میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں پیدائشی لاہوری ہوں اور تعلق پرانے شہر سے ہے۔ کئی بار اپنے شہر کے حوالے سے لکھ چکا، دکھ رو چکا کہ باغوں کا شہر اب کنکریٹ کا شہربن گیا۔ کھلی کھلی سڑکیں زیادہ چوڑی تو ہو گئیں لیکن اوورہیڈ پلوں نے ان کو بھی سکیڑ دیا اور شہر کا حسن ماند پڑ گیا، ضرورت کے لئے ایسا تو کیا گیا لیکن پلاننگ کرنے والوں نے مثبت طرز تعمیر کی بجائے احکام کی پابندی کی۔ اس سلسلے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماہر حکام ذمہ دار ہیں۔ ایل ڈی اے کا ایک شعبہ ٹیپا بھی ہے جسے ٹریفک انجینئرنگ اتھارٹی کہا جاتا ہے۔ میرے صحافتی کیریئر کا بہت بڑا حصہ رپورٹنگ میں گزرا اور میں بلدیاتی بیٹ بھی کرتاتھا، اس لئے یہ سب میرے سامنے ہوا، سرکلر باغات جہاں کھیلتے ہمارا بچپن گزرا بتدریج قبضہ گروپوں کے قبضے میں گئے۔ باغات کو سیراب کرنے والی نہر پر پلازے بن گئے۔ تحریک پاکستان کی مرکزی جلسہ گاہ باغ بیرون موچی دروازہ کھنڈر کی شکل اختیار کر گیا۔
شہر پھیلا تو مسائل بڑھے خصوصی طو رپر گنجان آبادی کے ساتھ ٹریفک کا مسئلہ سامنے آیا۔ یہ میرے ذاتی علم میں ہے کہ ابتدائی طور پر ٹیپا نے گیارہ یا تیرہ انٹرچینج تجویز کئے۔ ان میں بتی چوک، شاہدرہ چوک، چوک داتا دربار، چوک چوبرجی اور مزنگ چونگی چوک بھی شامل ہیں لیکن اس منصوبے کو پس پشت ڈال کر سڑکوں کی توسیع اور اوورہیڈپلوں کا سہارا لیا گیا، چنانچہ اب حالت یہ ہے کہ شہر کے جس طرف بھی جائیں، پل ہی پل نظر آتے ہیں، تعمیراتی کنٹرول کی ایجنسی نے جو بہتر منصوبہ بنایا اور موجودہ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت میں اپنی نگرانی میں مکمل کرایا وہ لاہور کے مرکز سے گزرنے والی نہر کے اطراف میں سڑکوں کی توسیع کے ساتھ انڈر پاسز کی تعمیر تھی۔ وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے کئی سڑکیں دوبارہ بھی تعمیر کرائیں، تاہم بڑھتی آبادی کے پھیلاؤ کو منظم نہ کیا جا سکا، ایل ڈی اے نے زرعی اراضی کی جگہ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی تعمیر کی کھلے دل سے اجازت دی اور یہ سب لاہور کے جنوب کی طرف ملتان روڈ اور فیروز پور روڈ کے پہلوؤں میں بنتی چلی گئیں، ہماری انجینئرنگ اور دوراندیشی کا کمال ہے کہ یہ سب جدید طرز کی آبادیاں ایک ہی رخ بن گئیں اور ان تک آنے جانے کے لئے کوئی نئی سڑک یا راستہ تجویز نہ کیا گیا اور نتیجہ گنجان ٹریفک کی صورت میں نکلا۔ دوسری طرف فاصلوں اور ضرورت کے تحت گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ یوں ہر روز ٹریفک کا بوجھ بھی بڑھا اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اوورہیڈ برج بھی حل نہیں دے سکے اور نہ ہی پختہ تجاوزات ختم ہو سکیں۔
اب ٹریفک کی صورت حال یہ ہے کہ کینال کے دونوں طرف والوں سڑکوں پر ٹریفک رینگ رہی ہوتی ہے اور کسی بھی معمولی رکاوٹ کے بعد ٹریفک جام ہوتی اور طویل تر قطاریں لگ جاتی ہیں، جبکہ سڑکوں پر موٹرسائیکل اور کار سٹینڈ الگ مسئلہ بن گئے ہیں۔ یوں سڑکوں کی توسیع اور پلوں کی تعمیر کے باوجود ٹریفک کا معاملہ حل نہیں ہو پایا اور نہ ہی ٹریفک پولیس کے شعبہ کو اب اس سے غرض ہے کہ ٹریفک وارڈنز یا تو جرمانے وصول کرتے ہیں اور یا پھر وی آئی پی قافلے گزارنے کے لئے ٹریفک بند کرکے مسائل پیدا کرتے ہیں، حالانکہ تھوڑی سی توجہ اور انتظام سے یہ حالات بہتر ہو سکتے ہیں، سب سے پہلے تو پارکنگ کا سلسلہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں بار بار پارکنگ پلازے بنانے کی تجویز سامنے آتی ہے لیکن یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اب تک جہاں ایسے پلازہ تعمیر ہوئے وہاں حالات کیا ہیں کہ شہری گاڑیاں ان پلازوں میں کھڑی کرنے سے گریز کرتے اور پارکنگ فیس سے بچنے کے لئے سڑکوں اور مارکیٹوں کے کناروں پر ہی گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں، ایل ڈی اے کی طرف سے کئی بار ایسے پلازوں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا لیکن عمل نہیں ہوا، حالانکہ عوامی سہولت کے منصوبوں کی تکمیل پہلی ترجیح ہونا چاہیے، اسی طرح اب تک ملتان روڈ کے ساتھ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھرمار کے باوجود کوئی نیا راستہ تلاش نہیں کیا گیا اور بوجھ نہر والی سڑکوں پر ہے۔
یہ سب اپنی جگہ، لیکن ٹریفک پولیس کے تمام تر دعوؤں کے باوجود شہر کی ٹریفک کے دباؤ کی روشنی میں مناسب انتظام نہیں کیا گیا۔ شہر کے معروف چوراہوں میں ٹریفک وارڈنز کونوں میں کھڑے ہو کرچالان کرتے نظر آتے ہیں اور سڑک کے درمیان کھڑے ہو کر خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے قوانین کی پابندی کا ذریعہ نہیں بنتے، اسکے علاوہ بڑے چوراہوں کے ٹریفک سگنلز کا دورانیہ غلط رکھا جاتا ہے۔ کسی طرف بہت کم اور کسی طرف زیادہ ہوتا ہے اور یوں ٹریفک کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اور شہری بھی قطاربندی کا لحاظ نہیں کرتے، جب ٹریفک وارڈنز سگنلز لائٹ بند کرکے خود ٹریفک گزارتے ہیں تو وہ ایک طرف سے زیادہ سواریاں گزارتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے دوسری طرف بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور یہ عمل چاروں طرف کے لئے پریشانی کا باعث بنتا رہتا ہے۔
اب ذرا وی آئی پی ٹریفک کی بات کرلی جائے تو اس کا سارا بوجھ مال روڈ سے ٹھوکر نیاز بیگ کی طرف ہوتا ہے، اس وی آئی پی ٹریفک میں کھیل بھی شامل ہیں۔ مال روڈ کے ہوٹل میں قیام اور قذافی سٹیڈیم میں کھیل کے باعث مال روڈ اور کینال روڈ وی آئی پی گاڑیوں کی آمد سے پہلے ٹریفک روک دی جاتی ہے، اس کے نتیجے میں مال روڈ انڈر پاسز اور سڑک کے علاوہ جیل روڈ اور فیروزپور روڈ کے انڈرپاسز اور سڑک کی ٹریفک روکی جاتی ہے او ر یوں ہر سڑک پر ہرطرف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ کر ٹریفک جام کا ذریعہ بنتی ہیں اور پھر دیر تک ٹریفک کی روانی بحال نہیں ہوتی۔ ایسا ہی کینال روڈز پر ہوتا ہے کہ انڈر پاسز تین قطار والے اور ان سے پہلے سڑکیں چار پانچ قطاروں کے لئے وسیع ہوتی ہیں۔ ہر انڈر پاس سے چوتھی، پانچویں قطار والی گاڑیاں گھستی اور ٹریفک جام ہوتی ہے یہ مسئلہ بڑی حد تک شہریوں کی لین کی پابندی سے حل ہو سکتا ہے کہ انڈر پاسز سے گزرنے والے صرف تین لین استعمال کریں اور ترتیب سے گزرتے جائیں، اس کے لئے ٹریفک وارڈنز کی ضرورت ہے جو نہیں ہوتے۔
اسی طرح بارہا اور مختلف حوالوں سے یہ تجویز دہرائی جاتی ہے کہ قذافی سٹیڈیم میں ایک پانچ چھ ستارہ ہوٹل ہی تعمیر کرلیا جائے تاکہ ٹیموں کو سڑکوں کے ذریعے لانے لے جانے کا سلسلہ رک جائے اور ٹریفک کا مسئلہ نہ ہو، اس سلسلے میں قذافی سٹیڈیم کے سامنے فیروزپور روڈ کے ساتھ، کئی منزلہ پلازہ، ہوٹل وغیرہ کی مجوزہ تعمیر نہ معلوم وجوہ کی بناء پر کھدائی کے بعد سے بند ہے، اس کی رکاوٹیں دور کراکے یہ بھی بن سکتی اور قذافی سٹیڈیم تک انڈر پاس سے راستہ دے کر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔
کہنے کو بہت کچھ مگر کالم کی سپیس مختصر، انہی گذارشات پر غو رکرلیں تو شاید کچھ درست ہو جائے۔

