سابق بھارتی وزیراعظم کے پوتے پرجول ریونا کو زیادتی کیس میں عمر قید

نئی دہلی / کرناٹک ( بیورو رپورٹ)–بھارت کی سیاست میں ایک بڑا دھچکا، سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے پوتے اور سابق رکنِ پارلیمنٹ پرجول ریونا کو 47 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی اور ویڈیو بنانے کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ کرناٹک ہائیکورٹ نے 11 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

👩‍⚖️ عدالت کا فیصلہ اور مجرم کا ردعمل
فیصلے کے وقت پرجول ریونا عدالت میں زار و قطار روتے رہے۔ ان کی جماعت جنتا دل (سیکولر) پہلے ہی انہیں جنسی الزامات کی وجہ سے معطل کر چکی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ”مجرم نے اپنے اختیار اور اثرورسوخ کا بے جا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی عزت پامال کی، اور اسے ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دے کر خاموش رکھا۔”

متاثرہ خاتون نے بیان دیا کہ وہ 2021 سے فارم ہاؤس پر گھریلو ملازمہ تھی، جہاں کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ان واقعات کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں اور انہیں پھیلانے کی دھمکیاں دی گئیں۔متاثرہ خاتون نے عدالت میں وہ ساڑھی بطور ثبوت پیش کی جو زیادتی کے وقت پہن رکھی تھی، جس میں فارنزک تجزیے سے جرم ثابت ہوا۔

123 شواہد اور 2,000 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع ہوئی۔بنگلورو سے 3 سے 5 ہزار ویڈیوز برآمد ہوئیں، جن میں پرجول ریونا مختلف خواتین کے ساتھ زیادتی کرتا ہوا نظر آتا ہے، ان میں سے اکثر خواتین کے چہرے بھی واضح تھے۔کئی خواتین کو سرکاری ملازمت دلوانے کا لالچ بھی دیا گیا۔

پرجول ریونا ویڈیوز سامنے آنے کے بعد جرمنی فرار ہو گئے تھے۔واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔کیس کا ٹرائل 31 دسمبر 2024 کو شروع ہوا اور 14 ماہ میں فیصلہ سنا دیا گیا، جو بھارتی عدالتی نظام میں ایک تیز تر عمل سمجھا جا رہا ہے۔

بھارتی سیاست میں اس کیس نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ سماجی حلقوں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے عدالت کے فیصلے کو تاریخی اور مثالی قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ دیگر متاثرہ خواتین کو بھی مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں