹر کے کردار نے انتخابی نتائج کو غیر متوقع رخ دیا، تب اچانک یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ ’’کیا 18 سال کا نوجوان ووٹ دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے؟‘‘یہ سوال اپنی جگہ، مگر اس کے پیچھے نیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔ یہی نوجوان:بے روزگاری کا سب سے بڑا شکار ہے، مہنگائی کا سب سے شدید بوجھ اٹھاتا ہے، تعلیم اور صحت کی ناکام پالیسیوں کے نتائج بھگتتا ہے، لیکن جب یہی نوجوان ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے ’’نادان‘‘ اور’’جذباتی‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ تضاد اتفاقیہ نہیں۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ووٹر کم عمر ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ووٹ اب روایتی سمت میں نہیں جا رہا۔ وہ سیاسی جماعتیں اور قوتیں جو دہائیوں سے مخصوص نتائج کی عادی تھیں، اچانک ایک ایسے ووٹر سے دوچار ہو گئیں جو سوال پوچھتا ہے، موازنہ کرتا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے متبادل بیانیہ بھی سنتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ 25 سال کی عمر کا حوالہ دراصل الیکشن لڑنے سے متعلق ہے، ووٹ ڈالنے سے نہیں۔
پاکستان کے آئین میں قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے، تاکہ قانون سازی کرنے والا شخص ایک خاص سطح کی فکری پختگی رکھتا ہو۔ مگر اس شرط کو ووٹ کے حق سے جوڑ دینا یا اس سے خلط ملط کرنادانستہ گمراہی۔ دنیا کی جمہوریتیں اس بحث میں آگے جا رہی ہیں، پیچھے نہیں۔ یورپ اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں ووٹ کی عمر 16 سال تک کم کی جا چکی ہے۔ وہاں یہ سوچ غالب ہے کہ سیاسی شعور ووٹ چھیننے سے نہیں، بلکہ ووٹ دینے کے عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ نوجوان کو جمہوریت سے دور کرنے کے بجائے اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہاں ہر وہ عنصر جو کنٹرول سے باہر ہو، مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی 18 سال کا نوجوان:فوج میں بھرتی ہو سکتا ہے، قانون توڑنے پر سزا پا سکتا ہے، ریاستی بیانیے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، مگر جب وہ ووٹ ڈالے تو اچانک ’’غیر ذمہ دار‘‘ بن جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ووٹ کی عمر 25 سال کرنے کا شوشہ کسی اصلاحی جذبے سے نہیں، بلکہ سیاسی بے چینی سے جنم لیتا ہے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو انتخابی ناکامیوں کا ملبہ نوجوانوں پر ڈال کر اصل سوالات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے،جیسے ناقص حکمرانی، کمزور سیاسی جماعتیں اور عوام سے کٹا ہوا نظام۔
اگر واقعی مسئلہ سیاسی شعور ہے تو حل ووٹ چھیننا نہیں، بلکہ: معیاری تعلیم، شہری تربیت، شفاف سیاست ہے۔جمہوریت کا حسن پسندیدہ فیصلے نہیں،ناپسندیدہ فیصلوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت ہے۔اور جہاں یہ صلاحیت ختم ہو جائے، وہاں ووٹ کی عمر نہیں،جمہوری نظام خود کمزور ہو جاتا ہے۔ بہرحال ووٹ کی عمر 25 سال کا کبھی کبھی ہمارے ہاں کچھ بحثیں اچانک یوں جنم لیتی ہیں جیسے آسمان سے اتری ہوں، حالانکہ نہ ان کی کوئی آئینی بنیاد ہوتی ہے، نہ عالمی مثال، اور نہ ہی زمینی حقائق سے ان کا کوئی تعلق۔
ووٹ ڈالنے کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز بھی اسی قسم کی ایک مصنوعی اور گمراہ کن بحث ہے، جسے سنجیدہ جمہوری اصلاح کے بجائے سیاسی سہولت کاری کیلئے اچھالا جاتا ہے۔ دنیا کے جمہوری نظاموں پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بالکل واضح ہے:ووٹ دینے کا حق شہری ہونے سے جڑا ہے، نہ کہ عمر کی کسی اشرافی حد سے۔اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں، بین الاقوامی جمہوری فورمز اور آئینی ماہرین کا اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ 18 سال کی عمر وہ مرحلہ ہے جہاں شہری کو ریاستی فیصلوں میں شریک ہونا چاہیے، کیونکہ اسی عمر میں وہ ٹیکس دیتا ہے، قانون کا پابند ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں فوجی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ 25 سال والی بات کہاں سے آئی؟اصل میں یہ ابہام ووٹ ڈالنے اور الیکشن لڑنے کی عمروں کو خلط ملط کرنے سے پیدا ہوا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں قومی اسمبلی یا پارلیمان کا رکن بننے کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے۔ یہ شرط اس لیے رکھی گئی کہ قانون سازی کے عمل میں ایک خاص سطح کی بلوغت، تجربہ اور سنجیدگی درکار ہوتی ہے۔ مگر اس کا ووٹ ڈالنے کے حق سے کوئی تعلق نہیں۔یہاں اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ:کیا ہمارا نوجوان سیاسی شعور سے عاری ہے؟یا پھر مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان ووٹ ایسے فیصلے کرتا ہے جو ناگوار گزرتے ہیں؟ بہرکیف یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
یہی نوجوان مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم کی گرتی ہوئی حالت اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کا سب سے زیادہ شکار ہے۔ جب یہی نوجوان ووٹ کے ذریعے اپنے غصے یا امید کا اظہار کرتا ہے تو اسے ’’ناپختہ ذہن‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن یہی نوجوان جب سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلاتا ہے، احتجاج میں سب سے آگے ہوتا ہے یا ریاستی بیانیے کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اچانک بالغ، باشعور اور متحرک کہلاتا ہے۔دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں تو بحث اس کے برعکس سمت میں جا رہی ہے۔ آسٹریا، اسکاٹ لینڈ اور لاطینی امریکا کے بعض ممالک میں ووٹ کی عمر 16 سال تک کم کی جا چکی ہے، تاکہ نوجوانوں کو جلد جمہوری عمل کا حصہ بنایا جائے۔ وہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ سیاسی تربیت ووٹ چھین کر نہیں، ووٹ دے کر دی جاتی ہے۔ہمارے ہاں اس لیے اْمید ہے کہ حکومت اس قسم کے فیصلوں سے اجتناب کرے گی اور اصل مسئلوں کی جانب توجہ دے گی!

