جکارتہ (اے ایف پی/رائٹرز/الجزیرہ) — انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں جمعہ کے روز ایک ہائی اسکول کمپلیکس کی مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 54 افراد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
جکارتہ پولیس کے سربراہ اسِپ ایڈی سوہیری کے مطابق دھماکا شمالی جکارتہ کے علاقے کلاپا گاڈِنگ (Kelapa Gading) میں اس وقت ہوا جب مسجد میں جمعہ کی نماز جاری تھی۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں طلبہ، اساتذہ اور مقامی رہائشی شامل ہیں۔
پولیس سربراہ نے کہا کہ”ابتدائی معلومات کے مطابق تقریباً 54 افراد زخمی ہوئے ہیں، کچھ کو معمولی اور کچھ کو درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئیں، متعدد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔”
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ زخمیوں کے لواحقین کے لیے دو قریبی اسپتالوں میں خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ معلومات اور امداد فراہم کی جا سکے۔
الجزیرہ کے مطابق پولیس نے ایک 17 سالہ طالب علم کو مشتبہ کے طور پر حراست میں لیا ہے جو خود بھی دھماکے میں زخمی ہوا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر امکان ہے کہ دھماکا کسی خود ساختہ دھماکہ خیز مواد کے نتیجے میں ہوا ہو، تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
اے بی سی نیوز کے مطابق زخمیوں کی تعداد 55 تک پہنچ سکتی ہے جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس اور مقامی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
پولیس سربراہ نے اپنے بیان میں کہا”ہم تفتیش کر رہے ہیں کیونکہ یہ واقعہ ابھی ابھی پیش آیا ہے، ہماری ترجیح عوام کی سلامتی اور واقعے کی وجوہات کا درست تعین ہے۔”

