ڈھاکا (ڈھاکا ٹریبیون)بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبعیت بگڑ گئی ہے اور انہیں ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں سنگین طبی پیچیدگیوں کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خالدہ ضیا کی صحت انتہائی تشویشناک ہے اور ان کے متعدد اعضا شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق 27 نومبر کو ان میں شدید لبلبے کی سوزش کی تشخیص ہوئی، جس کا علاج مسلسل جاری ہے۔ شدید انفیکشن کے باعث انہیں اینٹی بائیوٹک اور اینٹی فنگل تھراپی دی جا رہی ہے۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق ان کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں اور انہیں باقاعدہ ڈائیلاسز کی ضرورت ہے، جبکہ کئی دیگر طبی مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
میڈیکل بورڈ کے رکن پروفیسر ڈاکٹر شہاب الدین تعلقدار کے مطابق خالدہ ضیا کو سانس کی سخت قلت، خون میں آکسیجن کی کمی اور جسم میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں خطرناک اضافے جیسے مسائل لاحق ہیں۔ انہیں ہائی فلو نزل کینولا اور سپورٹ فراہم کی جا رہی تھی، تاہم حالت میں بہتری نہ آنے پر انہیں الیکٹیو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاکہ پھیپھڑوں اور دیگر اہم اعضا کو آرام مل سکے۔
مئی میں لندن سے علاج کرا کر وطن واپس آنے کے بعد سے خالدہ ضیا ایور کیئر اسپتال میں باقاعدہ طبی معائنے کروا رہی تھیں۔ ان کے اہلِ خانہ، جن میں طارق رحمن اور زبیدہ رحمن شامل ہیں، ڈاکٹرز سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی صحت کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رہتے ہیں۔
میڈیکل بورڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خالدہ ضیا کی صحت سے متعلق افواہیں نہ پھیلائیں، کیونکہ ان کی حالت انتہائی نازک ہے اور ملکی و غیر ملکی ڈاکٹرز کی مشترکہ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر ان کے علاج کا جائزہ لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ خالدہ ضیا طویل عرصے سے جگر اور گردوں کی پیچیدگیوں، دل کے مرض، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گٹھیا اور انفیکشن سمیت کئی دائمی بیماریوں کا علاج کروا رہی ہیں۔ طبی حالت بگڑنے پر 23 نومبر کو انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

