جس کا دیپ محلات ہی میں جلے،
جو مصلحتوں کے سائے میں پلے،
ایسے دستور کو صبح بے نور کو، میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا، انقلابی شاعر حبیب جالب نے ترنم اور جوش کے ساتھ جب بھرپور جلسے میں اپنا یہ کلام پڑھا تو جلسہ گاہ جھوم اُٹھی۔ حاکم وقت کے خلاف خوب نعرہ بازی ہوئی۔ یہ جلسہ باغ بیرون موچی دروازہ کی جلسہ گاہ میں ہوا،کل جماعتی مجلس عمل نے اہتمام کیا اور صدارت باباء جمہوریت نوابزادہ نصر اللہ خان نے کی تھی، دور فیلڈ مارشل ایوب خان کا تھا اور میری یاد داشت کے مطابق جلسہ 1962ء میں صدارتی آئین کے نفاذ کے خلاف تھا۔ ایوب خان نے سکندر مرزا کو معزول کر کے خود چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے علاوہ صدر کا عہدہ بھی سنبھال لیا تھا اور1962ء میں اپنی طرف سے آئین نافذ کیا،جس کے تحت ملک میں پارلیمانی، جمہوری نظام کے بجائے صدارتی طرزِ حکومت نافذ کر دیا گیا اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اس کے نفاذ کے ساتھ ہی صدر بن گئے،اس آئین کے تحت بالغ رائے دہی ختم کر کے بنیادی جمہوریت کا نظام نافذ کیا گیا جس کے تحت عام لوگوں کو رائے دہی کے حق سے محروم کر کے صرف بی ڈی (بنیادی جمہوریت) ممبرز کو ووٹ کا حق دیا گیا انہی کی رائے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کے انتخاب کیلئے سند ٹھہری اور پھر اسی طریق کار کی بدولت دوسال بعد ایوب خان نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو صدارتی الیکشن میں ہرا دیا۔
کل جماعتی مجلس عمل نے صدارتی اور محدود رائے دہندگی کے اس آئین کو ابتداء ہی میں مسترد کر دیا اور مخالفت شروع کی تھی، اسی حوالے سے وہ تاریخی جلسہ باغ بیرون موچی دروازہ میں ہوا، جس میں حبیب جالب نے یہ نظم پڑھی، جس نے دِلوں کو چھو لیا اور نوجوان طبقہ بھی بہت متاثر ہوا۔ مقصد کسی تحریک کے ذکر سے نہیں بتانا یہ ہے کہ باغ بیرون موچی دروازہ جو سرکلر باغات کا حصہ ہے ایک تاریخی جلسہ گاہ ہے قیام پاکستان کیلئے اس کا بہت بڑا حصہ ہے کہ1947ء کی تحریک سول نافرمانی کیلئے جلوس کا آغاز اسی باغ میں ہونے والے جلسے سے ہوتا اور یہ برکت علی روڈ، گوالمنڈی اور ہال روڈ سے ہوتا ہوا، ریگل چوک پہنچتا، یہاں پولیس سے سامنا ہوتا اور اکثر جھڑپ ہو جاتی جبکہ جلوس میں موجود پانچ افراد گلے میں ہار پہنے گرفتاری پیش کرنے کے لئے موجود ہوتے، یہ گرفتاری چوک چیئرنگ کراس(موجودہ فیصل چوک) پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دینا مقصود ہوتی تھی، کبھی یہ حضرات جلوس سمیت وہاں پہنچ جاتے اور کسی روز جلوس والوں کو ریگل چوک پر روکا جاتا،نتیجے میں مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ اور پولیس کی طرف سے آنسو گیس استعمال کی جاتی، مال روڈ کی گرین بیلٹ میں موجود فائر ہنڈرینٹس کھول دیئے جاتے، آنسو گیس سے متاثر اور دوسرے مظاہرین رومال اور کپڑے بھگو کر آنکھوں کی جلن ختم کرتے تھے۔
تحریک پاکستان کے دوران میں پرائمری سکول کا طالب علم تھا اور ہم سب دوست،محلے دار ہم جماعت اکبری اور موچی دروازہ کے درمیان باغات میں کھیلا کرتے تھے اور جب سول نافرمانی شروع ہوئی اور جلوس روانہ ہونے لگے تو ہم چار،چھ دوست بھی ساتھ ہو لیتے اور نعرے لگاتے چلتے تھے،ریگل چوک والے تصادم کے دوران ہم بھی پتھر اور اینٹوں کے ٹکڑے مارتے اور جلد ہی بھاگ لیتے تھے۔ اسی دور کا ایک لطیفہ نما واقع ہے کہ ہم دو چار دوست بھاگتے ہوئے گھروں کو واپس آ رہے تھے، گوالمنڈی کے قریب آئے تو بعض حضرات نے روک کر بھاگنے کا سبب پوچھا تو ہمارے ایک ساتھی نے معصومیت سے کہا ”ساڈا، پُلس مقابلہ ہو گیا اے“ اس تحریک کا مقصد باغ بیرون موچی دروازہ کی تاریخی حیثیت کا ذکر مقصود ہے،جو تحریک پاکستان کا مرکز تھا،بعد کی سیاسی تحریکیں بھی یہیں سے چلیں اور یہاں بڑے بڑے معرکتہ الاعلیٰ جلسے بھی ہوئے۔
