دبئی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان جلد اپنی پہلی قومی ’اسٹیبل کوائن‘ متعارف کرائے گا، اور ملک میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) پر بھی کام ہو رہا ہے۔
پی وی اے آر اے ایک خود مختار وفاقی ادارہ ہے جس کے بورڈ میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شامل ہیں۔ اس ادارے کا مقصد مالیاتی شفافیت، صارفین کا تحفظ، غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کی روک تھام، اور فِن ٹیک، ڈیجیٹل اثاثوں و ٹوکنائزڈ مالیاتی ماڈلز کو قانونی اور محفوظ سازی کے ذریعے فروغ دینا ہے۔
بلال بن ثاقب نے دبئی میں منعقدہ Binance Blockchain Week 2025 میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس نئے مالیاتی انقلاب کے اگلے محاذ پر ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوامی اپنائیت اور صلاحیت ہے تو ہمیں اس جدت میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
ان کا مؤقف تھا کہ اسٹیبل کوائن، حکومت کے قرضوں و واجبات کو کولیٹرلائز کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، اور اس کے ذریعے اقتصادی استحکام، مالی شفافیت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
حکومت نے اس ضمن میں پہلے اہم اقدام اٹھایا ہے: مارچ 2025 میں پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کی تشکیل، اور جولائی 2025 میں پی وی اے آر اے کو مجاز ریگولیٹری اتھارٹی کا درجہ دینا شامل ہے۔ اِس اقدام کا مقصد بلاک چین اور ورچوئل اثاثوں کو قانونی اور شفاف فریم ورک میں لانا ہے۔
پچھلے ماہ پاکستان نے اپنا پہلا حکومتی سطح کا بٹ کوائن ریزرو بھی تشکیل دیا تھا، جو ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی سے وابستہ حکومتی پالیسی میں ایک سنگِ میل تھا۔
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان مناسب ضابطہ اور ریگولیشن بنائے، اور بین الاقوامی معیارات پر عمل کرے، تو اسٹیبل کوائن اور ڈیجیٹل مالیاتی جدت ملک کیلئےمعاشی ترقی، بیرونِ ملک ریمیٹنس اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔

