پاکستان میں ایک بار پھر بارشوں، گلیشیروں اور پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے پانی نے تباہی مچا دی ہے۔ اِس مرتبہ خیبرپختونخوا میں زیادہ تباہی ہوئی ہے ، جبکہ پنجاب اور سندھ بھی اس کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ’’مظلومیت‘‘ کا بہت شور مچا رہے ہیں۔ ہم سب مانتے ہیں بہت ظلم ہوا ہے۔ معصوم بچے ، خواتین ، بوڑھے اور جوان سب پانی کی نذر ہو گئے، لیکن کیا یہ لوگ خود بھی کسی حد تک اس تباہی کے ذمہ دار نہیں ؟ کیا پانی کے ریلے کے ساتھ بہہ کر آنے والے پتھر اور درختوں کے کٹے ہوئے تنوں کی ذمہ داری ’’خود ان‘‘ پر عائد نہیں ہوتی ؟ کیا یہ لوگ جو وہاں رہ رہے تھے انہوں نے اس تباہی اور بربادی کی بنیاد خود نہیں رکھی تھی؟ کیا انہوں نے درختوں کی بے دریغ کٹائی میں اس ٹمبر مافیا کا ساتھ نہیں دیا تھا، جس نے یہ ’’پہاڑ ننگے‘‘ کر دیئے۔ تب شاید اس غلط فہمی میں تھے کہ اب اس زمین پہ کھیتی باڑی کر لیں گے۔
کسی نے سرکار ، سرکار کے ملازمین اور ’’عوامی نمائندوں ‘‘ کا ہاتھ نہیں روکا، نہیں پوچھا کہ درخت کیوں کاٹ رہے ہو۔ پہاڑوں کے مکینوں کی ملی بھگت کے بغیر درخت کیسے کٹے؟ کس نے کٹوائے ؟درخت کاٹنے والے اپنی جیبیں بھر کر چلے گئے،لیکن جنہوں نے یہاں رہنا تھے وہ ’’بھول گئے‘‘ کہ یہ درخت اور پتھر ہی پانی کو طوفانی رفتار سے ان تک آنے سے روکتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنی تباہی کا راستہ خود چنا۔ ’’چند ٹکوں‘‘ کے لئے ان لوگوں کا ساتھ دیا جو ان کی موت اور اس خوبصورت خطے کی تباہی کا سامان کر رہے تھے۔
جب یہ پہاڑ ننگے ہو جائیں گے تو کوئی یہاں سیاحت کے لئے کیوں آئے گا ؟ کوئی یہ ’’ننگے پہاڑ‘‘ دیکھنے کیوں آئے گا؟ آج مجھے قیدی نمبر 804 اور اس کا 10 بلین سونامی یاد آ رہا ہے۔اس وقت 10ارب سونامی کو فسانہ قرار دیا گیا۔ کاش ہمارے حکمران اور ہمارے وہ ’’سو کالڈ جرنلسٹ‘‘ جنہوں نے قیدی نمبر 804 کے اس خواب کی 10ارب سونامی کی مخالفت کی ہوش میں آ جائیں۔ آج بھی اگر ہم نے درختوں کی کٹائی نہ روکی اور پاکستان بھر میں (کٹے ہوئے درختوں والے ننگے پہاڑوں پر خصوصاً) درخت لگانا شروع نہ کیے تو یہ موت مزید اپنے پنجے گاڑے گی۔ یہ پتھر اسی طرح پہاڑوں سے بارشوں کے پانی کے ساتھ نیچے آئیں گے۔ یہ کلاؤڈ برسٹ کیوں ہو رہا ہے، کیونکہ ہم نے کچھ بھی نارمل نہیں رہنے دیا۔ ہم نے ماحول بدل ڈالا ہے۔
یہ درخت ہی ماحول کو کنٹرول میں رکھتے ہیں،مگر ہم نے ’’ماحولیات‘‘ کو ’’مخولیات‘‘ بنا چھوڑا ہے۔ سمجھ نہیں آتی اس ملک کے باشعور لوگ کہاں ہیں ، جنگل کاٹنے والوں کو گریبان سے کیوں نہیں پکڑتے۔ آج جنرل ضیاء الحق کے پیارے وفاقی وزیر قاسم شاہ یاد آ رہے ہیں جو ’’مانسہرہ کا سب سے بڑا ٹمبر مافیا‘‘ تھے۔ جنہوں نے مانسہرہ کے پہاڑ ننگے کر دیئے اور جہاں درخت نہیں ہوتے وہاں موسم بدل جاتے ہیں۔ 60سال پہلے کے وہ دن آج بھی یاد ہیں جب اس لاہور میں بھی درخت تھے،باغ تھے ، لاہور کے اردگرد چھوٹے چھوٹے جنگل نما خطے بھی تھے۔ درختوں پر ہدہد ،بلبل ، کوئل، را طوطے،فاختہ اور گلہریاں بھی تھیں۔
ستمبر میں سویٹر اور اکتوبر میں جرسیاں پہننی پڑتی تھیں۔ آج تو دسمبر میں بھی جرسی سویٹر کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ ہم نے اپنے درخت کاٹ ڈالے۔ آج درجہ حرارت تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ لاہور میں جون میں سڑکوں پر ٹمپریچر55ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔محکمہ موسمیات 45 سینٹی گریڈ بتاتا ہے۔ سڑکوں والا درجہ حرارت محکمہ موسمیات نے کبھی نہیں بتایا۔ لاہور کے یہ حالات ہائوسنگ مافیا نے کئے ہیں۔ پہاڑوں کو ٹمبر مافیا اور لاہور کو ہائوسنگ مافیا نے برباد کیا ہے۔ یہی ہائوسنگ مافیا ملتان کے ’’آموں کے باغ‘‘ بھی کھا گیا۔ کراچی میں ایک زمانے میں کیکر ہی سہی درخت نظر آیا کرتے تھے۔
لیکن کراچی والوں نے اپنے شہر کو برباد کر دیا۔ وہ شہر جس کا بارشی پانی ملیر ندی اور دیگر ندیوں کے راستے سمندر میں چلا جاتا تھا۔ شہر بڑھا اور پھیلا تو وہ تمام ندیاں اور نالے قبضہ گروپ کھا گیا۔ جہاں پانی کے نکاس کا راستہ نہیں ہوگا وہاں پانی سڑکوں پہ ہی کھڑا رہے گا۔ تو پھر بھگتو۔ کراچی والوں کو ابھی مزید بھگتنا پڑے گا۔ آنے والا وقت اور سخت ہو گا۔ وزیراعلیٰ سندھ جناب مراد علی شاہ جن کی پارٹی 17 سال سے سندھ پر مسلسل حکمران ہے فرماتے ہیں کراچی صرف 40 ملی میٹر بارش برداشت کر سکتا ہے۔ اِس سے زیادہ بارش ہوگی تو پھر یہی حال ہوگا۔ ( بلاول بھٹو یاد آگئے کیا خوب فرمایا تھا زیادہ بارش ہوگی تو زیادہ پانی آئے گا)۔
مراد علی شاہ کو کون بتائے لاہور میں 40 ملی میٹر بارش معمول ہے، ہوتی رہتی ہے۔ ادھر یہ شاہ صاحب فرماتے ہیں ہم 40 ملی میٹر برداشت نہیں کر سکتے۔ انگریز نے1947ء سے پہلے لاہور میں آٹھ بڑے برساتی نالے بنائے تھے تاکہ برساتی پانی ان نالوں کے ذریعے دریائے راوی تک پہنچ سکے۔ 1947ء میں آزادی،بلکہ مادر پدر آزادی کے بعد ہم نے ان نالوں کو گندا نالہ بنا دیا۔ شاید کسی کو لاہور کا پرانا بڈھا دریا یاد ہو۔ راوی کبھی بادشاہی مسجد کے ساتھ گزرا کرتا تھا۔ اس کی پرانی گزرگاہ کو بڈھا دریا کہا جاتا تھا آج وہ بڈھا دریا جو کبھی انتہائی کشادہ تھا۔ قبضہ گروپوں کے ہاتھوں چند فٹ کی نالی بن کے رہ گیا ہے۔
سرکار کہاں ہے ؟ جب اموات ہوں گی تب جاگے گی۔ جیسے آج جاگ گئی ہے۔ افسوس کر رہی ہے۔ وزیراعظم خیبرپختونخوا کے ’’عوام ‘‘ اور ’’سندھ حکومت‘‘ سے افسوس کر رہے ہیں،جو مر گئے ان کو 10، 10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ کاش کہ ان کے لواحقین میں ’’ضیاء الحق کی روح‘‘ حلول کر جائے اور وہ بھی اسے ’’مونگ پھلی‘‘ کہہ کر مسترد کر دیں۔ ایک انسانی جان کی قیمت بس 10لاکھ روپے لگائی جا رہی ہے۔
بے شمار لوگ بغیر کسی گناہ کے دنیا سے گئے اور بہت سارے وہ ہیں، جنہوں نے دریا میں گھر بنائے ، درخت کاٹے اور پتھر اپنے ’’گھر پر برسوائے‘‘،مگر ابھی بھی سمجھ نہیں آئی کہ آنے والے دن مزید سخت ہوں گے۔ 10ارب سونامی اگر ہمیں یاد نہ رہا ، ہم نے درخت نہ لگائے تو بہت برا وقت آنے والا ہے۔لاہور اور کراچی کو کچھ اور نہیں مقامی درختوں سے ’’بھرا جائے‘‘۔ دیسی درخت لگا دیں پرندے ، گلہریاں ، طوطے بھی آ جائیں گے۔ موسم بھی بدل جائے گا۔ پھول بھی نظر آئیں گے رنگ بھی بکھر جائیں گے۔ کم از کم لاہور تو تھوڑا بہت واپس آ ہی جائے گا۔

