غزہ(رائٹرز) فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غزہ سے متعلق قرارداد مسترد کر دی۔حماس ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات پورے نہیں کرتی اور غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرتی ہے، جبکہ بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اسے غیرجانبدار نہیں رہنے دے گی۔
حماس رہنما نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف ہر طرح کی مزاحمت کو جائز سمجھتے ہیں اور ہتھیار ڈالنے کو مسترد کرتے ہیں۔واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور کر لی گئی، جس کے حق میں پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں غزہ کیلئے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور غزہ میں عبوری حکومت کے قیام کے نکات بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی استحکام فورس میں انڈونیشیا، آذربائیجان سمیت مسلم ممالک شامل ہوں گے، جو متحدہ کمانڈ کے تحت غزہ میں قیامِ امن، شہریوں کے تحفظ اور امدادی راہداریوں کی نگرانی کریں گے۔اسرائیل مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرے گا، جب کہ تربیت یافتہ فلسطینی پولیس سرحدی علاقوں میں ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

