خواتین کا عالمی دن اور ہمارا ”صنف نازک“ کے ساتھ رویہ!

8مارچ کو خواتین کا عالمی دن گزرا، اس سال بھی یہ دن رمضان المبارک میں آیا، اس لیے قوی اُمید تھی کہ شاید ”خواتین مارچ“ نہیں ہوں گے، اور دوسرا ایران اسرائیل جنگ کا ماحول بھی تھا، اور تیسر اسرکار نے بھی ”اجتماعات “ پر پابندی لگا رکھی ہے، اس لیے بھی سوچا گیا کہ شاید اس سال خواتین مارچ نہ ہوں مگر ہمارے دارالحکومت اسلام آباد میں عورت مارچ کے لیے جمع ہونے والے افراد کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے ہمراہ پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست لیا ،،، ساتھ ہی ’عورت مارچ‘ میں شامل خواتین کے علاوہ کوریج کے لیے موجود بعض صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیاجنھوں نے دوران حراست تشدد کا دعویٰ بھی کیا ۔ایک خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ ہمیں اُس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ پولیس ایکشن کے بعد تھانے میں گئی تھیں۔ اس دوران صحافیوں کو زیرِ حراست خواتین کے ساتھ ایک کمرے میں بند کیا گیا۔جس کے بعد نہ صرف خواتین پولیس اہلکار وں نے تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ مرد پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کے الزامات لگے۔ تادم تحریر اگلے دن یعنی 9مارچ کو پولیس نے 26خواتین کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا،،، جبکہ باقی 50سے زائد خواتین ابھی حوالات میں ہی ہیں۔

یہ خبری احوال بتانے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کو خبر سے آگاہ کروں بلکہ یہ ہے کہ جو ریاست انڈیا کو گزشتہ سال شکست دے چکی، اور اب افغانستان کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے، وہ پانچ سات درجن خواتین سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں؟ کیوں ریاست آسان کام کو مشکل بنا دیتی ہے؟ کیوں خواتین مارچ کی منتظمین کو این او سی جاری نہیں کیے گئے،،، کیوں وہ ایک ماہ تک سرکاری دفاتر کے چکر لگاتی رہیں،،، اور کیوں نوبت یہاں تک آئی کہ اُنہیں پولیس وین میں تھانوں میں لے جایا گیا اور 20افراد کی گنجائش والی حوالات میں 80،90خواتین کو بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا گیا۔ سمجھ سے باہر ہے کہ نہ جانے موجودہ حکومت ہر پرامن مارچ کرنے والے سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟ کہ فوراََ طیش میں آجاتی ہے۔۔۔

اور پھر دنیا بھر میں ہم پہلے ہی خواتین کے حقوق کے حوالے سے نہایت بری رینکنگ رکھتے ہیں،،، اور تبھی دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں خواتین کو بظاہر عزت اور احترام کے بلند دعوے دیے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر ان کی زندگی کئی طرح کے استحصال سے گھری ہوئی نظر آتی ہے۔ آئینِ پاکستان خواتین کو مساوی حقوق دیتا ہے، مگر معاشرتی رویے، فرسودہ روایات اور کمزور قانون پر عملدرآمد کے باعث خواتین آج بھی انصاف اور برابری کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اگر ہم دیہی علاقوں کی طرف نظر ڈالیں تو وہاں خواتین کی زندگی اور بھی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ بہت سی خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کم عمری کی شادیاں، ونی اور سوارہ جیسی رسمیں آج بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ یہ رسمیں عورت کو ایک انسان کے بجائے ایک چیز سمجھنے کی سوچ کو ظاہر کرتی ہیں۔ بعض علاقوں میں خواتین کو وراثت میں حصہ دینے سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام نے واضح طور پر عورت کو اس کا حق دیا ہے۔

