کسی بھی ریاست کی مضبوطی اس کے قانون، اداروں اور نظامِ انصاف سے جانچی جاتی ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنی رٹ قائم نہ رکھ سکے یا دانستہ یا مصلحتاً ایسا نہ کرنا چاہے تو اسے ہمیشہ ایسے ہی سنگین مسائل کا سامنا ہوتا ہے، جیسے برسوں سے پاکستان کو ہے۔ پاکستان میں ریاستی رٹ کے زوال کی کہانی کسی ایک دن یا کسی ایک حکومت کی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور دہائیوں پر محیط بحران ہے، جس میں قانون کو بار بار پسِ پشت ڈال کر طاقتور گروہوں کے آگے جھکنے کی روایت مضبوط کی گئی۔ پچھلے ہفتے تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے بعد پنجاب پولیس کی ایک رپورٹ میں 2016 سے 2025 کے دوران اس جماعت کے مظاہروں میں شہید اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تفصیلات، عام شہریوں کی ہلاکتوں اور نجی و سرکاری املاک کو پہنچنے والے کروڑوں اربوں روپے کے نقصانات کا ذکر کیا گیا۔ اسی رپورٹ میں ہزاروں دہشت گردی کے مقدمات کے اندراج کا انکشاف بھی کیا گیا۔ یہ رپورٹ صرف پرتشدد مظاہروں اور ان کے جانی و مالی نقصانات کا ریکارڈ نہیں بلکہ حکومتوں اور ریاستی اداروں کی کمزور رٹ اور مصلحت پسندانہ پالیسیوں کا پول بھی کھولتی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر درج مقدمات کے بارے میں آج تک کوئی ایک واضح مثال نہیں دی گئی کہ ان میں ملوث کسی شخص کو قانون کے مطابق سزا ملی ہو۔ یہ اعداد و شمار محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہیں جس میں وہ ریاست نظر آتی ہے جو بار بار دباؤ کے سامنے جھکتی رہی، اپنے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بے یار و مددگار چھوڑتی رہی اور انصاف کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈالتی رہی۔
یہ مسئلہ صرف ایک جماعت تک محدود نہیں۔ ملک میں ایسے متعدد گروہ اور پارٹیاں ہیں جو کبھی سیاست کے نام پر اور کبھی مذہب کے لبادے میں جب چاہیں سڑکوں پر نکل آتے ہیں، شہری زندگی مفلوج کر دیتے ہیں، تشدد کرتے ہیں اور ریاستی اداروں کو چیلنج کرتے ہیں۔ ہر بار یہی ہوتا ہے: حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے، معاہدے کرتی ہے، دباؤ کے آگے سر جھکاتی ہے، اور کچھ عرصے بعد وہی گروہ پھر سڑکوں پر ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کا ریاست پر اعتماد ٹوٹ گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حوصلہ بھی کمزور ہو چکا ہے۔
اسی جماعت کا مشہور فیض آباد دھرنا 2017 اس رویے کی ایک بڑی مثال ہے، جب اس نے وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کیا اور دباؤ کے تحت ایک وفاقی کا استعفیٰ لیا گیا۔ مقدمات معطل کرنے اور رعایتیں دینے کا معاہدہ ہوا، شرکا کو “اپنے” قرار دے کر رقوم تقسیم کی گئیں اور یوں طاقت کے ذریعے ریاستی فیصلے تبدیل کرائے گئے۔ اس دھرنے کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اُس وقت کی حکومت کی مخالفت میں عمران خان سمیت متعدد سیاسی جماعتوں نے اس بلاجواز احتجاج کی حمایت کی۔ یہی کہانی 2021 میں دہرائی گئی، جب عمران خان کی اپنی حکومت میں پہلے اس جماعت پر پابندی لگائی گئی اور پھر دباؤ میں آ کر نہ صرف مذاکرات کیے گئے بلکہ تمام پرتشدد کارروائیوں اور نقصانات پر چشم پوشی کرتے ہوئے معاہدہ کیا گیا اور پابندی بھی ہٹا دی گئی۔ اب جب اس جماعت نے ایک بار پھر اپنی تاریخ دہرائی اور ریاست نے اس کے خلاف کارروائی کی تو عمران خان نے نہ صرف حکومتی اقدامات کی مذمت کی بلکہ اپنی جماعت کو باقاعدہ احتجاج کی ہدایت بھی کی۔ یہ ایک مسلسل طرزِ عمل ہے جس نے قانون کو کمزور اور دباؤ ڈالنے والوں کو مزید طاقتور بنایا۔