عرض کر چکا ہوا ہوں کہ میری پیدائش اندرون اکبری دروازہ کی ہے اور حضرت علامہ ابو الحسناتؒ کے محلے کے ایک مکان میں آنکھ کھولی تھی اور پھر ان کی نصیحتیں بھی سنی تھیں،ہمارے کھیلنے کے دن آئے تو پرانے شہر کی فصیل اور دروازہ کے باہر سر سبز اور سایہ دار درختوں سے بھرپور باغات کھیلنے کے لئے موجود تھے،ان باغات کو سیراب کرنے کے لئے لاہور کینال سے ایک چھوٹی نہر نکالی گئی جو ریلوے کالونیوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی سرائے سلطان اور وہاں سے سرکلر روڈ کے نیچے سے اکبری دروازہ والے باغ کے حصے میں نکلتی تھی۔سرائے سلطان کے باہر تو سیڑھیوں پر مشتمل ایک بہت چوڑا حصہ تھا اور اکبری دروازہ کے باہر جہاں سے یہ نہر برآمد ہوتی، ایک کنواں بھی بنا ہوا تھا۔ اس کے اوپر جنگلا لگا ہوا تھا کہ بچے اس میں کودیں نہ لیکن ہم یہاں نہاتے رہے ہیں۔یہ نہر سرکلر روڈ کے ساتھ ساتھ چلتی،داتا دربار تک چلی گئی تھی اور تمام باغات کو سیراب کرتی تھی،ان باغات کے اندر ایک پٹڑی اور اس کے اردگرد سایہ دار درخت تھے۔ شدت کی گرمی کے دوران بھی لوگ باغات کے اندر سے ہوئے ہوئے داتا دربار سلام کرتے چلے جاتے اور ہم لوگ یہاں کرکٹ، کبڈی اور گلی ڈنڈا جیسے کھیل کھیلتے تھے۔
پھر موچی دروازہ کے باغ سے سول نافرمانی شروع ہوئی اور یہ جلسہ گاہ بن گئی۔ تحریک پاکستان کے بعد بھی یہ باغ مرکز رہا اور یہاں جلسے ہوتے رہے اور حکومتوں کے خلاف تحریکیں منظم ہوتی رہیں۔موچی دروازہ باغ کی اس جلسہ گاہ کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ یہاں پر بڑے سے بڑے لیڈروں نے خطاب کیا۔مجھے یاد ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب پنجاب میں دولتانہ،ممدوٹ کشمکش شروع ہوئی اور نوابزادہ افتخار ممدوٹ کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔وہ عدالت سے بری ہوئے تو سیدھے اسی جلسہ گاہ میں آئے ان کا بھرپور استقبال ہوا اور انہوں نے یہاں خطاب بھی کیا،اس جلسہ گاہ میں ماضی کے ہر بڑے رہنما نے شرکت اور تقریر کی۔ محترمہ مادر ملت فاطمہ جناح ؒ کا انتخابی جلسہ بھی یہاں ہوا البتہ ان کے لئے سٹیج پولیس چوکی کے عقب کی بجائے سامنے کونے میں بڑے بوڑھ کے نیچے بنائی گئی تھی، پھر اسی جلسہ گاہ سے نواب ممدوٹ،ممتاز محمد خان دولتانہ،نوابزادہ نصراللہ خان، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی خطاب کیا۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، میاں طفیل محمد، خواجہ رفیق اور دیگر رہنما بھی فخر سے یہاں آتے اور حبیب جالب کو توعروج ہی یہاں سے ملا،اپنی دستور والی نظم کے علاوہ دیگر نظمیں بھی پڑھی اور ایک نظم،
”بیس روپے من آٹا، اس پر بھی ہے سناٹا“
مہنگائی کے حوالے سے پڑھی گئی اور ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران یہ ہوا کہ اُن دِنوں چینی آٹھ آنے (نصف روپیہ) فی سیرا اضافہ ہوا تھا،چنانچہ موچی دروازہ کا باغ ہی جلسہ گاہ رہا، اس باغ نے یہ بھی دیکھا کہ ہمارے دوست بارک اللہ خان نے درخت پر لٹک کر خطاب کیا کہ حکومتوں کے خلاف تحریکیں اٹھتیں تو دفعہ 144 بھی ساتھ آتی اور کئی بار تو یہاں پانی بھی چھوڑا گیا۔
اِس وقت یہ تاریخی جلسہ گاہ انتہائی بدترین حالت میں ہے دیواریں ٹوٹ چکیں،اس باغ میں گدھے گھوڑے تو نہیں بندھتے البتہ ٹرک، رکشا، بیل گاڑیاں تک کھڑی ہوتی رہیں شاید اب بھی ایسا ہی ہے۔
ہمارے اپنے آبائی گھر سے منتقلی سے کافی عرصہ قبل تجاوزات کا عمل شروع ہوا جو باغات کو سیراب کرنے والی نہر کے کناروں پر جھگیوں کی صورت میں تھا اب تو اکبری سے شاہ عالمی تک اسی نہر پر تین تین منزلہ بلڈنگوں والی مارکیٹیں بن چکیں اور یہ سب ناجائز ہیں،کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔باغات کے اندر بھی تجاوزات ہو چکیں اِن باغات کی بحالی اور تجاوزات ہٹانے کا فیصلہ کئی بار ہوا۔ عمل نہ ہو سکا۔اب پنجاب حکومت کا حتمی فیصلہ بھی موخر ہو گیا تو مصطفےٰ کمال صاحب یہ مختصر داستان بربادی ہے۔کہنے اور بتانے کے لئے بہت کچھ ہے،لیکن مجبوری آڑے آتی ہے۔

