تیراہ(اے پی+ انادولو+ اکانومک ٹائمز ) — خیبرپختونخوا کی وادی تیراہ میں دھماکے اور مبینہ فضائی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 25 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد مکانات تباہ ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق دھماکا ایک مکان میں ہوا جہاں دھماکا خیز مواد ذخیرہ کیا گیا تھا، اور اس کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک ہوئے۔ حکام نے اس واقعے کو فضائی حملہ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 25 ہے اور ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک اپوزیشن رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی جیٹ طیاروں کی بمباری سے مکانات منہدم ہوئے، تاہم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا۔
بھارتی جریدے دی نیو انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دھماکے میں کم از کم 23 افراد مارے گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بعض عینی شاہدین نے اسے فضائی حملہ قرار دیا جبکہ دیگر نے غیر ارادی دھماکے کا نتیجہ بتایا۔
مزید برآں اکانومک ٹائمز نے اپوزیشن رہنماؤں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاکستانی جیٹ طیاروں نے بمباری کی جس سے پانچ مکانات تباہ ہوئے اور ملبے سے 20 لاشیں نکالی گئیں۔ تاہم حکومت یا فوج کی جانب سے تاحال اس مبینہ فضائی کارروائی کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
مقامی افراد کے مطابق علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ہے جبکہ متاثرہ خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

