واشنگٹن (اے پی/رائٹرز/اے ایف پی/الجزیرہ/گارڈین ) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے اقتدار چھوڑنے اور غزہ کا کنٹرول منتقل کرنے سے انکار کیا تو اسے “مکمل تباہی” یا صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جاری اپنی 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے تناظر میں کہا کہ اگر حماس اقتدار چھوڑنے سے انکار کرے تو اسے سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
حماس نے منصوبے کے بعض نکات کو مشروط طور پر قبول کرنے کا اشارہ دیا مگر ڈس آرم کیے جانے اور فوری طور پر اقتدار چھوڑنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ حماس کے سینئر رہنما موسٰی ابو مرزوق نے کہاہے کہ کچھ تقاضے عملی طور پر فوراً پورے کرنا ممکن نہیں۔
صدر ٹرمپ نے سی این این کے ایک سوال پر کہا کہ اگر حماس اقتدار میں رہنے پر اصرار کرتی ہے تو اسے “مکمل تباہی” کا سامنا ہوگا اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ اس بیان کے دوران وائٹ ہاؤس نے 20 نکاتی دستاویز جاری کی جس میں حماس کی بے ہتھیار کرنے، یرغمالیوں کے تبادلے، اور غزہ کے لیے ایک عبوری ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔
حماس کے جواب میں گروپ نے بعض نکات پر مذاکراتی انداز اپنایا اور زندگی بچانے، یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کی فراہمی جیسے امور پر بات چیت کی آمادگی ظاہر کی، مگر حماس نے فوراً غیر مسلح ہونے یا غزہ کی حکمرانی مکمل طور پر چھوڑنے کی شرط تسلیم نہیں کی۔ موسٰی ابو مرزوق نے میڈیا انٹرویوز میں کہا کہ قیدیوں اور لاشوں کی 72 گھنٹوں میں حوالگی جیسی شرائط زمینی حقائق کی بنا پر مشکل ہیں اور غزہ کے مستقبل کے فیصلوں کا تعلق ایک قومی فریم ورک سے ہے جس میں حماس بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ابتدائی طور پر اس منصوبے کی حمایت کی ہے، اور امریکی کوششیں جنگ بندی کے لیے جاری ہیں، تاہم خطے میں سیاسی اختلافات، فوجی کارروائیاں اور نفاذ کے عملی مسائل برقرار ہیں۔
یہ پیش رفت اس تنازعے میں ایک نیا موڑ ہے — ایک جانب واشنگٹن کا وسیع امن منصوبہ اور سخت انتباہات، اور دوسری جانب حماس کی مشروط آمادگی اور زمینی حقائق کے باعث ان نکات کا عملی نفاذ مستقبل میں اہم سوال ہوگا۔

