ریجنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ فورس کے قیام کی تجویز

تاریخ کے اُس حصے کا ذکر کرتے ہیں جس میں قدرتی آفات کے باعث انسانی اموات کا ریکارڈ موجود ہے۔ اس اعتبار سے سائنس دانوں نے دس بڑی قدرتی آفات کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جن میں ایک کروڑ سے زائد انسان دیکھتے ہی دیکھتے لاشوں میں بدل گئے۔ یہ افسوسناک ڈیٹا پڑھنے کے بعد ایک اور لرزہ بھی طاری ہو جاتا ہے۔ ان دس بڑی مصیبتوں میں سے تین بھارت اور پاکستان میں آئیں جبکہ پانچ کا تعلق چین سے ہے۔ گویا ماڈرن ہسٹری کی آٹھ بڑی قدرتی آفات جنوبی ایشیاء اور چین میں آئیں۔ آندھرا پردیش کے ساحلی علاقے ’’کورنگا‘‘ میں 25 نومبر 1839ء کو سمندری لہریں اچانک 40 فٹ سے زیادہ بلند ہوگئیں۔

اس سمندری طوفان کو ’’انڈیا سائیکلون‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں 3لاکھ افراد دنیا سے غائب ہوگئے۔ مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں 12 نومبر 1970ء کا دن دنیا کے بدترین سائیکلون کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس خونی سائیکلون میں تقریباً 5لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ انڈونیشیا کے ساحلی علاقے سماٹرا کے سمندروں کے اندر 26 دسمبر 2004ء کو 9.3 درجے کا زلزلہ پیدا ہوا جس کے نتیجے میں تاریخ کا خوفناک ترین ’’سونامی‘‘ آیا جس نے جنوبی ایشیاء کے بہت سے ملکوں کو متاثر کیا۔ اس بے رحم سونامی نے 2لاکھ 30ہزار سے زائد انسانوں کو نگل لیا۔

چین کے شمالی حصے میں 23 جنوری 1556ء کو 8درجے کا زلزلہ آیا جس میں ساڑھے 8لاکھ لوگ مارے گئے۔ چین میں ستمبر 1887ء کو ’’زرد دریا میں سیلاب‘‘ آنے کے باعث 20لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ’’گانسو‘‘ نامی زلزلہ چین میں 16 دسمبر 1920ء کو آیا جس نے 2لاکھ 36ہزار لوگوں کو مردہ بنا دیا۔ چین میں جولائی 1931ء کو ’’سنٹرل چائنا فلڈ‘‘ نے 37لاکھ چینیوں کو ڈبو دیا یا بیماریوں سے ہلاک کردیا۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق اس سیلاب سے 25فیصد چین زیراثر آیا اور 5کروڑ سے زیادہ چینی متاثر ہوئے۔ چین 28 جولائی 1976ء کے ’’تانگ شان زلزلے‘‘ کو نہیں بھولا جس میں 2لاکھ 42ہزار چینی موت کی نیند سو گئے۔ ان کے علاوہ چند دوسری خونی قدرتی آفات کا ذکر کریں تو ان میں 31مئی 1935ء کا دن کوئٹہ والوں کے لئے قیامت بن کے نمودار ہوا۔ اس دن کے زلزلے نے کوئٹہ میں رہنے والے ہزاروں لوگوں کو قبرستان پہنچا دیا۔

پاکستان میں 8اکتوبر 2005ء کا دن آنسوئوں سے بھرا ہوا ہے جب آزاد کشمیر کے زلزلے نے ہزاروں خاندانوں کو ایک سانس میں نگل لیا۔ اس کے نتیجے میں 1لاکھ سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں جولائی 2010ء میں بدترین سیلاب آیا جس نے 2کروڑ سے زائد لوگوں کو متاثر کیا۔ بلوچستان کے ضلع آواران میں 24 ستمبر 2013ء کو 7.7درجے کا زلزلہ آیا۔ اس علاقے میں بہت کم آبادی کے باوجود 1ہزار لوگ مارے گئے جبکہ ہزاروں متاثر ہوئے۔ 25 اپریل 2015ء کو نیپال میں 8درجے کے زلزلے نے ہزاروں زندگیوں کے چراغ بجھا دیئے اور سینکڑوں مضبوط عمارتوں کو تہس نہس کردیا۔

