پشاور(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر نامزد 25 ارکان نے آج گورنر ہاؤس پشاور میں ایک پروقار تقریب کے دوران حلف اٹھا لیا۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نومنتخب خواتین اور اقلیتی ارکان سے آئینی اور پارلیمانی حلف لیا۔
حلف اٹھانے والوں میں 21 خواتین اور 4 اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان شامل ہیں۔ اس اقدام کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 145 مکمل ہو گئی ہے۔
مخصوص نشستیںحاصل کرنیوالی سیاسی جماعتوں کے اراکین کی تفصیل:
جمعیت علمائے اسلام (ف): 7 ارکان،پاکستان مسلم لیگ (ن): 7 ارکان،پاکستان پیپلز پارٹی: 4 ارکان، عوامی نیشنل پارٹی: 2 ارکان،پی ٹی آئی (پی): 1 رکن
حلف اٹھانے والے اراکین کے نام :
“(ن)لیگ “: فرح خان، آمنہ سردار، فائزہ ملک، شازیہ جدون، جمیلہ پراچہ، افشاں حسین، سونیا حسین، سریش کمار (اقلیتی رکن)”پیپلز پارٹی”: مہر سلطانہ، شازیہ طہماش، اشبر جدون، فرزانہ شریں، بیاری لال (اقلیتی رکن) “جمعیت علمائے اسلام (ف)”: بلقیس، ستارہ آفرین، ایمن جلیل، مدیحہ گل، رابعہ شاہین، نیلوفر بیگم، ناہید نور، عسکر پرویز، کرپال سنگھ (اقلیتی ارکان)”عوامی نیشنل پارٹی”: خدیجہ بی بی، شاہدہ وحید”پی ٹی آئی (پی): نادیہ شیر”
گورنر فیصل کریم کنڈی نے حلف برداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے آئینی تقاضوں کے تحت ارکان اسمبلی سے حلف لیا، مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کا حلف نہ لینا جمہوری عمل کیخلاف تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کیلئےحکومت اور اپوزیشن میں 6/5 کا فارمولا طے پا چکا ہے، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے آئینی عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش افسوسناک ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ایس ایم عتیق نے اپوزیشن جماعتوں کی درخواست منظور کرتے ہوئے گورنر کو مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان سے حلف لینے کی ہدایت جاری کی تھی۔ قبل ازیں اسمبلی اجلاس میں کورم کی نشاندہی کے باعث حلف برداری ممکن نہ ہو سکی تھی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی گورنر ہاؤس میں حلف برداری اور سینیٹ انتخابات کی تاریخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر رکھا تھا، جس کے تحت حلف برداری 20 جولائی کو صبح 9 بجے اور سینیٹ انتخابات 21 جولائی کو دن 11 بجے مقرر کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر حلف برداری جمہوری عمل کی کامیابی اور آئینی بالادستی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں شفافیت اور ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔

