دنیا میں پاکستان کی قدر بڑھ گئی!

گیا سال گزر گیا،نئے سال کا سورج طلوع ہو چکا، میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو یہ سال کا پہلا روز ہے۔ 2025ء تو زیادہ تر تلخ یادیں چھوڑ کر رخصت ہوا، تاہم جاتے جاتے بھی ایک خوشگوار اور حیرت انگیز خبر اور یاد چھوڑ دی ہے۔ ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی مرحومہ وزیراعظم کی نماز جنازہ تھی، پاکستان سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ایک وفد کے ساتھ شرکت اور تعزیت کیلئے گئے تھے۔دنیا کے متعدد ممالک کے وفود آئے اور بھارت سے اس کے وزیرخارجہ جے شنکر آئے تھے۔

نماز جنازہ کے بعد جب خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ پر ان کے صاحبزادے کے ساتھ تعزیت کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک جے شنکر اپنی نشست سے اٹھ کر ایاز صادق کی طرف آ گئے،مہذب اور اخلاق سے پُراعتماد ایاز صادق بھی خیر مقدمی انداز میں کھڑے ہوئے کہ جے شنکر نے آگے بڑھ کر ایاز صادق کی طرف ہاتھ بڑھایا اور مصافحہ کیا پھر مختصر سے وقت میں حال چال دریافت کرنے پر اکتفا کیا۔

یہ مصافحہ ایک بڑی خبر بن گیا کہ گزشتہ برس کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم (جونیئر+سینئر) کے جو مقابلے بھارت کی ٹیموں کے ساتھ ہوئے ان کے دوران ٹاس کے بعد یا اس سے پہلے بھارتی کپتان اور کھلاڑیوں نے سپورٹس مین شپ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہاتھ ملانے سے گریز کیا تھا حتیٰ کہ انڈر 19 کے میچوں میں بھارتی نوجوان کھلاڑیوں نے بڑوں کے زیر اثر ممکن حد تک جھگڑے کی کوشش کی، اس کی شکائت اب آئی سی سی کے پاس ہے ان حالات میں جب جے شنکر چل کر ایاز صادق سے ملنے کے لئے خود آئے اور ہاتھ ملا کر حال چال پوچھا تو یقینا خوشگوار حیرت تو ہونا تھی اور ہوئی، تاہم اب ہمیں اس پیش رفت کو بہتر جان کر بھارت میں ردعمل کا جائزہ لینا چاہیے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اس کی انتہا پسند کابینہ نے تو خود یہ حالات پیدا کئے کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ مستقل محاذ آرائی اختیار کر لی، تاہم فضل ربی یہ ہے کہ گزرے سال کے ماہ مئی کی 10تاریخ وہ یادگار دن تھا جب بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا، اس کے پاس فرانس کے مایہ ناز جنگی طیارے بھی کام نہ آئے اور ہمارے جانباز شاہینوں نے جو سات طیارے گرائے ان میں وہ بھی شامل تھے، جبکہ باقی طیارے بھی الگ الگ ممالک والے تھے۔

اس معرکہ کے بعد جو سلسلہ شروع ہوا وہ پاکستان کے لئے بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا، اس حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی بصیرت اور ہمارے اہل افسروں کی ہمت اور فراست نے دنیا کو قائل کرلیا اور بھارت بار بار مختلف حوالوں سے دنیا میں اکیلا ہوتا چلا گیا اور اب تو نوبت یہ آ گئی کہ برطانیہ اور امریکہ کے معتبر اخبارات نے بہت واضح طو رپر بھارت کی سازشوں کا پردہ چاک کرنا شروع کر دیا اور پاکستان کی تعریف شروع کی۔

