اسلام آباد (نامہ نگار) — سپریم کورٹ کےجج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اہم ادارہ جاتی خدشات پر چھ سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس ان کے عوامی سطح پر جواب دیں۔
جسٹس منصور نے اپنے خط میں کہا کہ وہ یہ اقدام مجبوری میں کر رہے ہیں کیونکہ چیف جسٹس نے ان کے بار بار لکھے گئے خطوط اور پیغامات کا کوئی تحریری یا زبانی جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق یہ خاموشی نہ صرف غیر شائستگی ہے بلکہ عدالتی روایات اور ادارہ جاتی آداب کی بھی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس کی جانب سے بلائی جانے والی جوڈیشل کانفرنس ان سوالات پر براہِ راست جواب دینے کا بہترین موقع ہے تاکہ ججوں، وکلا اور عوام کو شفافیت اور آئین سے وفاداری کا یقین دلایا جا سکے۔
“جسٹس منصور کے چھ سوالات”
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی کو اس کی قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئےکیوں نہیں بلایا گیا؟
سپریم کورٹ رولز 1980 میں ترمیم مکمل کورٹ میٹنگ کے بجائے سرکولیشن کے ذریعے کیوں کی گئی؟
اختلافی آراء جاری کرنے کی پالیسی فل کورٹ مباحثے کے بجائے انفرادی آراء کی بنیاد پر کیوں اپنائی گئی؟
ججوں کی چھٹی کیلئے ایسا اسٹینڈنگ آرڈر کیوں جاری کیا گیا جو عدالتی آزادی اور 1997 کے صدارتی حکم سے متصادم ہے؟
26ویں ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستیں اصل فل بینچ کے سامنے کیوں پیش نہیں کی گئیں؟
کیا چیف جسٹس عدالت کو آزاد ججوں کی آئینی عدالت بنا رہے ہیں یا تعمیل نافذ کرکے اسے فوجی دستے کی طرح چلانا چاہتے ہیں؟
جسٹس منصور نے کہا کہ یہ ذاتی شکایات نہیں بلکہ ایک جج کی ذمہ داری کے تحت اٹھائے گئے ادارہ جاتی خدشات ہیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کا مقصد بینچوں کی تشکیل میں ’’ون مین شو‘‘ ختم کرنا تھا، مگر اکتوبر 2024 سے اب تک کمیٹی کا ایک بھی باضابطہ اجلاس نہیں بلایا گیا اور بنچوں کی تشکیل یکطرفہ طور پر ہو رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قومی اہمیت کے مقدمات سینئر ججوں کو دیے جانے کے بجائے جونیئر ججوں پر تقسیم ہو رہے ہیں، جس سے آزاد ججوں کو سائیڈ لائن کرنے کا تاثر ملتا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ کمیٹی میٹنگز کی جو کارروائیاں سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، وہ اصل میں کمیٹی اجلاس نہیں بلکہ چیف جسٹس کے سفری شیڈول سے متعلق گفتگو تھی۔ اختلافی نوٹ درج کرنے کے باوجود اسے نظرانداز کیا گیا۔
جسٹس منصور کے مطابق پارلیمان نے ’’ون مین شو‘‘ کو ختم کرنے کیلئے جو قانون بنایا تھا اسے دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے اور اسی لئے انہوں نے بغیر اجلاس کے بھیجے گئے روسٹرز پر دستخط کرنا بند کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں ججوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود زیر التوا مقدمات کی تعداد 57455 ہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحات مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے بجائے اندرونی توازن بدلنے پر مرکوز ہیں۔ان کا مؤقف تھا کہ یہ سوالات ’’عدلیہ کی آزادی کے دل‘‘ کو چھوتے ہیں اور پوری قوم چیف جسٹس سے وضاحت کی منتظر ہے۔

