حیفہ ریفائنری پر ایرانی حملہ: اسرائیل کی انرجی اور ملٹری سیکیورٹی کو پہلا حقیقی دھچکا

14 جون کی رات ایران نے اسرائیل کے شمالی صنعتی علاقے حیفہ میں واقع اہم تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں حیفہ آئل ریفائنری کے کچھ حصے اور اس سے جڑی تیل کی ترسیلی پائپ لائنز اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ ریفائنری مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی، لیکن حملے سے اس کی استعداد اور سپلائی کے عمل پر واضح اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حیفہ ریفائنری، جسے بازان گروپ چلاتا ہے، اسرائیل کی سب سے بڑی ریفائننگ تنصیب ہے۔ 2023 کی رپورٹ کے مطابق، یہ سالانہ تقریباً 9.8 ملین ٹن خام تیل کو پراسیس کرتی تھی اور ملکی پیٹرولیم ضروریات کا تقریباً 65 فیصد فراہم کرتی تھی، جن میں پیٹرول، ڈیزل، جیٹ فیول اور ایل پی جی شامل ہیں۔ ان مصنوعات کا استعمال صرف عام شہریوں میں نہیں بلکہ اسرائیلی فضائیہ، بکتر بند بریگیڈز اور دیگر دفاعی یونٹس میں بھی ہوتا ہے۔

اسرائیلی وزارت توانائی کی دستاویزات میں پہلے ہی یہ واضح کیا گیا تھا کہ جنگ کی صورت میں حیفہ ریفائنری کی مسلسل کارکردگی اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت اور تیاری کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ رینڈ کارپوریشن نے 2022 میں خبردار کیا تھا کہ “حیفہ پر میزائل حملہ اسرائیل کی قلیل مدتی فوجی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔” سابق موساد سربراہ ایفرائیم ہلیوی نے 2019 میں کہا تھا کہ “اگر حیفہ ریفائنری نشانہ بنی تو شمالی اسرائیل ہفتوں کے لیے مفلوج ہو سکتا ہے۔”

ریفائنری کے گرد موجود صنعتی زون، جہاں پلاسٹک، کھاد اور کیمیکل کی صنعتیں بھی واقع ہیں، حملے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ یہ زون اسرائیل کی جی ڈی پی اور برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسرائیل اپنا خام تیل بنیادی طور پر آذربائیجان، قازقستان، برازیل اور گبون سے درآمد کرتا ہے، جو باکو-تبلیسی-جیہان پائپ لائن کے ذریعے اشکلون بندرگاہ پر پہنچتا ہے اور وہاں سے پائپ لائن یا ریلوے کے ذریعے حیفہ اور اشدود ریفائنریوں تک منتقل ہوتا ہے۔ اشکلون سے حیفہ تک کی سپلائی لائن کے کچھ حصے بھی اس حملے سے متاثر ہوئے۔

لائیڈز لسٹ انٹیلیجنس کے مطابق، حیفہ ریفائنری کے ذریعے اسرائیل ہر ماہ 30 سے 35 فیصد ریفائنڈ آئل حاصل کرتا ہے، جب کہ باقی مقدار اشدود ریفائنری یا ایلات-اشکلون پائپ لائن سے آتی ہے۔ لیکن ایلات کی بندرگاہ پہلے ہی یمنی حوثیوں کے حملوں کے باعث متاثر ہو چکی ہے، جس سے متبادل سپلائی لائنز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

اب جبکہ حیفہ ریفائنری کی کارکردگی متاثر ہو چکی ہے، اسرائیل کو صرف اشدود ریفائنری اور محدود سٹریٹجک ذخائر پر انحصار کرنا پڑے گا، جو طویل جنگ کی صورت میں ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔ وزارت توانائی نے 2022 میں تسلیم کیا تھا کہ اشدود ریفائنری اکیلے ملکی طلب، خاص طور پر جنگی حالات میں، پوری نہیں کر سکتی۔

اس حملے نے اسرائیل کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ دی گارڈین اور دی ٹائمز کے مطابق حیفہ، تل ابیب اور دیگر شہروں میں رات بھر سائرن بجتے رہے، پناہ گاہیں بھر گئیں، اور عوام میں شدید خوف و اضطراب پھیل گیا۔ دی ٹائمز نے لکھا: “اب سوال یہ نہیں کہ کس نے پہلے حملہ کیا، بلکہ یہ ہے کہ کون زیادہ نقصان برداشت کر سکتا ہے۔”

دلچسپ امر یہ ہے کہ حیفہ ریفائنری پہلے ہی اسرائیل میں ماحولیاتی اور صحت کے بحران کی وجہ سے متنازع تھی۔ حکومت نے اس کی ممکنہ بندش کے منصوبے بنائے تھے، لیکن وزارت معیشت نے اسے “سٹریٹجک اہمیت کا حامل” قرار دے کر ان منصوبوں کو روک دیا۔ اب یہی تنصیب، جو برسوں سے داخلی بحث کا مرکز تھی، ایران کے حملے کے بعد جزوی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔

ایران کا یہ حملہ نہ صرف اس کی فوجی صلاحیت کا اظہار ہے بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ تہران اسرائیل کے سٹریٹجک اثاثوں کو نشانہ بنانے کی طاقت اور ارادہ رکھتا ہے۔ اسرائیل اس وقت ایندھن کی سپلائی، دفاعی تیاری، اور عوامی اعتماد تینوں محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے۔ اگر جنگ جاری رہی تو اس کا اثر صرف دفاعی نہیں بلکہ اقتصادی اور سیاسی شعبوں پر بھی گہرا پڑے گا۔

حیفہ ریفائنری پر حملہ صرف ایک صنعتی واقعہ نہیں، بلکہ اسرائیل کے دفاعی اور توانائی نظام کو چیلنج کرنے والی ایک بڑی سٹریٹجک پیش رفت ہے، جو ایران-اسرائیل کی جاری تھکن کی جنگ (War of Attrition) میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں