جنگ جیت چکے ہیں، بھارت سے مذاکرات کو تیار ہیں: شہباز شریف کاجنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک (رائٹرز/اے پی/اے ایف پی) وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ جیت چکا ہے اور اب خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان تمام حل طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشکل حالات میں جس طرح عالمی ادارے کی قیادت کی وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکی ہے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، انسانی بحران بڑھ رہے ہیں، دہشت گردی ایک بڑا خطرہ ہے، جبکہ ڈس انفارمیشن اور فیک نیوز نے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ان کے بقول موسمیاتی تبدیلی اب انسانیت کی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے اور کثیرالجہتی تعاون وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق امن، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جواب دیا۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ پاک فضائیہ نے ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں بھارت کے 7 طیارے مار گرائے، جبکہ مسلح افواج نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے برتری حاصل کرنے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی قبول کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ٹرمپ کی بروقت اور فیصلہ کن کوششوں نے جنوبی ایشیا کو بڑی جنگ سے بچایا، اسی لیے پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کیلئےنامزد کیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر چین، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ایران، قطر، آذربائیجان اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کو اس مشکل وقت میں سفارتی حمایت فراہم کی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش نہ صرف معاہدے کی شقوں کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنے عوام کے پانی کے حقوق کا ہر صورت دفاع کریگا۔

شہباز شریف نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ظلم و ستم کا خاتمہ ہوگا اور کشمیری عوام اقوام متحدہ کی نگرانی میں غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت حاصل کرینگے۔

فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں کھلی نسل کشی کر رہا ہے، عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور معصوم شہریوں کے خلاف ظلم کی ایک مہم جاری ہے۔ انہوں نے 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی شہادت غزہ کی جنگ کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی ہوں اور جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔

انہوں نے یوکرین جنگ کے پرامن حل کی بھی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن اور انصاف کے قیام کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتا رہے گا۔ افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ امن کا قیام پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے اور افغان حکومت کو انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کی پاسداری کے ساتھ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔

موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب نے پاکستان کو 34 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے نمٹنے کیلئےمالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بار بار قرضوں کے جال میں نہ پھنسیں۔

آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات کیے ہیں، اور چین کے عالمی حکمرانی کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو امن، انصاف اور ترقی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں