حلف، حوصلہ اور بہادری۔۔۔!

زندگی میں انسان بڑوں سے سیکھتا ہے، یعنی اپنے بڑوں کو جو کرتے دیکھا ہوتا ہے انسان ویسا ہی کرتا ہے، لیکن کچھ چیزیں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی وقت اچانک ”سمجھ“ میں آجاتی ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ گزشتہ ہفتے ہوا۔ حلف ہم سب ہی اٹھاتے ہیں، زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی مقام پر ہمیں حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر جھوٹا حلف اٹھانے کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے، مگر ہماری عدالتوں میں جھوٹا قرآن اٹھانے کی شکایت بہت بڑھ گئی تھی، لہٰذا اب عدالتوں میں قرآن کی بجائے دِل پر ہاتھ رکھ کر حلف اُٹھوایا جاتا ہے کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا، یعنی اللہ جو کہ شہ رگ سے بھی قریب ہے، اسے حاضر اور ناظر جان کر کہتا ہوں کہ وہی کروں گا جو ”اُس نے“ کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریمؐ نے خود عمل کرکے ہمیں راستہ دکھایا ہے، لیکن حلف اٹھانے کے بعد دھڑلے سے جھوٹ بولا جاتا ہے، کسی عدالت میں کھڑے ہو کر ”کسی لالچ یا طاقتور کے دباؤ“ میں آ کر جھوٹا حلف اُٹھا لیا جاتا ہے۔ مہذب معاشروں میں جھوٹ کو برا نہیں بلکہ بہت ہی برا سمجھا جاتا ہے، جھوٹ بولنا تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اسی جڑ کی وجہ سے ”برائیوں، خرابیوں کی بنیاد“ پڑتی ہے۔ تمہید لمبی ہوگئی، یہ سب کچھ آج کیوں ذہن میں آیا؟ اس کی وجہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی وہ تقریب حلف وفاداری ہے، جس میں سپریم کورٹ کے ”سینئر پیونی“ یعنی سینئر موسٹ جج سید منصور علی شاہ نے وکلاء سے حلف لیا، خطاب کیا اور وکلاء کو حلف کی اہمیت بتائی۔ کاش حلف کی یہ اہمیت ہمارے بچوں کے پرائمری کلاسوں کے نصاب میں شامل کر دی جائے تاکہ اُنہیں حلف کے وہ معنی بتائے اور سکھائے جاسکیں جو اِس دن سید منصور علی شاہ نے وکلاء کو سمجھائے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب میں سید منصور علی شاہ نے کہا کہ انہیں صرف ”سینئر پیونی“ کہا جائے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی ہمارے چیف جسٹس ہیں، اللہ اُنہیں صحت اور زندگی دے، میں اِسی پر خوش ہوں۔ مجھے ”سینئر پیونی جج“ ہی کہیں ورنہ نظام ”اَپ سیٹ“ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ چیزیں بہتری کی طرف جائیں گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے وکلاء سے حلف لیتے ہوئے ”حلف کی روح“ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”حلف صرف الفاظ نہیں ہیں،بلکہ اس کے بہت گہرے معنی ہیں۔ حلف لینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اوپر ذمہ داری لے رہے ہیں کہ ہم ”انصاف، سچائی اور رول آف لاء“ کے لئے کام کریں گے۔ یہ آپس کی بات نہیں ہے، کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلف لیتے ہیں، یعنی اس میں اللہ تعالیٰ بھی شامل ہیں۔اس کو صرف لفظ مت سمجھیں یہ کافی گہری چیز ہے، گہرے معنی رکھتی ہے۔ یہ حلف دراصل ایک ”شیلڈ یعنی ڈھال“ بھی ہے۔ اگر بار، بنچ اور پروفیشن کو کھڑا ہونا ہے تو یہ حلف اس کی ایک ڈھال ہے۔ اسے پڑھ لیں تو یہ ڈھال بن جاتی ہے، تحفظ بھی مل جاتا ہے“۔ انہوں نے کہا حلف صرف ایک وعدہ نہیں ہے یہ ایک ”سیکرڈ ٹرسٹ“ بھی ہے،حلف کے ساتھ کھڑے رہیں گے تو کبھی پرابلم میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا ہم نے ہائی سکول میں ایک ڈرامہ پڑھا تھا اس پر فلم بھی بنی ”اے مین فار آل سیزن“ جس میں انگلینڈ کے چانسلر سر چارلس مور سے جب کہا گیا کہ وہ کنگ ہیری Xlll کی شادی پر مان جائے تو انہوں نے انکار کر دیا ان کا سر قلم کر دیا گیا،مگر انہوں نے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے پیشے میں ”نالج“ بہت ضروری ہے، لیکن اگر حوصلہ نہیں ہے تو وکیل مت بنیں، کوئی اور پروفیشن اپنا لیں، حوصلہ اور بہادری ہی ساری کہانی ہے۔ ناانصافی کے سامنے کھڑا ہونا ہے،عدم تحفظ کا شکار لوگوں کا تحفظ کرنا ہے۔ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہ سب کچھ بہادری اور حوصلہ مانگتے ہیں، آپ پر دباؤ آئیں گے، لالچ دیا جائے گا، کورٹ روم میں بھی دباؤ آئے گا۔ بہت سے مسائل ہوں گے، مگر آپ نے اپنے حلف کو نہیں چھوڑنا، حلف سے نہیں ہلنا۔

جسٹس سید منصور علی شاہ نے تو اِس حلف کی بات کی ہے جو کہ وکیل اپنے مقدس پیشے کے حوالے سے اٹھاتے ہیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے، کیونکہ وکیلوں نے اس ”کمزور انسان“ کا تحفظ کرنا ہوتا ہے جس پر ظلم ہوا ہوتا ہے اور جو عدالت میں انصاف مانگنے پہنچتا ہے۔ چاہے وہ انصاف حکومت وقت کے خلاف مانگا جا رہا ہو، کسی طاقتور وڈیرے، وزیر، سفیر،اعلیٰ افسر کے ظلم کے خلاف مانگا جا رہا ہو۔ یہ وکیل ہی ہیں جو ایک کمزور انسان کا کیس لڑ کر اسے انصاف دلانے کی ”کوشش“ کرتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے صحیح کہا کہ اگر بہادری اور حوصلہ ہے تو اس میدان میں قدم رکھو،اگر بہادری اور حوصلہ نہیں ہے تو کوئی اور پروفیشن اختیار کرو، یہ پروفیشن یقینا ”بزدلوں“ کے لئے نہیں ہے۔

کچھ اور حلف بھی ہیں، جیسے ڈی ایم جی افسر، پولیس افسر، کسٹم افسر، انکم ٹیکس، محکمہ خارجہ، محکمہ خزانہ، محکمہ ریلوے اور دیگر محکموں کے افسر حلف اٹھاتے ہیں، لیکن کیا یہ سب اس حلف کی پاسداری کرتے ہیں۔ ان میں سے ”کتنے افسر“ اپنا کام ایمانداری سے انجام دیتے ہیں، کتنے افسروں نے اس پاک سرزمین کی بہتری، ترقی میں اپنا کوئی حصہ ڈالا، ماسوائے اپنی جیبوں میں پیسے ڈالنے، اپنے بچوں کو بیرون ملک پڑھانے، غیر ملکی شہریت حاصل کرنے، اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کے اور کیا کِیا، کیا یہ حلف کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ایک حلف تو ایسا ہے کہ جس کے بارے میں لکھتے ہوئے ”پَر جلتے ہیں“ لہٰذا اس حلف کے بارے میں بات کرنے سے بہتر ہے کہ زبان بند رکھی جائے، کیونکہ اپنی عزت، جان و مال کی حفاظت تو خود ہی کرنی ہے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے تقریب میں علامہ اقبالؒ کا ایک شعر بھی پڑھا تھا۔ وہ پوری قوم کو اچھی طرح سے یاد کر لینا چاہئے:

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور

(کرگس گدھ کو کہتے ہیں جو فضا میں اُڑتے ہوئے مردار ڈھونڈتا ہے جبکہ شاہین اپنا شکار خود کرتا ہے)

ایک چھوٹا سا اضافی نوٹ یہ بھی ہے کہ جہاں سارا سال بہت سارے دن مناتے ہیں۔ وہاں ”حلف کا دن“ بھی منائیں۔ اس دن قومی اسمبلی میں وزیراعظم، تمام وزراء، تمام ممبران بشمول اپوزیشن حاضر ہوں اور سپیکر قومی اسمبلی ان سے ”لائیو حلف“ لیں پوری قوم بھی ساتھ کھڑی ہو کر حلف لے کہ ہم پاکستان کے روشن مستقبل، اس کی بقاء، ترقی، تحفظ، عوام کے بہتری کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں