ریاض اسمارٹ ایکسپو : پاکستان، چین اور سعودی عرب کے درمیان صنعتی تعاون میں اہم سنگِ میل

ریاض(بیورورپورٹ)سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 3 روزہ اسمارٹ ایکسپو 2025 کا شاندار افتتاح کر دیا گیا، جس میں پاکستان، چین اور سعودی عرب کے صنعتی تعلقات کو فروغ دینے کا پیغام دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں شاہی خاندان آلِ سعود کے رکن شہزادہ نہار بن عبداللہ اور شہزادہ محمد بن نہار نے شرکت کی، جبکہ پاکستانی کاروباری شخصیت ارمغان مقیم نے مہمانوں کا استقبال کیا اور نمائش کا تفصیلی دورہ کروایا۔

“تاریخی صنعتی تعاون کا مظاہرہ”
15 سے 17 نومبر تک دی ایرینا ریاض میں جاری رہنے والی یہ تین روزہ نمائش خطے کی اہم صنعتی اور آٹوموبائل نمائشوں میں سے ایک ہے، جس میں 237 سے زائد چینی نمائش کنندگان شریک ہیں۔ اس نمائش کو پاکستان، چین اور سعودی عرب کے درمیان صنعتی تعاون کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

“نمائش میں جدید ٹیکنالوجی اور شراکت داری”
افتتاحی تقریب میں پاکستانی بزنس لیڈر ارمغان مقیم نے شہزادہ نہار بن عبداللہ کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور ایجادات سے متعارف کرایا۔شہزادہ نہار بن عبداللہ نے نمائش کے شاندار انتظامات کو سراہا اور تکنیکی ترقی اور نئی مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پر خوشی کا اظہار کیا۔

“اہم کانفرنس اور صنعتی تعاون”
ایکسپو کی اہم سرگرمیوں میں چائنا-ہینان اور سعودی عرب انڈسٹریل کوآپریشن میچ میکنگ کانفرنس شامل تھی، جس کا انعقاد ہینان صوبے کے ڈیپارٹمنٹ آف انڈسٹری اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کیا۔ تینوں ممالک کے نمائندوں نے صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور تجارتی شراکت داری بڑھانے کے وعدے کیے۔

“بین الاقوامی شرکت اور مستقبل کا وژن”
افتتاحی تقریب میں متعدد بین الاقوامی شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں سی ای او گلف اویسس فا وین یانگ، سی ای او کلیور بِکسل محترمہ سارہ،آرگنائزر ذیشان ہاشمی اور اسٹیو شامل تھےجبکہ ڈائریکٹرزمیں جیلی گروپ محترم محمد اور کمرشل، شانڈونگ مس وانگ،ایورسٹ انٹرنیشنل ایکسپو پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ اور گلف اویسس ٹیم کے سینئر نمائندے تقریب کاحصہ تھے.

اسمارٹ ایکسپو 2025 مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر صنعتی ترقی، تکنیکی تبادلے اور بین الاقوامی شراکت داری کے لیے ایک متحرک اور اثر انگیز پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پاکستان کی شرکت نہ صرف صنعتی ترقی کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے بلکہ سعودی عرب اور چین کے ساتھ طویل مدتی تجارتی اور تکنیکی تعلقات کو بھی مضبوط کرتی ہے۔