آپ یقین مانیں ہمارے گھروں میں جو عورت کے ساتھ سلوک ہوتا ہے اُس حوالے سے ہم نے کبھی اچھی خبر نہیں سنی،،، ایک دفعہ میں نے چھ مہینے تک ہر روز کراچی کے اخباروں کے مقامی صفحات میں صرف عورتوں کی قتل کی خبروں کی تلاش میں گزارا۔ چھ مہینے میں شاید ہی کوئی ناغہ ہوا ہو جس دن کراچی میں عورت قتل نہیں ہوئی۔کبھی گولی مار کے، کبھی ہاتھوں سے گلا دبا کے، کبھی شہ رگ کاٹ کے، کبھی باورچی خانے میں جلا کر، کبھی بوری میں بند کر کے، کبھی ٹکڑے کر کے ندی میں بہا دیا تو کبھی گھر کے صحن میں دبا دیا۔ہمارے ہمدرد مرد جب یہ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لیے جان بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ گھر سے نہ نکلیں یا کسی اجنبی سے نہ ملیں تو وہ یہ نہیں بتاتے کہ 80 فیصد لڑکیوں کو قتل ہونے کے لیے گھر سے نہیں نکلنا پڑتا۔لڑکی کا قتل ہمارے مثالی خاندانی نظام کا لازمی حصہ ہے اور اس سے پہلے ایک گہری خاموشی مردانہ معاشرتی نظام کی اساس ہے۔ تو خاموش رہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ آپ کی خاموشی کی وجہ سے ایک اور لڑکی قتل ہونے جا رہی ہے۔اس لیے بچانا بھی آپ نے ہی ہے۔۔۔

لیکن فی الحال تو دنیا کے سامنے ہم خواتین کے معاملے میں اس قدر تنگ نظر ہو چکے ہیں کہ ورلڈ اکنامک فورم کی شائع شدہ جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق پاکستان 153 ممالک کی فہرست میں 151ویں نمبر پر ہے اور یوں پاکستان اس میدان میں صرف عراق اور یمن سے آگے ہے۔پھر معاشی طور پر خودمختار خواتین کے حوالے سے ہماری رینکنگ 153ممالک کی فہرست میں 150ویں نمبر پر ہے، پھر خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ہمارا نمبر 143واں ہے،پھر خواتین کی صحت کی سہولیات کے حوالے سے 149واں ہے، پھر خواتین کے سیاست میں حصہ لینے کے حوالے سے ہم93ویں نمبر پر ہیں، زچگی کے دوران شرح اموات میں ہم تیسرے نمبر پر ہیں، یہی نہیں ہم جنوبی ایشیا میں بھی خواتین کو حقوق دینے میں آخری نمبر پر ہیں۔اور پھر اولمپک گیمز میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ہمارے ملک کا نمبر 111ہے۔

لہٰذاجب ایسی صورتحال ہو تو ہم دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلنا چاہیے، اپنے ملک کا مثبت امیج بحال کرنا چاہیے، لیکن اس کے برعکس ہم تو کسی کو جائز حق دینے کے لیے بھی تیار نہیں رہتے۔ اگر کوئی کمتر اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہوجائے تو ہم اُسے دبانے کی شدید کوشش کرتے ہیں تاکہ ہماری اُجارہ داری ختم نہ ہو سکے۔ ہم تو اس بات کا بھی خیال نہیں کرتے کہ اگلے بندے (خواتین ) پر اس حوالے سے کیا گزر رہی ہوگی۔ ہم جب کاروکاری کرتے ہیں تو سسٹم خاموش رہتا ہے، 18سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں کرتے ہیں تو سسٹم خاموش رہتا ہے، خواتین کی حفاظت کے لیے ہمیں کوئی بہتر کام کرنا پڑے گا۔ جو لڑکیاں کھیل کے میدان میں جاتی ہیں اُنہیں تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ اور جو لڑکیاں اگر اپنے حقوق کے لیے میدان میں آگئی ہیں تو انہیں ہم جینے نہیں دیتے۔

