واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو ایک جارحانہ قسم کے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، جو ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔ یہ تشخیص 16 مئی 2025 کو ان کے معمول کے طبی معائنے کے دوران کی گئی، جب ان کے پیشاب میں مسائل کی شکایت کے بعد پروسٹیٹ میں ایک گلٹی دریافت ہوئی۔ مزید معائنے سے معلوم ہوا کہ یہ کینسر “Gleason Score” میں 9 کے ساتھ درجہ بندی کیا گیا ہے، جو کہ سب سے زیادہ خطرناک سطح ہے (Grade Group 5)۔
اگرچہ یہ بیماری ناقابلِ علاج سمجھی جاتی ہے، لیکن چونکہ یہ ہارمونز پر حساس ہے، اسلئے جدید طریقۂ علاج جیسے ہارمون تھراپی، کیموتھراپی اور ریڈی ایشن تھراپی کے ذریعے اس کا مؤثر انداز میں نظم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس قسم کے کینسر کے مریضوں کی پانچ سالہ بقاء کی شرح 30 سے 40 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔
صدر بائیڈن اور ان کی اہلیہ جِل بائیڈن نے عوامی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا “کینسر ہم سب کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے آپ میں سے بہت سے لوگوں نے سیکھا ہے ہم ٹوٹے ہوئے مقامات میں سب سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ آپ کی محبت اور حمایت کیلئے شکریہ”۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بائیڈن کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔ اسی طرح، سابق صدر براک اوباما، نائب صدر کاملا ہیرس، اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی بائیڈن کیلئےنیک خواہشات کا اظہار کیا۔
صدر بائیڈن کے اس اعلان نے کینسر سے متعلق آگاہی اور تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے خاص طور پر ان کی قیادت میں شروع کیے گئے “کینسر مون شاٹ” پروگرام کے تناظر میں۔

