واشنگٹن(ایجنسیاں)سابق امریکی نائب صدر اور عراق پر حملے کے پُر زور حامی ڈک چینی 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ رائٹرز کے مطابق چینی کے خاندان نے بتایا کہ وہ نمونیا اور دل و خون کی نالیوں کی پیچیدگیوں کے باعث وفات پا گئے۔
ڈک چینی وائیومنگ کے سابق کانگریس مین اور وزیرِ دفاع رہ چکے تھے اور 2000 کی صدارتی انتخابی مہم میں جارج ڈبلیو بش کے ساتھ نائب صدر کے امیدوار کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ 2001 سے 2009 تک نائب صدر کی حیثیت سے انہوں نے صدارتی اختیارات کو بڑھانے کیلئےبھرپور کوشش کی اور ایک مضبوط قومی سلامتی ٹیم تشکیل دی۔
2003 میں عراق پر حملے کے پرزور حامی چینی نے بش انتظامیہ کے اندر اہم فیصلوں میں کردار ادا کیا۔ وہ عراق کے مبینہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کے بارے میں سخت انتباہات دینے والوں میں شامل تھے، تاہم بعد میں ایسے ہتھیار نہیں ملے۔
چینی نے دہشت گردی کے مشتبہ افراد کی تفتیش کیلئے سخت طریقوں، بشمول واٹر بورڈنگ اور نیند سے محرومی، کا دفاع کیا، جسے امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی اور اقوام متحدہ نے تشدد قرار دیا۔
ان کی بیٹی لِز چینی بھی ریپبلکن رہنما رہیں تاہم 6 جنوری 2021 کے حملے کے بعد ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دینے پر وہ اپنے عہدے سے محروم ہو گئیں۔ ڈک چینی نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار کاملا ہیرس کو ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو جمہوریت کیلئےسب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
ڈک چینی کی زندگی میں دل کی بیماریوں کا طویل عرصہ رہا، 37 سال کی عمر میں انہیں پہلا دل کا دورہ پڑا اور 2012 میں ان کا دل کا ٹرانسپلانٹ ہوا۔
عراق پر حملے کے دوران ڈک چینی اور اس وقت کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے فوجی کارروائی کے حق میں دباؤ ڈالا۔ اگرچہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں ملے، چینی اس بات پر قائم رہے کہ حملہ درست فیصلہ تھا۔
انہوں نے صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے دور میں پہلی خلیجی جنگ میں امریکی افواج کی قیادت بھی کی تھی اور تیل کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہیلیبرٹن کے سربراہ کے طور پر 35 ملین ڈالر ریٹائرمنٹ پیکج حاصل کیا۔ عراق جنگ کے دوران ہیلیبرٹن حکومت کے بڑے ٹھیکیداروں میں شامل رہی جس پر تنقید ہوتی رہی۔

