رئیل اسٹیٹ کوئی انوکھا کام نہیں ہر جگہ ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے اُس کے کرتے دھرتوں نے یہاں طاقت پکڑی اور ہر چیز پر چھا گئے ایسی مثال کسی اور ملک میں نہیں مل سکتی۔ جو بڑے ٹائیکون تھے اُن کی حیثیت ایسے بن چکی تھی کہ کوئی حکومت چاہے کس پارٹی کی ہو اُنہیں ہاتھ نہیں لگاتی تھی۔ ہر ایک کے کام وہ آتے تھے اور ہر بڑا لیڈر کسی نہ کسی حوالے سے اُن کا مرہونِ منت ہوتا تھا۔ تنقید اُن پر ہو نہیں سکتی تھی کیونکہ تقریباً میڈیا کی بھی یہی پوزیشن ہوتی تھی۔ پاکستانی تاریخ میں دو نام رہے ہیں جن کا برے حوالے سے میڈیا میں نام نہیں لیاجاسکتا تھا، ایک الطاف حسین اور دوسرے ہمارے یہ مہربان۔
الطاف حسین کے برے دن تو پہلے آ چکے ہیں، کہاں وہ زمانہ کہ اُن کی ایک آواز پر پورا کراچی بند ہو جاتا تھا۔ بھتے کی وصولی یہاں سے لندن جاتی تھی اور کیا مجال کسی کی کہ اُن کے بارے میں ایک برا لفظ بھی کسی ٹی وی چینل پر ادا ہو اور آج وہ وقت ہے کہ لندن کے کسی ہسپتال میں پڑے ہوئے ہیں اور مالی اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسرے صاحب جن کا اشارتاً ذکر ہوا ہے اُن کے بھی ایک لحاظ سے برے دن آن پڑے ہیں۔ جس ہاؤسنگ سوسائٹی پر میلی آنکھ نہیں دھری جاسکتی تھی آج شکنجے میں ہے۔ اخبارات میں اُن کے نام سے اشتہارات چھپ چکے ہیں کہ ہم پر کچھ نظرِ کرم کی جائے، اکاؤنٹ وغیرہ چلا سکیں اور تنخواہیں ادا کر سکیں۔ لیکن ایسا برا وقت آیا ہے کہ دبئی سے خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں بھی نہیں ٹھہر سکے اور شاید مالٹا جانا پڑا ہے جو کہ مصدقہ بات ابھی تک نہیں ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر کے خلاف تو کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا، ایکشن کا ٹارگٹ صرف وہ ایک شخص ہے اور یہ امر اِس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں کسی کیلئے موسم بدل جائے تو پھر ہر چیز بدل جاتی ہے، کیا حالات اور کیا تقدیر۔
یہ جن کو کوئی چھو نہیں سکتا تھا اِن کے حالات اِتنے ڈرامائی طریقے سے بدلے ہیں اس کی مصدقہ وجہ ہمارے سامنے نہیں ہے۔ لیکن شنید کی جاسکتی ہے کہ شاید اِن کے سامنے کوئی ڈیمانڈ تھی کہ کسی شخص کے خلاف ایک مخصوص مقدمے میں فلاں قسم کی گواہی دی جائے اور شاید وہ نہ مانے۔ تو اُن کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا اور آج اِتنا تنگ ہو چکا ہے کہ اُن کے قریب بندوں پر چھاپے اور گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ تفتیشیں اور مقدمات۔ ہمارے تمام محکمے آنکھ بند کریں تو اُنہیں سامنے پہاڑ دکھائی نہیں دیتا، کچھ خاص وجہ بنے اور آنکھیں کھولنی پڑیں تو پھر ہر چیز نظر آنے لگتی ہے۔ اِن صاحب کا بھی جو ٹاؤن ہے یا جو بھی ہے اُس کے پیچھے بھی اب سرکار کے تمام محکمے لگے ہوئے ہیں۔ یہ بات نہیں کہ یہ صاحب اور اُن کی ہاؤسنگ سکیم بڑے نیک لوگ ہیں اور اُنہوں نے ہیراپھیری نہیں کی۔ ہیراپھیری کی داستان لمبی ہوگی لیکن عرض صرف اِتنی ہے کہ مملکتِ خداداد میں ہیراپھیری تب ہی نظر آتی ہے جب سیاسی موسم بدلے۔ ہاؤسنگ سوسائیٹیاں اور بھی چل رہی ہیں اور اُن کے کارنامے یا کرتوت بھی شاید بالکل ایسے ہوں جیسا کہ ہمارے اِن صاحب کے۔ لیکن حالات اِنہی کے بدلے ہیں اور لہذا گھیرا اِنہی کے خلاف تنگ ہو رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اِس ملک میں اِس لحاظ سے کوئی اِتنا طاقتور کیسے بن جاتا ہے؟ عام سا کنٹریکٹر ہو اور دیکھتے ہی دیکھتے پراپرٹی کاروبار کا گارڈ فادر بن جائے۔ یہ وہاں ہی ہوسکتا ہے جہاں کے بڑے یعنی جو بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوں رشوت لینے کیلئے صرف تیار نہ ہوں بلکہ ہر لمحے بے تاب ہوں۔ یہ صاحب اِتنے پراپرٹی ڈِویلپرنہ تھے جتنا کہ پاکستانی معاشرے کے نبض شناس کیونکہ شروع دن سے سمجھ گئے تھے کہ یہاں ہر ایک کی قیمت ہے اور بیشتر بِکنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ اِنہی کا مشہور جملہ ہے کہ میں فائلوں پر پہیئے لگا دیتا تھا اور پہیئے لگانے کا ہنر وہ بخوبی جانتے تھے۔ یہ کیسا معاشرہ ہے کہ پراپرٹی کاروبار شروع کرتے وقت آپ ایک دفاعی محکمے کا نام استعمال کر لیں اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ آج تک کسی سول عدالت میں مقدمہ پڑا ہوا ہے کہ فلاں محکمے کا نام اِنہوں نے اپنی ہاؤسنگ سکیم کیلئے کیوں استعمال کیا لیکن تقریباً 30-25 سال گزرنے کے باوجود ہمارا عدالتی نظام اِس مسئلے پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکا۔ جب کاروبار شروع کیا تو جس ادارے کا نام استعمال کیا اُسی کے سربراہ سے مبینہ طور پر قریبی تعلق تھا۔ عام لوگ اِس گمان میں رہے کہ یہ پراجیکٹ شاید اُسی محکمے کا ہے لہذا پہلے دن سے ہی ایک اعتبار بیٹھ گیا اور پھر ہمارے اِن صاحب کی اپنی خداداد صلاحیتیں تھیں جن سے انکار ممکن نہیں اور جس کی وجہ سے اِن کا پراپرٹی کاروبار ایسا اُٹھا کہ اُس کی مثال ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔
ہمارے مہربان کی نفسیاتی سمجھ مزید اِتنی تھی کہ محکموں کے بڑے بڑے ریٹائرڈ افسروں کو اپنی تنخواہ پر رکھا۔ اب پورے صفحے کے اشتہار چھپیں جن میں بڑے بڑے افسروں کی شکلیں آویزاں ہوں تو عام آدمی یہی سمجھے گا کہ جہاں اور ہیراپھیری کر سکتے ہیں جہاں اتنے بڑے نام ہوں وہاں تو ہیراپھیری نہیں ہوگی۔ لہذا سوسائٹی کا اشتہار چھپتا تو لوگ فائلیں خریدنے دوڑ پڑتے اور پھر فائلیں ایک سے دوسرے ہاتھ بکنے لگتیں۔ زمین کا کسی کو پتا نہ ہوتا محض اشتہار بازی پر یہ سب کچھ چل رہا ہوتا لیکن اِسی ذریعے سے اربوں کیا کھربوں روپے اکٹھے ہوتے اور پھر اِنہی پیسوں سے ڈویلپمنٹ کا کام بھی شروع ہوجاتا۔ اِن صاحب کا یہ کمال البتہ اِن تیس سالوں میں رہا کہ پیچھے جو بھی ہیراپھیری ہو پراجیکٹ اور ٹاؤن شپ بنے، لاکھوں افراد نے فائلیں خریدیں تو جہاں شہر کے شہر بنتے گئے لوگوں کو گھر بھی ملے۔ ایسی جگہیں جہاں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اِس قسم کی ٹاؤن شپ بنیں گی وہاں شہر آباد نظر آتے ہیں۔ کمال فن کے انسان تھے لیکن ایسے نہیں تھے کہ پیسے اکٹھے کئے اور پھر غائب ہو گئے۔ وہ غائب نہیں ہوئے بلکہ پراپرٹی کے نام پر اپنا سکہ جمایا۔
سیاسی لیڈر اور دیگر بڑے لوگ (مختلف محکموں کا نام کیا لینا) بھی غرض مند رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پیسوں کی ضرورت رہتی ہے، کبھی کسی الیکشن کیلئے کبھی دیگر کسی چیز کیلئے۔ اِس لئے یہ کوئی عجوبہ نہیں کہ ہر دور میں بڑے لوگ تقریباً اِن کی جیب میں رہے۔ کیا ن لیگ، کیا پی پی پی، کیا ق لیگ اور کیا تبدیلی کی شیدائی تحریک انصاف۔ یہ صاحب ہر ایک کے قریب رہے اور ہر ایک نے کسی نہ کسی شکل میں اِن سے فائدے اٹھائے۔ ایسی اجتماعی صورتحال ہو یعنی پورا معاشرہ ایسا بگڑا ہوا ہو کہ بڑے سے بڑا لیڈر کسی نہ کسی حوالے سے اِن صاحب کے نیچے لگا ہو یعنی اِن سے فائدے اٹھائے ہوں تو پھر فائلوں کی کیا مجال ہے کہ اُنہیں پہیئے نہ لگیں؟ پنڈی اور اسلام آباد کا تو یہ عالم تھا کہ کیا محکمہ مال اور کیا محکمہ پولیس کوئی خاطر خواہ افسر اِن کی مرضی کے بغیر لگ نہیں سکتا تھا۔ اور پھر جو لگتے تھے ظاہر ہے اِن کا کام کرتے تھے۔
داستان لمبی ہے اور کالم کی جگہ تھوڑی پڑ رہی ہے۔ اِتنا ہی عرض کرنا مقصود ہے کہ یہ صاحب یہاں ہی پنپ سکتے تھے۔ وجہ کوئی بھی ہو یہ شخص نرغے میں ہیں لیکن باقی کا پراپرٹی کاروبار اور اُس سے منسلک ہیراپھیریاں تو ویسے ہی چل رہی ہیں۔ نہ الطاف حسین نہ یہ مہربان سمجھ سکے کہ کہاں رک جانا چاہیے۔

