سابق وفاقی وزیر کرسٹی ڈنکن کے انتقال پر ایوانِ نمائندگان میں روب اولیفینٹ کا خراجِ عقیدت

اوٹاوا(کینیڈین پارلیمنٹ،نمائندہ خصوصی) ڈان ویلی ویسٹ سے رکنِ پارلیمنٹ روب اولیفینٹ نے ہاؤس آف کامنز میں نہایت رنجیدہ انداز میں اپنی ساتھی اور قریبی دوست، سابق وفاقی وزیر اور رکنِ پارلیمنٹ کرسٹی ڈنکن کے انتقال پر خراجِ عقیدت پیش کیا، جو دو روز قبل انتقال کر گئی تھیں۔

ایوان میں اپنے خطاب کے دوران روب اولیفینٹ نے کہا کہ کرسٹی ڈنکن ایک غیر معمولی شخصیت تھیں، جو عالمی شہرت یافتہ سائنسدان، کینیڈا کی وزیرِ سائنس اور تقریباً 17 برس تک ایٹوبیکوک نارتھ کی منتخب رکنِ پارلیمنٹ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم جو لوگ انہیں قریب سے جانتے تھے، ان کیلئے وہ صرف ایک سیاستدان یا سائنسدان نہیں بلکہ بے پناہ شفقت، ہمدردی اور عزم کی علامت تھیں۔

روب اولیفینٹ کے مطابق کرسٹی ڈنکن کمزور اور محروم طبقات کی توانا آواز تھیں اور ہر چیلنج کا سامنا غیر معمولی حوصلے اور وقار کے ساتھ کرتی تھیں۔ چاہے وہ 1918 کی فلو وبا کے راز جاننے کیلئے سائنسی مہمات کی قیادت ہو یا کینیڈا میں ’’محفوظ کھیل‘‘ (Safe Sport) کیلئےجدوجہد، کرسٹی ڈنکن ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز پر قائم رہیں۔

انہوں نے کہا کہ طویل اور کٹھن کینسر کے مرض کے باوجود کرسٹی ڈنکن نے کبھی اپنے حلقے کے عوام اور پارلیمنٹ سے وابستگی کم نہیں ہونے دی اور آخری وقت تک عوامی خدمت کا جذبہ برقرار رکھا۔

روب اولیفینٹ نے ایوان کو بتایا کہ کرسٹی ڈنکن اکثر کہا کرتی تھیں کہ ’’ہمیں وہ تبدیلی خود بننا چاہیے جو ہم دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں‘‘، اور انہوں نے یہ بات صرف کہی نہیں بلکہ عملی طور پر اپنی زندگی میں ثابت کی۔

آخر میں روب اولیفینٹ نے ڈان ویلی ویسٹ کے عوام اور ایوان کے تمام اراکین کی جانب سے مرحومہ کے اہلِ خانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا ایک شاندار ذہن اور ایک خوبصورت روح سے محروم ہو گیا ہے۔