پشاور (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) — خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بادل پھٹنے کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی، بونیر میں 157 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ صوبے میں مجموعی اموات 210تک جاپہنچی ہیں۔ صوبائی حکومت نے کل سوگ منانے کا اعلان کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ اضلاع کیلئے 50 کروڑ روپے جاری کردیے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں بادل پھٹنے کے باعث شدید بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 210ہوگئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ میں 21، بونیر میں 91، شانگلہ میں 23، سوات میں 20، بٹگرام میں 15 اور مانسہرہ میں 23 افراد جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 14 خواتین اور 12 بچے بھی سیلاب میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 21 افراد زخمی ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 68 گھروں کو نقصان پہنچا، 61 گھر جزوی اور 7 مکمل طور پر تباہ ہوئے، جبکہ سیلاب زدہ علاقوں میں ادویات اور دیگر ضروری اشیاء ارسال کردی گئی ہیں۔
قبل ازیں ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹے میں بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے سے 150 اموات ہوئیں۔ ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد میں 128 مرد، 9 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔ شدید بارشوں سے گلگت میں 5 اور آزاد کشمیر میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا میں بارشوں کے سبب حادثات میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے بارشوں اور فلش فلڈ سے مختلف اضلاع میں نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں مختلف حادثات میں اب تک 146 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے، جاں بحق افراد میں 126 مرد، 8 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 12 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ حادثات کے نتیجے میں 35 گھروں کو نقصان پہنچا، 7 گھر مکمل تباہ اور 28 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات باجوڑ، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ، سوات، بونیر اور شانگلہ کے اضلاع میں پیش آئے۔ سب سے زیادہ نقصان ضلع باجوڑ اور بٹگرام میں ہوا جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
بونیر
ضلع بونیر کے مختلف حصوں میں طوفانی بارشوں، تباہ کن سیلاب اور شدید آندھیوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ میڈیا کوآرڈینیٹر کے مطابق کم از کم 157 افراد جاں بحق اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے۔
ریسکیو 1122 کے میڈیا کوآرڈینیٹر محمد سہیل کے مطابق اب تک 157 سے زائد لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ 100 سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال نہایت سنگین ہے اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کاشف قیوم کے مطابق ضلع بونیر میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دشوار گزار علاقوں میں ریسکیو آپریشن کیے جارہے ہیں۔ پیر بابا بازار اور ملحقہ علاقے میں سیلابی پانی نے پورے علاقے کو ڈھانپ لیا۔ گوکند کی ایک مسجد تباہ ہوگئی اور مویشیوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوگئی۔کئی سڑکیں تاحال بند ہیں اور لاپتہ افراد کی صحیح تعداد معلوم نہیں۔ اصل اعداد و شمار کا اندازہ سیلابی پانی اترنے کے بعد ہوگا۔
باجوڑ
ضلع باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں آسمانی بجلی گرنے اور بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب سے 21 افراد جاں بحق، 3 زخمی اور 4 مکان تباہ ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی کے مطابق جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔
پہاڑی تودہ گرنے سے راستے بند ہوگئے جنہیں پیدل عبور کیا گیا۔ ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ فرنٹیئر کور نارتھ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے خیمے اور دیگر ضروری سامان پہنچایا۔
جاں بحق افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جس میں رکن صوبائی اسمبلی انورزیب خان، ڈپٹی کمشنر شاہد علی، اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق علی، قبائلی عمائدین اور مقامی لوگوں نے شرکت کی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق جبراڑئی میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے 7 مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے، 10 جاں بحق اور کئی لاپتہ ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی۔
بٹگرام
بٹگرام اور مانسہرہ کے سرحدی گاؤں نیل بند میں بادل پھٹنے سے 3 سے 4 گھر بہہ گئے۔ ڈپٹی کمشنر اشتیاق احمد کے مطابق 21 افراد جاں بحق ہوئے۔ بہہ جانے والی 11 لاشیں بٹگرام کے شملائی علاقے میں برآمد ہوئیں۔
ریسکیو 1122 بٹگرام کے مطابق متاثرہ دیہات میں نیل بند، سارم اور ملکال گلی شامل ہیں۔ وقفے وقفے سے بارش اور موبائل نیٹ ورک کی بندش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
مانسہرہ
مانسہرہ کے علاقے بسیاں میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ 6 افراد میں سے 3 کو بچا لیا گیا، 2 جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ بٹل پولیس اسٹیشن کی حدود میں 15 مکانات لینڈ سلائیڈنگ سے تباہ ہوئے، 35 افراد ملبے تلے دب گئے۔
لوئر دیر
دیر لوئر کے علاقے میدان سوری پاؤ میں مکان کی چھت گرنے سے 5 جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے۔ ریسکیو ٹیم نے 3 گھنٹے پیدل سفر کر کے جائے وقوعہ تک رسائی حاصل کی۔
شانگلہ
شانگلہ میں 23 جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، 7 گھر، ایک مسجد اور ایک اسکول تباہ ہوا۔ 3 پل بہہ گئے جبکہ 7 شاہراہیں بند ہوئیں جن میں سے 2 بحال کر دی گئیں۔
سوات
سوات میں بارشوں اور طغیانی سے خاتون اور بچوں سمیت 13 جاں بحق، 3 لاپتہ اور متعدد زخمی ہوئے۔ بابوزئی میں آسمانی بجلی گرنے سے 8 جاں بحق، مٹہ میں 3 افراد بہہ گئے، بحرین میں ایک خاتون جاں بحق، مینگورہ میں 4 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔52 گھر، 13 پل، 2 پرائمری اسکول تباہ اور متعدد سڑکیں متاثر ہوئیں۔
پاک فوج کا ریلیف آپریشن
سوات اور باجوڑ میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ریسکیو اور امدادی سامان کی فراہمی کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اعلانات
وزیراعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے کو خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کل صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کیا، قومی پرچم سرنگوں رہے گا، اور متاثرہ اضلاع کیلئے 50 کروڑ روپے جاری کیے۔
گورنر اور صوبائی حکومت کے اقدامات
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جانی و مالی نقصان پر رنج و غم کا اظہار اور لواحقین سے تعزیت کی۔ صوبے میں سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔

