حکومت صحت کے نظام کی مضبوطی کیلئے بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہے:سونیا سدھو

برامپٹن/اوٹاوا (کینیڈین میڈیا رپورٹس، ہاؤس آف کامنز ہیلتھ کمیٹی)برامپٹن ساؤتھ سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو نے ہاؤس آف کامنز کی ہیلتھ کمیٹی میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ حکومتِ کینیڈا ملک بھر میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ وفاقی اقدامات سے صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے، طبی تحقیق اور کلینیکل تعلیم کو فروغ دینے اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔

سونیا سدھو نے کہا کہ بجٹ 2025 کے تحت کینیڈا بین الاقوامی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کیلئے اہم سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس میں کینیڈین انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ ریسرچ کیلئےفنڈز شامل ہیں تاکہ بین الاقوامی ڈاکٹریٹ طلبہ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپس کی معاونت کی جا سکے، جبکہ جامعات کو بین الاقوامی اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتی کیلئےوسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ہیلتھ کینیڈا کے حکام کے مطابق بین الاقوامی تحقیقی مہارت کو متوجہ کرنے کیلئے 1.7 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جس سے صحت کے تعلیمی تحقیقی مراکز کو اعلیٰ درجے کے محققین اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز لانے میں سہولت ملے گی۔ اس سرمایہ کاری سے کلینیکل ٹرائلز، نئی علاجی جدت اور مریضوں کی نگہداشت میں بہتری آئے گی۔

سونیا سدھو نے بجٹ 2025 میں اعلان کردہ 5 ارب ڈالر کے ہیلتھ انفراسٹرکچر فنڈ کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت صوبوں اور علاقوں میں اسپتالوں اور میڈیکل اسکولوں کی توسیع اور جدید کاری کی جائے گی۔ ان کے مطابق صحت کے کارکنوں کی کمی دور کرنے کیلئے تعلیمی اور جسمانی انفراسٹرکچر کی دستیابی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے امیگریشن پروگرامز پر بھی بات کی .صوبے اور علاقے صحت کے شعبے کے کارکن بھرتی کر رہے ہیں۔ آئی آر سی سی حکام کے مطابق صوبائی نامزدگی پروگرامز اور علاقائی امیگریشن پائلٹس اس ضمن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سونیا سدھو نے کہا کہ یہ اقدامات کینیڈین عوام کو بروقت اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہونگے اور طویل مدت میں تحقیق اور جدت سے مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