بہرحال ہمیں اُن خواتین کو بھی دیکھا چاہیے جو پاکستان کی شان بنیں، جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے پاکستان نے کتنی قربانیاں دی ہیں، ان میں محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بے نظیر بھٹو، عاصمہ جہانگیر، بیگم بلقیس ایدھی، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم وقارالنساءنون ، مریم نواز، یاسمین راشد، فہمیدہ مرزا شامل ہیں،،، کیا یہ خواتین مردوں سے کم ہیں،،، جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ یہ وہ خواتین ہیں جن پر مردوں کے مقابلے میں بھی کم کرپشن کے کیسز ہیں، ،، پھر ملالہ یوسف زئی، ارفع کریم ، شرمین عبید چنائے، پروین شاکر، بانو قدسیہ وغیرہ جیسی خواتین نے بطور پاکستانی ایسے کام کیے کہ سر فخر سے بلند ہوگیا،،، میری اس حوالے سے نئی کتاب ”پاکستان کی 101باکمال خواتین“بھی اشاعت کے مراحل میں ہے،،، جس میں صنف نازک کی پاکستان کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے،،، اُمید ہے راقم کی یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی۔ اور اس کتاب کو بھی لکھنے کا میرا مقصد یہی ہے کہ جن خواتین نے پاکستان کے لیے کام کیا ہمیں اُن کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے،،،ا ور خواتین کی ہمت بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں ہمارانام خواتین کے استحصال کے حوالے سے نہ لیا جاسکے۔

پھر دکھ کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی خواتین کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ قوانین نہیں بنا سکی،سابقہ حکومتوں کی طرح خواتین کے حقوق، تعلیم صحت پر کبھی کسی نے بات نہیں کی، حد تو یہ ہے کہ اُلٹا خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والوں کو پرائیڈ آف پرفامنس کے ایوارڈ دیا جا تا رہا ہے،،، اس حوالے سے آخری بل ”2016ءمیں تحفظ خواتین بل(پنجاب)“ کے بعد کوئی نمایاں قانون سازی دیکھنے میں نہیں آئی،اور ویسے بھی ہمیں اس ان بلز کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیوںکہ ان پر عمل درآمد کروانا ہی جان جوکھوں میں ڈالنے کا کام ہے۔ حالانکہ آئین پاکستان کی شق 25-Aکے مطابق ریاست 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیاری تعلیم فراہم کی پابند ہے۔لیکن اگر پاکستان میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کا موازنہ کیا جائے تو ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں 50لاکھ بچیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، 32 فیصد پرائمری سکول جانے والی عمر کی لڑکیاں سکول نہیں جاتیں ۔ چھٹی جماعت تک 59 فیصد لڑکیاں سکول سے باہر ہیں۔نویں جماعت میں صرف 13 فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔ اور کالج لیول تک تو یہ تناسب شرمناک حد تک گر جاتا ہے، یعنی محض 6فیصد رہ جاتا ہے۔ پھر یہاں زبردستی شادیوں کے رواج ، جائیداد میں خواتین کے حقوق سلب کرنے کے مسائل، پھر یہاں زنا بالجبر یا ریپ کے ہزاروں مسائل ہیں جنہیں کوئی نہیں روک پا رہا، ایک تحقیق کے مطابق سال 2022میں ان کیسوں کی تعداد میں 200فیصد اضافہ ہوا، اور صر ف لاہور میں ایک ماہ میں 73 ریپ کیسز اور 5 گینگ ریپ کیسز رپورٹ کیے گئے۔

الغرض یوں لگتا ہے جیسے صدیوں سے مردانہ بالادستی کا طے شدہ سچ ہمارے ڈی این اے پہ مہر کی طرح ثبت ہوگیا ہے کہ اب کوئی اس کو چیلنج بھی کرے تو ہمیں برا لگنے لگ جاتا ہے،،، قصہ مختصر عورتوں کے حقوق کا مسئلہ وطنِ عزیز میں بہت گمبھیر ہے۔ اس لیے اگر کبھی کبھار خواتین اپنی آواز بلند کرنے کے لیے میدان میں آئیں تو ہمیں اُن کے لیے سہولت کا سامان میسر کرنا چاہیے ناکہ ہم مٹھی بھر خواتین سے خوفزدہ ہو کر اُنہیں گرفتار کر لیں،،، میرے خیال میں اگر ہر معاشرے میں عورتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔ تو یہاں بھی یہ ان کا آئینی حق ہے۔ جس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے قبول کرنا چاہیے!