دوسری طرف ٹرمپ نے مودی دوستی کی پروا کئے بغیر تجارت کے حوالے سے بھارتی دوغلا پن کا پردہ چاک کرنا شروع کر دیا۔ ٹرمپ کے مسلسل وار کے باعث بھارت نے روس سے بھی تعلقات متاثر کرلئے ہیں جبکہ ایران بھی اس کی اسرائیل دوستی کے باعث تعلقات سے ہاتھ کھڑے کر چکا اور ہر دو کے درمیان جو یاری دوستی تھی اس میں کوئی گرم جوشی نہیں رہی اور ایران کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت ہی بہتر ہو گئے ہیں۔ میں نے ایک بار عرض کیا تھاکہ پاکستان ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہا ہے اس لئے کہ امریکہ اور چین کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ بھی مہذبانہ اور اصول پر مبنی تعلقات چل رہے ہیں اور امریکہ بھی اب پاکستان کے لئے اچھے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔

پاکستان نے اس عرصہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرم جوشی کا بھی مثبت اور بہتر جواب دیا اور عالمی خبروں میں بھی پاکستان کی بھارت پر سبقت ہے، اسی دوران تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود اور بیرونی نکتہ چینی سے ماوراء ہمارے ملک کا موقف مبنی بر انصاف رہا بلکہ حال ہی میں ثابت ہوا کہ ہم مصالحتی کردار بھی ادا کر سکتے ہیں، ایک ماہر خارجہ امور کی کابینہ میں معاون کی حیثیت سے موجودگی بہت زیادہ مفید رہی کہ دنیا کے اتنے زیادہ پیچیدہ حالات میں پاکستان سلامتی کے ساتھ اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ اس حوالے سے تعریف تو بنتی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے راشٹریہ سیوک سنگھ کی 105سالہ تاریخ کا جو پوسٹ مارٹم کیا اس سے ظاہر ہے کہ مودی خود بھی اس کا ایک حصہ ہے اور بھارت کے اندر اقلیتوں کا جو حال ہے اس پر اب دنیا نے بھی بولنا شروع کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تو خدا واسطے کا بیر سہی، اب ان انتہا پسند ہندوتوا والوں سے عیسائی بھی نہیں بچ پا رہے حتیٰ کہ حالیہ کرسمس پر ان آوارہ دہشت گردوں نے ان پر بھی حملے کئے اور ان کی عبادت نہ ہونے دی۔

مختلف ریاستوں میں بھی یہی حال ہے، میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ بھارت کے عام شہریوں کی بھاری اکثریت ان ہندوتوا والوں کے ہاتھوں پریشان ہے اور ان کو پسند نہیں کرتی لیکن آر ایس ایس والے اتنے دیدہ دلیر ہو چکے کہ وہ اب کسی قانون یا قانون نافذ کرنے والے کی بھی پروا نہیں کرتے اور بیکار رہ کر ”جگا“ بھی اقلیتی حضرات سے لیتے ہیں،اگرچہ یہ سب خود حکومت کے لئے بھی بہتر نہیں لیکن آنکھوں پر جان بوجھ کر کھوپے چڑھا لینا بھی تو کوئی درست اقدام نہیں اس لئے بھارتی حکومت کو پے در پے ظالمانہ سکینڈل سامنے آ جانے پر معافی مانگ کر اپنی راہ درست کرنا چاہیے۔

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے تو خارجی امور کے ساتھ ساتھ معاشی حالات کی بہتری کا بھی دعویٰ کیا، دیوالیہ ہونے سے بچانے والی بات تسلیم کرتے ہوئے یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ معاشی بہتری کے اثرات عام آدمی تک پہنچنا چاہئیں،یہ درست کہ خارجہ محاذ پر کامیابی کا سچا دعویٰ، غربت کی لکیر سے تو کوئی دوستی نہیں رکھتا،یہاں تو گزر بسر کا ماحول بہتر ہونا چاہیے، دہشت گردی کا عفریت گلے پڑا ہوا ہے۔ ان حالات میں سیاسی بے چینی درست نہیں سب کو خیال کرنا ہو گا، بہرحال دعا ہے کہ نیا سال خوشیاں لے کر آئے۔