رؤف حسن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک ممتاز اور تجربہ کار رکن ہیں، جو اپنی ذہانت، ادبی ذوق اور پارٹی کے سیاسی بیانیے کو تشکیل دینے میں اہم کردار کیلئے جانے جاتے ہیں۔ اور حال ہی میں کچھ عرصے کیلئےپی ٹی آئی کے انفارمیشن سیکریٹری کی حیثیت میں اپنی جرات کی وجہ سے منفرد ہوئے ہیں۔
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے رؤف ، جہاں عظیم شعرا، اقبال اور فیض احمد فیض پیدا ہوئے، جن کے افکار اور نظریات سے رؤف گہری عقیدت رکھتے ہیں ، کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ثقافت، فکر اور اصولوں سے بھرپور ورثے کے امین ہیں۔
آج بھی چست، سمارٹ اور جوان نظر آنے والے 76 برس کے رؤف حسن کے حوالے سے اُن کے بھائی فواد حسن فواد کا ذکر بھی ہوتا ہے لیکن خاندان میں اُن کی قریبی مماثلت ذوالفقار بھٹو کے پریس سیکریٹری اور انگریزی کالم نگار خالد حسن سے زیادہ قریب ہے اگرچہ وہ خالد حسن کے فالوؤر نہیں ہیں لیکن اُن کے اصولوں کی قدر کرتے ہیں۔ رؤف نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ بہرحال ان کی زندگی عروج و زوال سے مزین ہے۔ کینسر سروائیور (cancer survivor) ہیں۔ پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔
لاہور کے صحافی اور کالم نگار شاہد ملک، جو گورڈن کالج راولپنڈی میں زیرِ تعلیم رہے، نے مجھے بتایا کہ” رؤف حسن میرے اساتذہ میں سب سے بہترین کمیونی کیٹر تھے۔ وہ شعبہء انگریزی کے سربراہ ڈاکٹر فرانسس زاویئر، پروفیسر سجاد شیخ اور پروفیسر نیتھنئیل ڈین جیسے اساتذہ کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ انہوں نے آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی سکالرشپ حاصل کیا تھا، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا اور اشتہارات کے شعبے کو ترجیح دی.جس پر اب انہیں افسوس ہے”۔
ایڈورٹیزمنٹ میں ابتدائی طور کاپی رائٹر کے طور پر کام کیا اور پھر اپنی ایڈورٹائزنگ کمپنی بھی بنائی۔ پہلے ساسا میں تھے، پھر ایک اور کمپنی کے شریک بانی ہوئے۔ اپنے بیٹے دانیال کے نام سے “د ن ا د”(DANAD) ایڈورٹائزنگ ایجنسی قائم کی۔ نام بھی کمایا اور پیسہ بھی۔ مگر جو کمایا اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کردیا۔ ایک تھنک ٹینک بھی بنایا۔ پیغام رسانی اور سامعین کی نفسیات کی گہری سمجھ نے انہیں برانڈنگ میں ممتاز بنایا، یہ مہارت انہوں نے بعد ازاں سیاست میں بھی کامیابی کے ساتھ استعمال کی۔ ایڈورٹیزمنٹ سے پولیٹیکل کمیونیکیشن تک ان کا سفر کوئی اتفاق نہیں تھا . بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی فطری ترقی تھی جو زبان، تصویر اور ترغیب کی طاقت کو سمجھتا تھا۔
سیاسی تجزیہ اور میڈیا سے وابستگی کے پس منظر کے ساتھ، رؤف حسن نے پی ٹی آئی کے ویژن کی واضح اور مدلل وکالت کی، خاص طور پر سیاسی اتھل پتھل کے دور میں، پارٹی کی اٹھان کے وقت بھی اور آج جب اُن کی پارٹی عتاب کا شکار ہے اُس وقت بھی۔ انہوں نے پارٹی کے اندر انفارمیشن اور پبلک ریلیشننگ سے متعلق مشاورتی کردار بھی ادا کیا۔ جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ان کے وزیر مملکت کے عہدے کے برابر کی سطح کے معاونِ خصوصی بھی رہے۔
رؤف حسن نے پی ٹی آئی میں ایک پردے کے پیچھے سے کام کرنے والے میڈیا سٹریٹجسٹ کا کردار ادا کیا، جو عوامی تخیل (public imagination) کو انسپائر اور اسے ایک سیاسی وژن کی طرف موڑنے والے بیانیے اور پالیسیاں تشکیل دیتا تھا .وہ جانتے تھے کہ کہانی بیان کرنے کے فن کی طاقت عوامی جذبات کو ہم آہنگ کر سکتی ہے، جہاں ترغیب (persuasion) اور مقصد (objective) ایک ہو جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے میڈیا سٹریٹجسٹ کے طور پر رؤف نے پارٹی کو ایک کثیر الطبقاتی (multi-class) سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس نے شہری اشرافیہ سے آگے نکل کر محنت کش، متوسط طبقے اور نچلے طبقے تک پی ٹی آئی کی رسائی بڑھائی، وہ عمران خان ، جو کبھی صرف ایک کرکٹنگ ہیرو تھے ، کو سیاسی مزاحمت اور نوجوانوں کی امید کی علامت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پارٹی کی ترقی، خاص طور پر نوجوان پاکستانیوں میں، بڑی حد تک رؤف کی بنائی ہوئی ویژیؤل آئیڈنٹیٹی کی مرہون منت ہے۔
تاہم پی ٹی آئی ابھی تک مبہم نظریات پر استوار پارٹی ہے جس کی کل بنیاد عمران خان کی شخصیت ہے، اور یہ نقص کوئی بھی سٹریٹجسٹ دور نہیں کر سکتا۔ حال ہی میں جب حکومت یا اسٹیبلشمنٹ نے کسی بلوچستان میں ٹرین کے اغوا کے بعد یا منرلز ترمیمی بل پر پاکستان تحریکِ انصاف سے تعاون مانگا، تو پی ٹی آئی کی قیادت نے یہ شرط رکھی کہ پہلے عمران خان کو رہا کیا جائے۔ یہ طرزِعمل عام طور پر سنجیدہ اور بالغ نظر سیاسی جماعتیں اختیار نہیں کرتیں۔ پی ٹی آئی نے بہت قربانیاں دی ہیں، اس لیے اسے ہر قومی معاملے کو صرف عمران خان کی رہائی سے مشروط کرنے کے بجائے اس معاملے پر ذمہ دارانہ اور سنجیدہ موقف پیش کرنا چاہیے۔
رؤف حسن کا سفر ، اشتہارات میں برانڈز کو تشکیل دینے سے لے کر پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی بیانیے بنانے تک ، کئی لحاظ سے بل برن باخ سے ملتا جلتا ہے، جو امریکہ کی اشتہاری صنعت کے ایک ٹریل بلیزر اور تخلیقی ذہن تھے جنہوں نے کمرشل ایڈورٹیزمنٹ میں انقلاب برپا کیا اور بعد ازاں جان ایف کینیڈی کی پولیٹیکل کمیونیکیشن کی سٹریٹیجی بنائی اور بیانیہ تشکیل دیا۔ دونوں جانتے تھے کہ تشہیر صرف کسی پروڈکٹ یا پالیسی کو بیچنے کے بارے میں نہیں ہوتی ، بلکہ یہ نظریے کو جنم دینے کے بارے میں ہوتی ہے۔ انہوں نے نعروں کو تحریکوں میں بدلا، اور تحریکوں کو رفتار دی۔
لیکن فرق صاف ظاہر ہے: برن باخ ایک جمہوریت میں پروان چڑھے، جہاں تخلیقی آزادی، اختلاف رائے اور فکری تجربات کو تحفظ حاصل تھا۔ رؤف حسن، اس کے برعکس، پاکستان کے ایک غیر مستحکم اور اکثر معاندانہ سیاسی ماحول میں کام کرتے رہے، جہاں آزادی فکر کی قدر کرنے کے بجائے اسے بہیمانہ انداز سے کچل دیا جاتا ہےاور برے وقت میں عدلیہ بھی بے بس نظر آتی ہے۔ اگر امریکہ میں برن باخ کے خیالات کامیاب تحریکوں کی بنیاد بنے تو وہیں رؤف کو اپنے نظریات کی وجہ بھاری ذاتی قیمت چکانی پڑی ، یہ ثبوت ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں سیاست صرف خیالات کی جنگ نہیں، بلکہ بقا کی جنگ بھی ہے۔ جنرل ضیاء کے زمانے میں پیپلز پارٹی کے دانشوران بھی گزر چکے ہیں جو بہرحال بدترین دور تھا۔
مجھے ذاتی طور پر رؤف حسن سے لندن میں پی ٹی آئی کے سیاسی عروج کے ابتدائی دور میں طویل بالمشافہ ملاقات کا موقع ملا تھا جب وہ یہاں اپنی بیٹی کے کونووکیشن میں شرکت کرنے کیلئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ یہ ایک بار میں ایک غیر رسمی شام تھی، جہاں میں پروفیسر امین مغل کے ساتھ تھا ، پروفیسر صاحب گہری سیاسی بصیرت رکھنے والے بائیں بازو کے عظیم دانشور ہیں جو سنہ اسی سے لندن میں رہ رہے ہیں مگر آج بھی ان کا پاسپورٹ پاکستانی ہے۔
رؤف حسن سے طویل گفتگو ہوئی اور کئی موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی۔ میں اس میں بنیادی طور پر ایک سامع تھا، لیکن درمیان میں کچھ بول بھی لیتا تھا۔ گفتگو اُس وقت شدت اختیار کر گئی جب پروفیسر مغل نے رؤف حسن کو خبردار کیا کہ بجائے اس کے کہ پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی سفر کے ذریعے قدرتی طور پر پروان چڑھنے دیا جائے، حکومت میں تبدیلی لانے کیلئے فوجی اشرافیہ کے ساتھ اتحاد کرنے کے طویل مدتی برے نتائج مرتب ہوں گے۔ رؤف کا جواب ایک مضبوط مگر متضاد نقطہ نظر کی صورت میں سامنے آیا:
پی ٹی آئی فوجی اشرافیہ کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی تھی، بلکہ پاکستان کے پولیٹیکل سٹرکچر میں فوجی اشرافیہ نے واضح کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی اُن کی اجازت کے بغیر اقتدار میں نہیں آ سکتی چاہے کتنی ہی مقبول کیوں نہ ہو جائے۔ یہ ایک اہم مکالمہ تھا ، دونوں اپنے اپنے انداز میں درست تھے۔ پروفیسر نے جمہوری نشوونما کو نظرانداز کرنے کے خطرات دیکھ لئےتھے، جبکہ رؤف نے سٹیٹ کی سٹکچرل رکاوٹوں کی طرف اشارہ کیا جو ایسے اتحادوں کو ناگزیر بنا دیتی ہیں۔ یہ تبادلہ خیال اخلاقی اور حکمت عملی کے ان dilemmas کی ایک اہم مثال ہے جو آج بھی پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اگر رؤف حسن کے ساتھ ہاکی کے میدان میں حادثہ نہ ہوا ہوتا تو وہ اب شاید پاکستانی فوج میں ایک شاندار کیریئر کے بعد ایک ریٹائرڈ جنرل ہوتے۔ واقعہ کچھ یو ہے کہ رؤف پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں جینٹل مین کیڈٹ تھے۔ 1968 میں پی ایم اے میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے دو ڈھائی مہینے پہلے ہاکی کھیلتے ہوئے انھیں ایسی چوٹ لگی جس سے اُن کی بینائی شدید متاثر ہوئی اور وہ میڈیکلی “اَن فٹ” قرار دے دیے گئے جس کے بعد انھوں نے اکیڈمی چھوڑ دی۔
ان کے ایک جونیئر کا کہنا ہے کہ سورڈ آف آنر (sowrd of honour) انہی کو ملنے والی تھی کیونکہ اس وقت زیر تربیت کیڈٹس کی صرف ایک بٹالین ہوا کرتی تھی اور ایک ہی سینیئر انڈر آفیسر ہوتا تھا، اور یہ عہدہ رؤف حسن کے پاس تھا۔ (تاہم رؤف حسن نے بتایا کہ ہاکی کے حادثے کے وقت پی ایم ای میں اُن کا ایک سال باقی تھا اور سورڈ آف آنر کے بارے میں اُس وقت کوئی اندازہ نہ تھا۔) بہرحال پی ایم اے سے باہر نکلنے کے بعد پرائیویٹ بی اے فرسٹ ڈویژن میں کیا اور ایم اے سیکنڈ کلاس میں۔ زندگی آگے بڑھتی رہی مگر چوٹ کے جسمانی اثرات آج تک موجود ہیں، ان کی ایک آنکھ کی بینائی نہ ہونے کے برابر ہے، اور شاید کیریئر بدلنے کے نفسیاتی اثرات بھی موجود ہیں۔ اس طرح فوج سے ان کا ایک براہ راست تعلق بنتا ہے۔
زندگی کے اس جھٹکے کے یقیناً اثرات پڑے، مگر اُن کے سامنے اُن کے والد محمد یعقوب کی بھی مثال ہو گی جو تقسیم سے قبل علی گڑھ یونیورسٹی میں دوران تعلیم محمد علی جناح سے انعام حاصل کرنے کی خواہش میں “دیک ریس” میں شریک ہوئے، مگر شدید چوٹ لگنے کی وجہ ریس سے باہر ہو گئے، نہ انعام لے سکے اور پھر تعلیم بھی نہ جاری رکھ سکے۔ علی گڑھ سے نکل کر اس توقع کے ساتھ فوج میں وائسرائے کمیشنڈ آفیسر بھرتی ہوئے جسے آج جونیئر کمیشنڈ آفیسر کہا جاتا ہے، تاکہ بعد میں کنگز کمیشن مل جائے۔ مگر دوسری عالمی جنگ ختم ہو گئی اور فوج میں کمیشن کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ پھر کاروبار کیا اور فیملی بنائی۔ اصول پسندی اور جناح سے والہانہ محبت انھیں اپنے والد سے ملی۔
1988ء کے عام انتخابات کے دوران رؤف حسن کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی “DANAD” کو مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کی مکمل تشہیر کا کام سونپا گیا تھا، جو کہ لاکھوں یا کروڑوں روپے کی مالیت پر مشتمل ایک بڑی مہم تھی۔ اس دوران، ایجنسی کے کری ایٹِو ڈائریکٹر (creative director) اور مشترک دوست، مرحوم سجاد انور منصوری نے رؤف حسن سے کہا کہ چونکہ ان کا نظریاتی جھکاؤ مسلم لیگ کیخلاف ہے، اسلئےاس جماعت کیلئے کام کرنا اخلاقی طور پر درست نہیں ہوگا۔ رؤف حسن نے سجاد کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے، اس منافع بخش معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور مہم واپس کر دی۔
جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو رؤف حسن نے ایک صاف ستھرا، اصول پسندانہ کردار اپنائے رکھا، بدعنوانی اور ذاتی مفاد سے دور رہے۔ وہ پردے کے پیچھے سے پارٹی کے ابتدائی وعدوں پر قائم رہنے والے ثابت قدم ساتھی بنے رہے۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی، رؤف ڈٹے رہے ، وہ ایک نظریاتی کارکن کی طرح اپنے لیڈر اور جماعت سے جڑے رہے۔ لاہور کے صحافی شاہد ملک جو ان کے عزیز بھی ہیں، کہتے ہیں کہ رؤف ملک ایک کامیاب کیریئر کے باوجود اسلام آباد میں ایک کرائے کے فلیٹ میں رہتے ہیں۔
اگرچہ رؤف حسن بائیں بازو کے نظریات کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ایک لبرل دانشور تھے اور اپنی فکری وابستگیوں کے باوجود عملی میدان میں ایک بورژوازی دانشور ہی بن کر رہ گئے تھے، لیکن اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہوا،جس طرح پارٹی رہنماؤں سے زبردستی پریس کانفرنسز کروائی گئیں، جیلوں میں ڈالا گیا، یا لاپتا کیا گیا،اس سب نے ایک شائی (shy) اور پسِ پردہ رہنے والے سٹریٹیجسٹ کو مجبوری کے عالم میں پردۂِ سیمیں پر لا کھڑا کیا۔
رؤف حسن نے ان حالات میں جو موقف اختیار کیا، وہ آج کی کسی بھی بورژوازی پارٹی سے زیادہ انقلابی اور اصولی تھا،اتنا کہ شاید خود عمران خان بھی اس کیلئے ذہنی طور پر تیار نہ تھے۔ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے کی پاداش میں رؤف کو طاقتور حلقوں کے مسلسل مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ جھوٹے دہشت گردی کے مقدمات سے لے کر ایک خواجہ سرا کے ہاتھوں خنجر کے عجیب و غریب قاتلانہ حملے تک، انہوں نے ایسے صدمے برداشت کیے جو عام لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ اُن دنوں خواجہ سراؤں کی “ڈیٹیچمنٹ” کافی فعال تھی اور کئی حکومت مخالفین پر انھوں نے حملے کیے تھے۔
اس حملے میں رؤف کے چہرے پر گہرا کٹ لگا تھا۔ اگر یہ کٹ ذرا نیچے یعنی گردن پر لگتا تو مہلک ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ پارٹی نے انہیں سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے الگ کر دیا،شاید اُن کی اپنی سلامتی کے پیشِ نظر یا شاید اسلئے کہ وہ آج کے دور کے معاندانہ ماحول میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پارٹی کی “طے کردہ” حدود سے آگے نکلنے لگے تھے۔
شاید یہی اُن کی پارٹی کا نظریاتی المیہ بھی ہے،کہ وہ ایسے انقلابی زیادہ عرصہ سیکریٹری انفارمیشن کے طور پر برداشت نہ کر سکی جو اپنی بورژوازی شناخت کے باوجود طبقاتی سچ بولنے کا حوصلہ پیدا کرچکا تھا، جو فوجی آمریت کو پراہِ راست چیلنج کر رہا تھا۔
اگرچہ رؤف حسن فیض احمد فیض جیسے انقلابی شاعروں کے مداح رہے ہیں، اور ان کی شاعری کا انگریزی ترجمہ بھی کر چکے ہیں، لیکن وہ بائیں بازو کی منظم سیاسی جدوجہد کے تجربے سے محروم رہے۔ وہ پسے ہوئے طبقات کے عملی سیاسی دھارے کا حصہ نہ بن سکے، جس کی وجہ سے ان کی سیاست زیادہ تر ایک مثالی اور اخلاقی بیانیے کی حد تک محدود رہی،ایک نرم خو، نیک نیت لیکن عملاً غیر مؤثر بائیں بازو کے ہمدرد دانشور۔ اُن کی انقلابی شاعری کی ستائش کبھی کسی انقلابی عمل میں نہ ڈھل سکی تھی، اور شاید یوں وہ ایک ہمدرد مگر حاشیے پر کھڑے کردار کے طور پر رہ جاتے۔ لیکن پی ٹی آئی کی سٹیٹ پرسیکیوشن نے انھیں انقلابی بنا دیا۔
وہ انگریزی، اردو اور پنجابی پر عبور رکھتے ہیں، جبکہ عربی اور فارسی پر بھی ان کی دسترس ہے۔ ادب، تحریر اور سفر ان کے شوق ہیں، جن کے تحت انہوں نے دنیا کے متعدد ممالک کا سفر کیا ہے۔ ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے والد، رؤف حسن پاکستان کی سیاسی بحث میں ایک خاموش مگر مضبوط موجودگی ہیں ، ایک ایسا شخص جس نے نہ صرف تاریخ بیان کی ہے، بلکہ اسے جیا بھی ہے۔ شاید ایک دن ہم ان کی تحریروں، کالموں اور فیض احمد فیض کی شاعری کے انگریزی تراجم پر مشتمل ایک کتاب دیکھیں!

