برلن (ایجنسیاں) جرمنی میں ایک گھر سے 100 سال سے زائد عمر کی خاتون صوفی بی کی ممی بنا کر محفوظ کی گئی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد مشتبہ پینشن فراڈ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب پولیس کو شبہ ہوا کہ صوفی بی کی 82 سالہ بیٹی کرسٹا بی پینشن کی مد میں ملنے والے تقریباً 1500 یورو وصول کرنے کے لیے اپنی والدہ کی لاش کو برسوں سے چھپائے ہوئے تھی۔
رپورٹ کے مطابق مقامی قصبے روہمنز فیلڈن کے میئر ورنر ٹروئبر نے حکام کو اطلاع دی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ آٹھ برس سے صوفی بی سے ملنے کی کوشش کر رہے تھے مگر ہر بار کمرے کا دروازہ بند ملتا اور بیٹی کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دیتی تھی۔میئر کے مطابق 2025ء کے آخر میں بیٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کی والدہ دو سال قبل جمہوریہ چیک میں انتقال کر گئی تھیں، جس پر معاملہ مشکوک ہونے کے بعد پبلک پراسیکیوٹر کو آگاہ کیا گیا۔
بعد ازاں فروری کے آغاز میں پولیس نے کرسٹا بی کے گھر سے صوفی بی کی ممی بنی لاش برآمد کر لی۔پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تاہم موت کی وجہ یا درست تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا۔ حکام نے قتل کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے پینشن فراڈ کے شبے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