ان معاہدوں کا ایک اور خطرناک پہلو ان کی غیر شفافیت ہے۔ عوام کو نہ یہ پتا ہوتا ہے کہ حکومت نے کیا رعایت دی، نہ پولیس اہلکاروں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قربانیوں کا انجام کیا ہوا۔ جب قانون نافذ کرنے والے یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھی مارے جاتے ہیں، مگر قاتل کچھ عرصے بعد دوبارہ طاقتور ہو کر سامنے آتے ہیں تو ان کا مورال گر جاتا ہے۔ عوام بھی جانتے ہیں کہ اگر کوئی عام شہری جرم کرے تو فوراً سزا ملتی ہے، لیکن اگر کوئی گروہ مذہب یا سیاست کے نام پر سڑکوں پر تشدد کرے تو اسے رعایت ملتی ہے۔ یہی دوہرا معیار ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
اگر ایک مسئلہ ان گروہوں کا وجود ہے تو اس سے بڑا مسئلہ ریاست کا ان کے سامنے بار بار جھک جانا ہے۔ کسی بھی مضبوط ملک میں قانون کی بالادستی غیر مشروط ہوتی ہے۔ احتجاج کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، مگر تشدد، بلیک میلنگ اور ریاستی اداروں پر حملے کسی جمہوریت میں برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ اس لیے اب یہ پیغام واضح ہونا چاہیے کہ جو بھی گروہ قانون ہاتھ میں لے گا، چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی، اس کے اور اس کے سہولت کاروں کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ ریاست کو دوہرے معیار ترک کرنے ہوں گے — قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔
ان حالات میں ذمہ داری صرف ریاست کی نہیں بلکہ سیاسی اور مذہبی قیادت کی بھی ہے۔ مین اسٹریم سیاسی جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں اپنے کارکنوں کو تشدد پر اکسانا بند کریں۔ احتجاج کو جمہوری روایت کے مطابق چلایا جائے، عوامی مفاد کو ذاتی سیاسی مفاد پر ترجیح دی جائے اور کارکنوں کو ذاتی یا جماعتی ایجنڈے کے لیے قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔ قیادت کا اصل کردار اپنے پیروکاروں کو نظم و ضبط اور آئینی دائرے میں رکھنا ہے، نہ کہ انہیں ریاست کے خلاف صف آراء کر دینا۔ ان جماعتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آج جو کچھ وہ کریں گے، کل جب وہ خود اقتدار میں ہوں گے تو انہی رویوں کا سامنا انہیں بھی کرنا پڑے گا۔ یہی ہماری سیاسی تاریخ ہے اور یہی وہ وجہ ہے جس نے ملک کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔
اگر ریاست واقعی اپنی رٹ بحال کرنا چاہتی ہے تو ماضی کو پیچھے چھوڑ کر اب ایک فیصلہ کن پالیسی اپنانی ہوگی: کسی گروہ کے ساتھ خصوصی سلوک نہیں، تشدد پسندوں سے معاہدوں کے بجائے عدالتوں میں تیز رفتار کارروائی، اور پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو اعداد و شمار کے بجائے عملی انصاف میں بدلنا ہوگا۔ وزرا اور حکومتی نمائندوں کو بھی مصلحت پسندی ترک کرنی ہوگی؛ احتجاج کے دوران “اگر ختم کر دو تو کچھ نہیں کہا جائے گا” جیسے بیانات دراصل قانون کی موت کے مترادف ہیں۔ قانون کو کمزور کر کے ریاست کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔
یہ وہ موڑ ہے جہاں ریاست کو یا تو دباؤ کے سامنے ہمیشہ کے لیے جھک جانا ہے یا پھر ایک بار حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ ملک قانون سے چلے گا، کسی گروہ کے رحم و کرم پر نہیں۔ اگر اس بار بھی ماضی کی طرح سمجھوتہ کیا گیا تو یہ گروہ مزید طاقتور ہوں گے، پولیس اہلکار اور عام شہری قربانیاں دیتے رہیں گے، جانی و مالی نقصانات کے اعداد و شمار بڑھتے جائیں گے، اور عوام کا ریاست پر باقی ماندہ اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔ لیکن اگر ریاست نے شفاف، دوٹوک اور بے لچک انداز میں قانون کو سب پر یکساں لاگو کیا تو یہی وہ لمحہ ہوگا جب پاکستان میں پہلی بار ریاست کی رٹ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن کر سامنے آئے گی اور یہ وہ موڑ ہوگا جو تاریخ بدل سکتا ہے۔