نیپال کے اس زلزلے سے ٹھیک ایک برس پہلے 22 اپریل 2014ء کو انٹرنیشنل آن لائن میگزین foreignpolicy.com نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں لکھا گیا کہ ’’موسمی تبدیلیوں سے مستقبل میں دنیا کا ہرکونہ متاثر ہوگا جوکہ گلوبل خوشحالی اور امن کو متاثر کرے گا۔ یہ اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے لیکن ان کا سب سے زیادہ اثر جنوبی ایشیاء کے ممالک پر ہوگا جن میں افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، انڈیا، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں۔ دنیا بھر میں جو ممالک قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں پہلے نمبر پر جنوبی ایشیاء کا خطہ آتا ہے۔ ان ممالک میں قدرتی آفات کی تباہی کے باعث دنیا کی 30 فیصد معیشت متاثر ہوئی۔ آنے والے برسوں میں درجہ حرارت بڑھنے سے ان ممالک کے سمندروں میں پانی کی سطح تقریباً ایک میٹر بلند ہو جائے گی جس سے خشکی کا بہت بڑا حصہ سمندر کے نیچے چلا جائے گا‘‘۔

قدرتی آفت بتائے بغیر اچانک آتی ہے جس کا فوری سامنا کرنا امیر ترین ممالک کیلئے بھی مشکل ہوتا ہے۔ قدرتی آفات کی پیشین گوئیوں کو پڑھیں تو ڈرائونے خواب کی طرح یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنوبی ایشیاء سب سے زیادہ ان سے متاثر ہوگا۔ یہ ممالک محنت کش لوگوں کے ملک ہیں جو بڑی مشکل سے اپنا گزربسر کرتے ہیں۔ یہاں کی حکومتیں بھی غریب ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں آنے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئےبین الاقوامی امداد کی اپیل کی جاتی ہے۔ دنیا میں مختلف مقاصد کیلئے مشترکہ سیکورٹی فورس بنانے کا رواج ہے۔

اگرایک نئی تجویز پر غور کیا جائے کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک مستقبل کی قدرتی آفات سے بچنے کیلئےسارک فورم کی طرح ایک مشترکہ ’’ریجنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ فورس‘‘ بنائیں تو اس کا براہِ راست فائدہ خود ان ممالک کو ہوگا۔ یہ ممالک وسائل کی کمی کے باعث اچانک بڑی آفت سے نمٹنے کی انفرادی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ’’ریجنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ فورس‘‘ کے تحت یہ ممالک مشترکہ فنڈ، ایک دوسرے کی ٹیکنالوجی، مشترکہ ماہرین اور ایک دوسرے کی افرادی قوت کے تجربات سے فوری ریلیف کی کاروائیاں شروع کرسکیں گے۔ چین بھی جنوبی ایشیاء کے ممالک کا قریبی ہمسایہ ہے اور وہ خود بھی مستقبل کی قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ اسلئے چین کو بھی ’’ریجنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ فورس‘‘ میں شامل کرنا چاہیے کیونکہ چین کی ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور تجربات سے بے پناہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

چین کی اقتصادی راہداری سے اس خطے کی قسمت بدلنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اقتصادی راہداری کو دوسری حفاظتی تدابیر اور سیکورٹی کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات سے بچانا بھی ضروری ہوگا۔ اقتصادی راہداری رکھنے والے خطے کے غریب ملکوں کے لیے کم وسائل کی وجہ سے انفرادی حیثیت میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لہٰذا ریجنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ فورس کی ضرورت ہروقت محسوس ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں