دو ججوں کے استعفے، ایک سوال: اصول یا سیاست؟

پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے فوراً بعد سپریم کورٹ کے دو جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ، نے اسے آئین، عدلیہ کی آزادی اور سپریم کورٹ کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ جسٹس منصور کے مطابق اس ترمیم نے سپریم کورٹ کو”ٹکڑے ٹکڑے” کر دیا، عدلیہ کو حکومتی اثر کے ماتحت دھکیل دیا اور انصاف کو عام شہری سے مزید دور کر دیا۔ ان کے بقول ایسی کمزور اور بے اختیار عدالت میں رہ کر آئین کا تحفظ ممکن نہیں، اسی لیے وہ احتجاجاً منصب چھوڑ رہے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے بھی اپنے استعفے میں تحریر کیا کہ اس ترمیم کے سنگین اور دور رس منفی اثرات نمایاں ہوں گے۔ اگرچہ دونوں جج اپنے اقدام کو آئینی اصولوں کا دفاع قرار دے رہے ہیں، مگر سیاسی و قانونی حلقوں میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ فیصلے واقعی اصول پسندی کا اظہار ہیں یا ان کے پس منظر میں ذاتی محرکات، عدالتی رنجشیں اور سیاسی عوامل نے بڑا کردار ادا کیا۔

ان استعفوں کے بعد نہ عدلیہ میں کوئی بڑا ارتعاش پیدا ہوا اور نہ ہی سیاسی نظام میں کوئی جھٹکا محسوس ہوا البتہ میڈیا میں یہ موضوع نمایاں ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے دونوں ججوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام اصول پر مبنی نہیں بلکہ اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ جج عرصہ دراز سے سیاسی کردار ادا کر رہے تھے۔ اسی لئے یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ عدلیہ کے اندر سیاست کس قدر گہری جڑیں پکڑ چکی ہے۔

یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ ان ججوں کے حق میں اپوزیشن کے دلائل اور ان کے خلاف حکومتی اعتراضات دونوں موجود ہیں، مگر کچھ حقائق ایسے ہیں جو ریکارڈ کا مستقل حصہ ہیں۔ پاکستان کی 75 سالہ سیاسی تاریخ میں سیاست، طاقت اور عدلیہ کا تعلق ہمیشہ مفادات، دباؤ، عدم توازن اور باہمی کشمکش سے بھرا رہا ہے۔ نہ مضبوط جمہوریت پنپ سکی اور نہ ہی مارشل لاؤں نے کوئی استحکام دیا۔ ہر دور میں چند طاقت ور طبقات—سیاستدان، جرنیل، جج یا بیوروکریسی—اپنی مرضی کا نظام بناتے رہے۔ عوام ہمیشہ پس منظر میں ہی رہے۔

عدلیہ کا کردار بھی اس بحران سے الگ نہیں۔ مارشل لاؤں کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا، نظریۂ ضرورت تراشا گیا، آئین معطل ہوا تو جج خاموش رہے اور آمروں کے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر ان کے ہر غیر آئینی اقدام کو جائز قرار دیتے رہے۔ منتخب حکومتوں کو ختم کرنا، وزرائے اعظم کو نااہل قرار دینا، سیاسی قیادت کو جیلوں میں ڈالنا اور ایک وزیر اعظم کو پھانسی تک دینا—یہ سب عدالتی تاریخ کے ایسے واقعات ہیں جنہوں نے عدلیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

1973 کا متفقہ آئین ملک کا سب سے اہم دستاویزی معاہدہ تھا۔ مگر اسے توڑنے والے آمر کو تحفظ ملا، جبکہ اسی آئین کے خالق کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہی وہ عدالتی کردار ہے جس نے عدلیہ کو ایک غیر جواب دہ طاقت میں بدل دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ عدلیہ ایک متوازی مرکزِ اختیار بن گئی—جو کبھی آئین کی من چاہی تشریحات کرتی رہی اور کبھی فیصلوں کے ذریعے عملی طور پر آئینی ترامیم تک کرتی رہی۔

گزشتہ پندرہ برس میں عدالتی ایکٹوازم نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا۔ عدالتیں سیاسی مقدمات کے ذریعے براہِ راست سیاسی عمل کو متاثر کرتی رہیں۔ ریمارکس، ازخود نوٹس اور یکطرفہ فیصلوں میں جھکاؤ کھل کر سامنے آیا۔ عمران خان کی سیاست اور انہیں اقتدار تک پہنچانے کے “پراجیکٹ” میں عدلیہ اور بعض ریاستی حلقوں کا گٹھ جوڑ واضح نظر آتا رہا۔ 2018 کے انتخابات میں سنگین بے ضابطگیوں پر عدلیہ خاموش رہی، مگر عمران خان کے سیاسی مخالفین کے خلاف فیصلہ سازی بہت تیز رفتار تھی۔ ضمانتیں روک دی گئیں، مقدمات کو طول دیا گیا، اور عدالتی فیصلے سیاسی نتائج پر اثر انداز ہوتے رہے۔

تاہم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد یہ رجحان بدل گیا۔ کچھ ججوں نے کھلے عام سیاسی بیانات دینا شروع کیے، عدالتوں میں سیاسی جلسوں جیسی زبان استعمال ہوئی، اور آئین کی ایسی نئی تشریحات سامنے آئیں جن سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا۔ 2024 کے انتخابات پر اچانک شور اٹھایا گیا، جبکہ انہی ججوں نے 2018 کی بے ضابطگیوں کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کی تھی۔

اسی پس منظر میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کا کردار ہمیشہ زیرِ بحث رہا۔ ایک طویل عرصے سے یہ دونوں جج خود کو عدلیہ کے اندر اصلاح پسند، مزاحمتی اور “اصولوں کے محافظ” کے طور پر پیش کرتے رہے۔ تقاریر، خطوط اور عدالتی ریمارکس اسی بیانیے کو آگے بڑھاتے رہے۔ لیکن 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں جسٹس منصور کا چیف جسٹس بننے کا راستہ رک جانا، اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کا سیاسی مقدمات اور میڈیا توجہ سے محروم ہونا، اُن کے طرزِ عمل پر واضح اثر ڈالتا نظر آیا۔

قانونی حلقوں میں یہ خیال عام تھا کہ یہ دونوں جج کسی ایسے لمحے کے انتظار میں ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے ماضی کے متنازع فیصلوں پر پردہ ڈال سکیں اور ایک نئی انقلابی شناخت حاصل کر سکیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ان استعفوں نے بظاہر اسی حکمتِ عملی کو عملی شکل دی۔ مگر یہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

زیادہ تر قانونی ماہرین اور عوام کی بڑی تعداد نے ان استعفوں کو محض علامتی قدم قرار دیا ہے۔ نہ یہ کوئی عدالتی بغاوت ثابت ہوئے، نہ بحران پیدا ہوا، نہ ریاستی ڈھانچے میں کوئی ارتعاش آیا۔ لیکن یہ واقعہ ایک بڑی حقیقت ضرور بے نقاب کرتا ہے: عدلیہ کے اندر دہائیوں سے سیاست سرایت کیے ہوئے ہے، اور ان دونوں ججوں سمیت کئی شخصیات خود اس سیاسی تقسیم کا حصہ رہی ہیں۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ عدلیہ سمیت ہر ریاستی ادارہ اپنے کردار، حدود اور ذمہ داریوں کی ازسرِنو وضاحت کرے، سیاسی اثرات سے مکمل فاصلہ اختیار کرے، اور فیصلے آئینی اصولوں پر کرے نہ کہ ذاتی ترجیحات یا گروہی وابستگیوں پر۔ جب تک یہ اصلاحات نہیں ہوتیں، استعفے بھی علامتی رہیں گے اور آئینی دعوے بھی۔

آخر میں ایک حقیقت سب سے زیادہ توجہ کی مستحق ہے کہ اگر گزشتہ دہائیوں میں عدلیہ کا کردار سیاسی مداخلتوں سے پاک ہوتا، اور جج سیاست، ذاتی مفادات اور دباؤ سے بالاتر ہو کر آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرتے، تو آج 26ویں اور 27ویں ترامیم کی ضرورت بھی پیدا نہ ہوتی۔ جو جج آج ان ترامیم کو “آئین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا” قرار دے رہے ہیں، وہ اگر اپنے فیصلوں پر غیر جانب داری سے نظر ڈالیں تو انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ موجودہ بحران میں ان کا اپنا کردار بھی کچھ کم نہیں۔