دبئی (رائٹرز)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا، جبکہ مظاہرین میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ریکارڈ شدہ خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ دکاندار درست کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج ایک جائز حق ہے، تاہم احتجاج اور بے امنی میں فرق ہونا چاہیے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ مظاہرین سے بات چیت کی جا سکتی ہے اور حکام کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے مکالمے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ صدر اور دیگر اعلیٰ حکام صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم یہ ایک مشکل عمل ہے جس میں دشمن بھی ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اور معاشی عدم استحکام فطری نہیں بلکہ اس میں بیرونی عناصر کا کردار ہے، جسے روکنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن کے دوران مختلف علاقوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک جبکہ درجنوں افراد کو بے امنی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان لفظی جنگ اُس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین پر تشدد کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ اس پر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایرانی داخلی معاملات میں امریکی مداخلت خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔

