جہلم (نمائندہ خصوصی) متنازع ویڈیو بیان کے بعد جہلم پولیس نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو امنِ عامہ (تھری ایم پی او) آرڈیننس کے تحت گرفتار کر کے 30 روز کیلئے جیل منتقل کر دیا ہے جبکہ ان کی اکیڈمی کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے حکم پر گرفتاری عمل میں لائی گئی، انتظامیہ کے مطابق اقدام امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے کیلئےضروری تھا۔
جہلم کے ڈپٹی کمشنر محمد میثم عباس اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) احمد محی الدین نے انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ پولیس کے مطابق مرزا کو ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا اور انہیں 30 دن کیلئےجیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس دوران ان کی اکیڈمی کو بھی تالے لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ روز علمائے کرام کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے ملاقات کی تھی اور مرزا کے ایک حالیہ ویڈیو بیان پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس بیان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ نے امن و امان کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی۔
یاد رہے کہ محمد علی مرزا جہلم شہر کے مشین محلے کے رہائشی ہیں اور اپنے لیکچرز اور خطابات باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے سبسکرائبرز کی تعداد 31 لاکھ سے زیادہ ہے۔
ایم پی او آرڈیننس کی دفعہ 3 حکام کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ایسے کسی بھی شخص کو گرفتار کر سکیں جس سے امنِ عامہ کو نقصان پہنچنے یا عوامی نظم متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔یہ پہلا موقع نہیں جب محمد علی مرزا کو متنازع بیانات کے باعث قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ سال محرم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشے پر ان سمیت 17 علما کے بیانات نشر کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔مارچ 2021 میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے۔مئی 2020 میں مبینہ توہین آمیز بیانات کے الزام میں انہیں جہلم پولیس نے گرفتار کیا تھا تاہم بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
انتظامیہ کے مطابق انجینئر محمد علی مرزا کو حراست میں لینے کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری اور اکیڈمی کی سیلنگ پر عوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

