برلن / اسلام آباد (شوکت گورایہ سے)جرمن وزیرِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں مصر، سعودی عرب، قطر اور عمان کے اپنے ہم منصبوں سے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عراق، اردن اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفون پر رابطے کیے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ”تنازعہ پہلے ہی پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔جنگ کا ہر نیا مرحلہ انسانی المیے کو بڑھا رہا ہے تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے اورسفارتی حل کیلئےموجود محدود گنجائش کو بھی کم کرتا جا رہا ہے۔”
اسی تناظر میں وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے رکن ملک قبرص کے وزیرِ خارجہ سے بھی گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ بحران کے ممکنہ انسانی اثرات سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائیگا۔
وزیرِ خارجہ نے بحران کے دوران فوری اور مؤثر ردعمل کیلئے قبرص کی حکومت کی خدمات اور تعاون پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ”قبرص ایک تجربہ کار EU پارٹنر ہے، جو ہنگامی صورتِ حال میں فوری مدد فراہم کر سکتا ہے۔ہم ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔قبرص پہلے ہی فضائی حدود کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے شہریوں کی مدد میں پیش پیش ہے۔”
وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان موجودہ صورتحال کے پرامن اور سفارتی حل کیلئے عالمی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ علاقائی امن، استحکام، اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

