جکارتہ (نمائندہ خصوصی)آسیان ریجنل فورم کے 32ویں اجلاس میں بھارت کے بے بنیاد الزامات پر پاکستان نے بھرپور اور دو ٹوک جواب دیتے ہوئے بھارت کی دوہری پالیسیوں، ریاستی دہشت گردی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور آبی معاہدوں کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا۔
جکارتہ میں منعقدہ 32ویں آسیان ریجنل فورم اجلاس میں بھارت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے امورِ خارجہ عمران احمد صدیقی نے کہا کہ ایک بار پھر ہمیں بھارت کی طرف سے وہی پرانی کہانی سننے کو ملی، جس میں مظلومیت کا لبادہ، آدھے سچ اور چالبازی سے تیار کردہ بیانیہ شامل تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا الزام لگاتے وقت بھارت یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اپنے ہاتھ علاقائی بدامنی اور پرتشدد کارروائیوں میں لت پت ہیں۔ انہوں نے کمانڈر کلبھوشن یادیو کا ذکر کیا جو پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا تھا اور بھارتی ریاستی اداروں کے تعاون سے حملے کروا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا خفیہ کردار صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں واضح ہے۔
مزید برآں، انہوں نے بھارت کی جانب سے غیر ملکی سرزمین پر ماورائے عدالت قتل کی مہم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنوری 2024 میں اس حوالے سے ناقابلِ تردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے۔
جموں و کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےعمران احمد صدیقی نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کی من پسند تشریح کر کے اصل حقائق سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خود بھارت ہی مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا اور بعد ازاں قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام حقِ خود ارادیت کے حقدار ہیں، اور بھارت کی جانب سے بار بار “اٹوٹ انگ” کہنے سے حقیقت نہیں بدلے گی۔
آبی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو محض اپنی مرضی سے معطل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بھارت کے اس رویے کو ریاستی وعدوں سے انحراف اور بین الاقوامی معاہدہ شکنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل ریاستی تخریب کاری کے مترادف ہے۔
انہوں نے بھارت میں آر ایس ایس کے نظریے پر مبنی انتہا پسند پالیسیوں کو خطے کے امن کیلئےشدید خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پانی کو ہتھیار بنا دیا جائے اور معاہدے اشتہاری پمفلٹ کی طرح پھاڑ کر پھینک دیے جائیں، تو سوال اٹھتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟
آخر میں ایڈیشنل سیکریٹری برائے امورِ خارجہ عمران احمد صدیقی نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، مگر ہمیشہ مسائل کا حل بات چیت اور امن سے تلاش کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

