ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دہشت گردی کے خلاف زیرو برداشت پالیسی اب کسی ایک ادارے یا طبقے کی ترجیح نہیں بلکہ پاکستان کے اجتماعی مستقبل کا سوال ہے۔ پشاور میں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک صاف اور دوٹوک پیغام دیا کہ ریاست اور عوام کو کسی ایک فرد یا گروہ کی خواہش یا فیصلے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی صرف فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے چوبیس کروڑ عوام کا ہے؛ اس کا اثر معیشت، سماجی تانے بانے، عدالتی اعتبار اور قومی وقار تک پہنچ چکا ہے۔ اب فیصلہ کن وقت ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر رونے اور الزام تراشی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے متحد ہو کر آگے بڑھا جائے۔ ماضی کی غلطیاں — جن میں ملک کے تمام ادارے، سیاستدان اور عوام کے ایک اکثریت بھی کسی نہ کسی طور برابر کی شریک ہے — کو تسلیم کر کے ایک ایسی قومی حکمت عملی اپنائی جائے جو سخت، شفاف اور مؤثر ہو۔
یہ حکمتِ عملی صرف بیانات پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر مبنی ہونی چاہیے۔ سب سے پہلا قدم ایک واضح اور مضبوط قانونی فریم ورک کا قیام ہے جو آزادیٔ اظہار اور قومی سلامتی کے درمیان متوازن لکیر کھینچ سکے۔ ریاست مخالف بیانیے اور دہشت گردی کی حمایت میں کی جانے والی گفتگو یا آن لائن سرگرمیوں کے خلاف واضح قانونی اقدامات کیے جائیں۔ یہ قانون بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہو تاکہ اسے سیاسی انتقام یا شخصی آزادیوں کو دبانے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ شفاف نگرانی، عدالتی اپیل کا حق اور آزاد ماہرین کی شمولیت اس فریم ورک کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور خطرناک معلومات کا پھیلاؤ آج دہشت گردی کے ہتھیاروں جتنا خطرناک بن چکا ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ سخت اور شفاف معاہدے کیے جائیں تاکہ دہشت گردی یا ریاست مخالف مواد کی مصدقہ شناخت ہونے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ مقامی سطح پر فیکٹ چیکنگ اور ٹرینڈ مانیٹرنگ کے لیے تحقیقاتی یونٹس اور آزاد نیٹ ورکس قائم کیے جائیں جو تکنیکی طور پر مضبوط ہوں اور جنہیں ریاستی سطح پر مالی و قانونی مدد حاصل ہو۔ ساتھ ہی عوام کو شکایت درج کروانے، شواہد جمع کروانے اور حفاظتی معلومات میں حصہ لینے کا منظم راستہ دیا جائے۔ یہ جنگ تبھی جیتی جا سکتی ہے جب شہری خود اس کا حصہ بنیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ہر ہاتھ میں فون اور مائیک ہے — اور یہی طاقت افواہیں، جھوٹ اور لغو پروپیگنڈا پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہے۔ کسی بھی واقعے یا احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، جھوٹے بیانیے گھڑنا اور جذبات بھڑکانا صرف معاشرتی تقسیم ہی نہیں پیدا کرتا بلکہ دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ اس صورتحال میں ایک قومی ضابطۂ عمل ناگزیر ہو چکا ہے۔ سیاسی، عدالتی اور قومی معاملات پر وی لاگز یا عوامی گفتگو کے لیے رجسٹریشن، تربیت اور جواب دہی کا نظام متعارف کروایا جائے۔ جن افراد یا پلیٹ فارمز کا کام رائے سازی ہے، انہیں میڈیا خواندگی، فیکٹ چیکنگ اور ذمہ دارانہ اظہار کے بنیادی اصولوں کی تربیت لینا لازم ہو۔ جھوٹ پھیلانے والوں کے لیے واضح قانونی نتائج، جرمانے اور پلیٹ فارم پابندیاں ہونی چاہئیں۔ اس ضابطۂ عمل کا مقصد اظہار کو دبانا نہیں بلکہ اسے ذمہ داری کے دائرے میں لانا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی استعداد بڑھانا بھی اسی جنگ کا ایک بنیادی ستون ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں محض گرفتاریاں نہیں بلکہ مضبوط شواہد، گواہان کا تحفظ، جدید فارنزک صلاحیت اور تیز عدالتی فیصلے ہونی چاہئیں تاکہ دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایا جا سکے۔ مقدمات کو لٹکانے کے بجائے فیصلہ کن انداز میں نمٹایا جائے تاکہ قانون کی گرفت ایک عملی حقیقت بنے، نہ کہ محض ایک نعرہ۔
بیانیہ جنگ بھی اس لڑائی کا لازمی محاذ ہے۔ دہشت گرد صرف بندوق نہیں، نظریات کے ہتھیار بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ریاست کو ایک ایسا مثبت، حقیقت پسندانہ اور دلوں کو چھو لینے والا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو عوام کو متحد کرے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی لیڈرز کے ذریعے وہ بیانیہ پھیلایا جائے جو دہشت گردی کو شر، بزدلی اور ریاست دشمنی کے مترادف قرار دے۔ نوجوانوں اور بچوں کو میڈیا خواندگی اور افواہوں کو پہچاننے کی تربیت دی جائے تاکہ آئندہ نسلیں ذہنی طور پر پروپیگنڈے کے خلاف مضبوط دیوار بن سکیں۔
معاشی اور سماجی استحکام کے بغیر اس جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ بے روزگاری، تعلیمی خلا اور سماجی علیحدگی دہشت گردی کے لیے وہ زرخیز زمین فراہم کرتی ہیں جہاں انتہا پسندی پنپتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار، ہنرمندی اور کاروباری مواقع بڑھانا دہشت گردی کے بیانیے کو جڑ سے کاٹنے کے مترادف ہوگا۔ جب ریاست مواقع دے گی تو دہشت گرد تنظیموں کا اثر کمزور پڑے گا۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی۔ دہشت گردی کے نیٹ ورکس اکثر سرحد پار سے مالی، نظریاتی یا لاجسٹک مدد حاصل کرتے ہیں۔ ہمسایہ ممالک اور عالمی فورمز پر ثبوتوں کے ساتھ بات کرنا اور مضبوط سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرنا اس لڑائی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ یہ لڑائی صرف اندرونی نہیں بلکہ بیرونی محاذوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ شہریوں کی شمولیت اور مقامی سطح پر اعتماد سازی کو مرکزیت دی جائے۔ محلے اور کمیونٹی کی سطح پر رپورٹنگ میکانزم، ہاٹ لائنز اور عوامی نیٹ ورکس بنائے جائیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری دی جا سکے اور ریاستی ادارے بروقت کارروائی کر سکیں۔ شہری جب ریاستی شراکت دار بنتے ہیں تو دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ اجتماعی عزم سے ممکن ہوتا ہے۔
میڈیا اور صحافت کا کردار اس تمام حکمتِ عملی میں کلیدی ہے۔ غیر مصدقہ دعووں کو ہوا دینا ریاست مخالف بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔ ذمہ دارانہ رپورٹنگ، فیکٹ چیکنگ اور توازن میڈیا کا قومی فریضہ ہے۔ اسی طرح ریاست پر بھی لازم ہے کہ وہ شفافیت برقرار رکھے اور عوام کو درست معلومات تک رسائی دے تاکہ افواہوں کا زہر پھیل نہ سکے۔
آخر میں بات ایک جملے میں سمٹتی ہے: یہ جنگ کسی ایک ادارے یا جماعت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔ اگر ریاست، سیاستدان، میڈیا، عدلیہ اور عوام ایک سمت میں کھڑے ہو جائیں تو کوئی طاقت پاکستان کو کمزور نہیں کر سکتی۔ دہشت گردی اور پروپیگنڈے کے خلاف زیرو برداشت پالیسی محض حکومتی نعرہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ اجتماعی عزم، قومی اتحاد اور ذمہ دارانہ رویے کا نام ہونا چاہیے۔ اب فیصلہ اس بات کا ہے کہ ہم بطور قوم بکھرے رہیں گے یا متحد ہو کر اپنے مستقبل کی حفاظت کریں گے۔ یہی وہ نکتۂ آغاز ہے جہاں سے ایک مضبوط، باوقار اور پُرامن پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

