ذوالفقار علی بھٹو شہید کا کتاب، ثقافت اور علم سے غیر معمولی تعلق تھا:افتخار عارف

اسلام آباد(نامہ نگار)نامور شاعر و دانشور افتخار عارف نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کو کتاب سے جتنی محبت تھی، پاکستان کے کسی اور وزیراعظم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بھٹو صاحب صرف سیاستدان نہیں تھے بلکہ علم، ادب اور ثقافت کے سرپرست رہنما تھے۔

افتخار عارف کے مطابق اکادمی ادبیاتِ پاکستان، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے)، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور قائداعظم یونیورسٹی جیسے ادارے ذوالفقار علی بھٹو کے وژن کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھٹو صاحب نے پاکستان کی قدیم تہذیبوں اور کلاسیکی روایات کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کے لیے معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن دانی کو باقاعدہ منصوبہ سونپا، تاکہ گندھارا، ٹیکسلا، موہنجودڑو اور ہڑپہ جیسی قدیم تہذیبوں پر منظم تحقیق اور تدریس ہو سکے۔

افتخار عارف نے کہا کہ بھٹو صاحب نے ایک مشکل اور ہاری ہوئی بازی وراثت میں پائی، مگر چند ہی برسوں میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد سمیت پاکستان کو عالمی سطح پر ایسی قیادت دی جو ایک الگ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو شہید کا علم، کتاب اور ثقافت سے تعلق آج بھی پاکستان کی فکری تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